ایک ایسا نصف کرہ جو نتائج دیتا ہے
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو
ہم کولمبیا، ایکواڈور اور پیرو کے ساتھ براہِ راست شراکت داری کر رہے ہیں تاکہ حقیقی سلامتی قائم کی جا سکے، اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے، اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے خطے کا مستقبل ہر ملک کے اپنے خودمختار اختیار میں رہے۔
ہم سلامتی کے معاملے میں اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں کیونکہ منشیات سے منسلک دہشت گرد تنظیمیں صرف منشیات کی اسمگلنگ ہی نہیں کرتیں بلکہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کو بھی ہوا دیتی ہیں، عوامی اداروں کو کرپٹ کرتی ہیں، بچوں کو بھرتی کرتی ہیں، خاندانوں کو تباہ کرتی ہیں اور دیانت دار سرمایہ کاری کو بھگا دیتی ہیں۔
ہماری حکومتیں مل کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں تاکہ ان مجرمانہ کارٹیلز کو شکست دی جا سکے جنہوں نے ہمارے نصف کرے کو طویل عرصے سے متاثر کر رکھا ہے۔ غیر قانونی ہجرت کے خاتمے نے پہلے ہی ان سے سالانہ دسیوں ارب ڈالر چھین لیے ہیں؛ منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ہمارا تعاون ان کی برائی کے لیے استعمال ہونے والے وسائل کو مزید محدود کرے گا۔
ہم خوشحالی کے معاملے میں اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں کیونکہ اقتصادی ترقی پائیدار سلامتی کے لیے ضروری حالات پیدا کرتی ہے، مجرمانہ نیٹ ورکس کے چلائے جانے والے غیر قانونی معاشی نظاموں میں شمولیت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، اور ہماری قوموں کے درمیان باہمی فائدے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
بہت عرصے سے، خطے سے باہر کے غیر ملکی ریاستی حمایت یافتہ عناصر—خصوصاً چین سے تعلق رکھنے والے—ایسے وعدوں کے ساتھ ہمارے نصف کرے میں داخل ہوتے رہے ہیں جو ان کے استحصالی طریقوں کو چھپاتے ہیں۔
ان کی شمولیت اکثر غیر شفاف معاہدوں، ناقابلِ برداشت قرضوں کے بوجھ، کارکنوں کے استحصال اور ماحولیاتی تباہی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ جب اہم قومی اثاثے کسی دوسری قوم کی ملکیت یا کنٹرول میں چلے جاتے ہیں تو ممالک اپنی تقدیر کا خود تعین کرنے کا مقدس حق کھو دیتے ہیں اور اپنی قومی خودمختاری، ڈیٹا کی رازداری اور اقتصادی آزادی کے لیے سنگین خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
امریکہ ایک واضح اور شفاف متبادل پیش کرتا ہے۔ امریکی کمپنیاں اور کاروباری رہنما براہِ راست آپ کی قومی معیشت میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، مقامی افرادی قوت کو ترقی دیتے ہیں اور اپنے اردگرد کی کمیونٹیز کی معاونت کرتے ہیں۔
ٹھوس سرمایہ کاری اور تجدید شدہ سلامتی
ٹرمپ اور ڈی لا ایسپرییلا انتظامیہ مل کر200سالہ امریکی-کولمبیائی دوستی کو نئی توانائی دے رہی ہیں تاکہ اسے ہمارے خطے میں سلامتی اور اقتصادی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر اس کے جائز مقام پر بحال کیا جا سکے۔
مبہم وعدے کرنے کے بجائے، ہماری اقتصادی شمولیت براہِ راست سرمایہ کاری پر مرکوز ہے جو روزمرہ زندگی کو بہتر بناتی ہے اور کولمبیا کے عوام کے لیے باقاعدہ روزگار پیدا کرتی ہے۔
اپنے آئندہ دوطرفہ خوشحالی مکالمے کے ذریعے ہم کولمبیا کے توانائی، لاجسٹکس اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں امریکی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو متحرک کر رہے ہیں۔
کولمبیا میں کام کرنے والی امریکی کمپنیاں فعال طور پر اعلیٰ تنخواہوں والی ملازمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں، غیر رسمی اور غیر قانونی معیشتوں کا ایک واضح اقتصادی متبادل فراہم کر رہی ہیں جن سے مجرمانہ نیٹ ورکس فائدہ اٹھاتے ہیں، اور ایل نینو سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے میں کولمبیا کی مدد کر رہی ہیں۔
ہم ان اقتصادی وسائل کو براہِ راست سلامتی کی معاونت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ تربیت، آلات اور عملی معاونت سمیت امریکی امداد، کولمبیا کے حکام کو ان علاقوں میں علاقائی کنٹرول مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے جو تاریخی طور پر ان منشیات سے منسلک دہشت گرد گروہوں کے زیرِ اثر رہے ہیں جو کولمبیا، امریکہ اور پورے خطے میں کمیونٹیز کو دہشت زدہ کرتے ہیں۔
کولمبیا میں10اگست کے تباہ کن زلزلے کے بعد، ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر27ملین ڈالر سے زیادہ کی ہنگامی امداد فراہم کی۔
مزید برآں، سرحدی سلامتی اور غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے حوالے سے کولمبیا کا نیا مؤقف علاقائی تعاون کے لیے ایک نمونہ ہے۔ ایکواڈور اور پیرو میں اب جو شراکت داریاں تشکیل پا رہی ہیں، وہ اس ماڈل پر قائم ہیں جسے کولمبیا نے دو دہائیوں کے دوران مؤثر ثابت کرنے میں مدد دی ہے۔
کارٹیلز کے خلاف براہِ راست کارروائی اور اقتصادی ترقی
ایکواڈور میں، میں صدر ڈینیئل نوبوا سے ملاقات کروں گا تاکہ بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف ہماری مشترکہ مہم کو آگے بڑھایا جا سکے۔ صدر نوبوا ان مجرمانہ تنظیموں کا مقابلہ کر رہے ہیں جو کبھی اس طرح کام کرتی تھیں جیسے انہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ اب ایسا نہیں ہے۔
گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایکواڈور کے گروہوں لاس لوبوس، لاس چونروس اور چونے کلرز کو باضابطہ طور پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں (FTOs) قرار دینے کے بعد، ہم نے ”شیلڈ آف دی امریکاز“ اور ”امریکاز کاؤنٹر کارٹیل کولیشن“ کے ذریعے اہم انٹیلی جنس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجی سطح کے تعاون کے امکانات کھول دیے ہیں۔
ہم ایکواڈور کے ساتھ اپنے دوطرفہ حوالگیِ مجرمان معاہدے کو بھی جدید بنا رہے ہیں تاکہ مفرور مجرموں کو فوری اور ناگزیر انصاف کا سامنا کرنا پڑے۔
سلامتی سے خوشحالی تک
جیسے جیسے سلامتی بہتر ہوتی ہے، امریکی تجارتی سرگرمیاں بڑھتی ہیں۔
گوگل، پالانٹیر اور اسپیس ایکس سمیت معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایکواڈور میں اپنی سرگرمیاں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ قائم کر رہی ہیں۔
یہ سرمایہ کاریاں ریاستی سلامتی یا صارفین کی رازداری پر سمجھوتے کیے بغیر ایکواڈور کے کارکنوں کے لیے تیز رفتار رابطہ، محفوظ ڈیٹا تجزیات اور ٹیکنالوجی کی ملازمتیں فراہم کرتی ہیں۔
دو صدیوں پر محیط اسٹریٹجک اقتصادی تعاون
پیرو میں، ہم نئی فوجیموری حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ اپنی200سالہ مشترکہ تاریخ کو مستقبل کی جانب لے جایا جا سکے۔
ہم بین الاقوامی اور علاقائی خطرات کے خلاف اپنے نصف کرے کو محفوظ بنانے کی کوششوں کو مربوط کر رہے ہیں اور پیرو کو، جو اب نیٹو سے باہر ایک اہم اتحادی ہے، ”شیلڈ آف دی امریکاز“ میں شامل کر رہے ہیں۔
پیرو کے ساتھ ہماری اقتصادی شراکت داری اہم اسٹریٹجک شعبوں میں اعلیٰ قدر اور شفاف سرمایہ کاری پر مبنی ہے۔
فروری2026میں اہم معدنیات سے متعلق ہماری مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن (DFC) نے براہِ راست پیرو کے کان کنی کے شعبے میں5ملین ڈالر دینے کا عہد کیا، جس سے پیرو میں ٹیکس آمدنی اور مقامی روزگار پیدا ہوا۔
یہ سرمایہ کاری ہمارے نصف کرے کے سلامتی کے مفادات کا بھی تحفظ کرتی ہے۔
ایک ایسا نصف کرہ جو نتائج دیتا ہے
ہمارے خطے کی ہر قوم کو اپنے شراکت دار منتخب کرنے کا خودمختار حق حاصل ہے۔ ہماری صرف یہ درخواست ہے کہ انتخاب دن کی روشنی میں کیا جائے، اور معاہدے کی تمام شرائط عوام کے سامنے واضح ہوں۔
جہاں ایسا نہیں ہوا، وہاں ایک واضح نمونہ سامنے آتا ہے:غیر ملکی سرکاری ملکیت والے ادارے اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں اور اپنے پیچھے قرض، نگرانی، کارکنوں کا استحصال اور کمزور خودمختاری چھوڑ جاتے ہیں۔
امریکی پیشکش بنیادی طور پر مختلف ہے۔ یہ شفاف، قابلِ اعتماد اور باہمی فائدے پر مبنی ہے۔
واضح اور قابلِ نفاذ معاہدے۔
نجی شعبے کی ایسی سرمایہ کاری جو مقامی صلاحیت پیدا کرے، حقیقی ملازمتیں پیدا کرے اور قومی آزادی کا احترام کرے۔
مصنف کے بارے میں:
مارکو روبیو نے21جنوری2025کو72ویں امریکی وزیرِ خارجہ کے طور پر حلف اٹھایا۔ وزیرِ خارجہ ایک ایسا محکمۂ خارجہ تشکیل دے رہے ہیں جو ”امریکہ فرسٹ“ کو ترجیح دیتا ہے۔
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
ماخذ: امریکی محکمۂ خارجہ
