دہشت گردی اور نفرت کے لیے کوئی گنجائش نہیں
9/11 کے25سال بعد دنیا کے لیے ایک واضح پیغام:زیرو ٹالرنس
پچیس برس قبل11ستمبر2001کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تقریباً تین ہزار انسان مارے گئے۔ لیکن9/11صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں؛ یہ دنیا کے لیے ایک مستقل انتباہ ہے کہ نفرت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کو معمول، مزاحمت یا سیاسی شکایت کے پردے میں قبول کرنا آنے والے سانحات کا راستہ ہموار کرتا ہے۔
آج9/11کی25ویں برسی پر سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ دنیا اس دن کو کتنی دیر یاد رکھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا نے اس دن سے کیا سیکھا؟
دہشت گردی کو جواز نہیں دیا جا سکتا
کسی بھی سیاسی، مذہبی، تاریخی یا علاقائی شکایت کو عام شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ دہشت گردی، دہشت گردی ہے—چاہے اس کا شکار کوئی بھی ملک، قوم، مذہب یا برادری ہو۔
دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ جب دہشت گردی کو”مزاحمت”، "ردعمل”یا”مجبوری”کے الفاظ میں نرم کیا جاتا ہے تو دہشت گرد تنظیموں کو اخلاقی اور سیاسی آکسیجن ملتی ہے۔ نفرت انگیز نظریات پھر نئی نسلوں تک پہنچتے ہیں اور تشدد ایک نئے نام کے ساتھ واپس آ جاتا ہے۔ جو افراد، تنظیمیں، اور ریاستیں حماس کی دہشت گردی کو اخلاقی جواز فراہم کرتی چلی آرہی ہیں، وہ نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی خطرات سے دوچار کررہی ہیں.
اصل جنگ نظریات کے خلاف بھی ہے
دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینا صرف فوجی کارروائی کا معاملہ نہیں۔ ان نظریات کو بھی مسترد کرنا ہوگا جو انسانوں کو مذہب، نسل، قومیت یا عقیدے کی بنیاد پر کمتر سمجھتے ہیں، نفرت کو مقدس بناتے ہیں اور قتل کو بہادری قرار دیتے ہیں۔
ریاستوں، تعلیمی اداروں، میڈیا، مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ نفرت انگیز پروپیگنڈے کو معمول نہ بننے دیں۔ اختلافِ رائے کی آزادی اپنی جگہ، مگر تشدد، دہشت گردی اور دوسروں کے خاتمے کی وکالت آزادیِ اظہار کا متبادل نہیں۔
زیرو ٹالرنس کا مطلب
زیرو ٹالرنس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اصول ایک جیسے ہوں۔ کسی گروہ کو اس لیے معاف نہ کیا جائے کہ وہ”اپنا”ہے اور کسی دوسرے کو اس لیے دہشت گرد کہا جائے کہ وہ”دوسرا”ہے۔ شہریوں کا جان بوجھ کر قتل ہر صورت میں ناقابلِ قبول ہونا چاہیے۔
9/11 کے بعد آنے والی نسل
آج لاکھوں ایسے نوجوان ہیں جن کے لیے11ستمبر2001ذاتی یاد نہیں بلکہ تاریخ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ کیا ہوا تھا؛ اسے یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ نفرت اور انتہاپسندی کس طرح معاشروں کو تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔
9/11 کے زندہ بچ جانے والے، امدادی کارکن اور متاثرہ خاندان25برس بعد بھی اس سانحے کے طبی، ذہنی اور انسانی اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دہشت گردی کا اصل نقصان حملے کے دن ختم نہیں ہوتا۔
دنیا کے لیے واضح اصول
ہمیں دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار ختم کرنا ہوں گے۔
جو عام شہریوں کو نشانہ بنائے، وہ مجرم ہے۔ جو نفرت کو فروغ دے، اسے چیلنج کیا جانا چاہیے۔ جو دہشت گردی کی مالی، سیاسی یا نظریاتی حمایت کرے، اسے جواب دہ ہونا چاہیے۔ اور جو معاشرہ نفرت کے نظریات کو معمول بنا دے، اسے اس خطرے کو سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا۔
9/11 کا اصل سبق یہ ہونا چاہیے کہ نفرت کو قبول نہیں کیا جائے گا، انتہاپسندی کو معمول نہیں بننے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے لیے کوئی جواز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
امن کی پہلی شرط واضح اخلاقی لکیر ہے:
دہشت گردی کے خلاف کوئی معذرت نہیں۔
نفرت کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں۔
انتہاپسندی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔
