• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » نائن الیون⁦:⁩اصل جنگ ابھی باقی ہے
اداریہ

نائن الیون⁦:⁩اصل جنگ ابھی باقی ہے

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 11, 2026Updated:ستمبر 12, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

اداریہ

نائن الیون⁦:⁩اصل جنگ ابھی باقی ہے

پچیس سال بعد بھی سوال وہی ہے⁦:⁩کیا دنیا نے دہشت گردی کے ڈھانچوں کو شکست دی، یا اس انتہا پسند سوچ کو بھی جو نفرت کو جنم دیتی ہے؟

گیارہ ستمبر 2001 کی صبح نے دنیا کو صرف چند عمارتوں کے ملبے تک محدود ایک سانحہ نہیں دیا تھا؛ اس نے عالمی سیاست، سلامتی، مذہبی تعلقات اور مغرب و مسلم دنیا کے درمیان مکالمے کا پورا منظرنامہ بدل دیا۔ پچیس برس بعد بھی اس سانحے کا سب سے اہم سوال زندہ ہے: کیا ہم نے صرف دہشت گردوں کو شکست دی یا اس سوچ کو بھی چیلنج کیا جو دہشت گردی کو جنم دیتی ہے؟

پچیس سال قبل 11 ستمبر 2001 کی صبح نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے دہشت گرد حملوں نے نہ صرف ہزاروں جانیں لیں بلکہ عالمی سیاست، سلامتی، مذہبی تعلقات اور مغرب و مسلم دنیا کے درمیان مکالمے کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا۔ اس سانحے کے بعد دنیا نے القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی، اسامہ بن لادن مارا گیا، دہشت گردی کے کئی نیٹ ورک تباہ ہوئے، لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے:

کیا اس انتہا پسند سوچ کا خاتمہ ہوا جس نے نائن الیون کو جنم دیا تھا؟

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق اور بارود کا نام نہیں۔ اس کی جڑیں ان نظریات میں ہوتی ہیں جو معاشرے کو آزادی، تکثیریت اور مساوی شہریت کے بجائے ایک مخصوص نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب مذہب کو روحانی اور اخلاقی رہنمائی کے بجائے ایک مکمل سیاسی منصوبے میں تبدیل کر دیا جائے تو اختلافِ رائے، خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی اور جمہوری اقدار سب خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ مذہب انسان کو اخلاق، ذمہ داری اور انصاف کا درس دے سکتا ہے، لیکن جب اسے سیاسی غلبے کا ہتھیار بنا دیا جائے تو یہی مذہبی زبان جبر کے لیے استعمال ہونے لگتی ہے۔

دہشت گردی کا مقابلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا؛ اصل معرکہ ان خیالات کے خلاف ہوتا ہے جو انسان کی آزادی کو نظریے کی بالادستی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد دنیا نے شدت پسندی کے عسکری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا، لیکن فکری میدان میں کامیابی اتنی واضح نہیں رہی۔ آج بھی مختلف معاشروں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو مذہب کی آڑ میں سیاسی غلبہ، سماجی جبر اور نظریاتی یکسانیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ان کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، ان کے نعرے مختلف ہو سکتے ہیں اور ان کے سیاسی حالات بھی مختلف ہو سکتے ہیں، مگر بنیادی سوچ ایک ہی رہتی ہے:

فرد کی آزادی سے زیادہ نظریے کی بالادستی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نائن الیون کا سبق آج بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر دہشت گردی کو صرف ایک سکیورٹی مسئلہ سمجھا جائے تو ہم اس کے ظاہری ڈھانچے کو تو توڑ سکتے ہیں، مگر اس کی فکری جڑیں باقی رہ سکتی ہیں۔ نظریاتی انتہا پسندی جب نئی زبان، نئے پلیٹ فارم اور نئے سیاسی حالات اختیار کرتی ہے تو وہ دوبارہ معاشرے میں جگہ بنا سکتی ہے۔

انتہا پسندی صرف ایک دنیا کا مسئلہ نہیں

یہ مسئلہ صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں۔ مغربی معاشروں میں بھی شناختی سیاست، انتہا پسند نظریات اور مکالمے کے بجائے خاموش کرانے کی ثقافت نے نئی تقسیمیں پیدا کی ہیں۔

جب کسی گروہ کو تنقید سے بالاتر قرار دے دیا جائے یا اختلاف کرنے والوں کو سماجی دباؤ کے ذریعے خاموش کرایا جائے تو جمہوری معاشرہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ آزاد معاشروں کی طاقت اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے میں ہے، نہ کہ مخالف آوازوں کو دبانے میں۔

جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنے مخالف کی بات سننا ناگوار گزرے۔ آزادیِ اظہار کا اصول صرف ان خیالات کے لیے نہیں جو ہمیں پسند ہوں؛ اس کی اصل ضرورت ان آوازوں کے لیے ہوتی ہے جن سے ہم اختلاف کرتے ہیں۔

نفرت کے خلاف اصول سب کے لیے ایک

اسی طرح یہود دشمنی، مذہبی تعصب اور اقلیتوں کے خلاف نفرت بھی ایک ایسی بیماری ہے جس کا مقابلہ اصولی بنیادوں پر کرنا ہوگا۔

اگر مسلمان اپنے خلاف تعصب کو مسترد کرتے ہیں تو انہیں یہود، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تعصب کے خلاف بھی اسی جرات سے کھڑا ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق کا دفاع انتخابی نہیں ہو سکتا؛ اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔

جو اصول ہم اپنے لیے مانگتے ہیں، وہی اصول دوسروں کے لیے تسلیم کرنا ہی حقیقی اخلاقی دیانت ہے۔

نفرت خواہ مذہب کے نام پر ہو، نسل کے نام پر، قومیت کے نام پر یا سیاسی شناخت کے نام پر—اس کا نتیجہ بالآخر انسان کو دوسرے انسان سے کم تر سمجھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جسے ہر مہذب معاشرے کو چیلنج کرنا چاہیے۔

پچیس سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟

پچیس سال پہلے امریکی مسلمانوں کو جس خوف کا سامنا تھا، اس وقت بہت سے یہودی اور غیر مسلم امریکی ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ یکجہتی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی سبق بھی ہے۔

آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی دوسروں کے لیے وہی اخلاقی جرات دکھانے کے لیے تیار ہیں؟

کیا ہم انتہا پسندی کی ہر شکل کو مسترد کر سکتے ہیں، خواہ وہ ہماری اپنی صفوں سے ہی کیوں نہ جنم لے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو نفرت کے بجائے تنقید برداشت کرنے، مکالمہ کرنے اور جمہوری اقدار کا احترام کرنے کی تعلیم دے رہے ہیں؟

یہ سوال آسان نہیں، کیونکہ اپنے معاشرے کی خامیوں کا اعتراف ہمیشہ دوسروں کی خامیوں کی نشاندہی کرنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن خود احتسابی کے بغیر کوئی معاشرہ انتہا پسندی کے خلاف مستقل کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

اصل جنگ دلوں اور ذہنوں میں ہے

نائن الیون کی پچیسویں برسی صرف یادِ ماضی کا موقع نہیں۔ یہ خود احتسابی کا لمحہ ہے۔ دنیا نے دہشت گردی کے خلاف بہت سی جنگیں جیتی ہیں، لیکن اصل معرکہ اب بھی دلوں اور ذہنوں میں جاری ہے۔

اگر ہم نے آزادی، رواداری، مذہبی احترام اور مساوی شہریت کے اصولوں کو مضبوط نہ کیا تو انتہا پسندی نئی شکلوں میں واپس آتی رہے گی۔ وہ شاید وہی تنظیم، وہی جھنڈا یا وہی نعرہ لے کر واپس نہ آئے، لیکن عدم برداشت، نفرت اور نظریاتی بالادستی کی شکل میں اس کی بنیادیں دوبارہ زندہ ہو سکتی ہیں۔

گیارہ ستمبر کی سب سے بڑی یادگار گرنے والی عمارتیں نہیں، بلکہ وہ سبق ہونا چاہیے جو انسانیت نے اس سانحے سے سیکھا۔

نفرت کبھی امن پیدا نہیں کرتی، اور خاموشی کبھی آزادی کی ضمانت نہیں بنتی۔ انتہا پسندی کے خلاف مستقل جدوجہد کے لیے صرف ریاستی طاقت کافی نہیں۔ اس کے لیے ایسا معاشرہ درکار ہے جہاں سوال پوچھنے کی آزادی ہو، اختلاف کی گنجائش ہو، مذہب کا احترام ہو مگر اسے جبر کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے، اور ہر شہری کو برابر سمجھا جائے۔

اخلاقی جرات، فکری دیانت اور اصولی موقف ہی وہ راستہ ہے جو ایک زیادہ محفوظ اور منصفانہ دنیا کی طرف لے جا سکتا ہے۔

پچیس سال بعد نائن الیون ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک نفرت، عدم برداشت اور نظریاتی بالادستی کے خلاف فکری اور اخلاقی مزاحمت جاری نہ رکھی جائے۔

9/11 انتہا پسندی انسانی حقوق جمہوریت خود احتسابی دہشت گردی رواداری عالمی سیاست گیارہ ستمبر مذہبی آزادی مذہبی انتہا پسندی مذہبی تعصب مساوی شہریت مسلم دنیا مغرب نائن الیون یہود دشمنی
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleچار گرہ داڑھی کی قسمت
Next Article عبداللہ عزام: 9/11 کی کم معروف کڑی
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.