نائن الیون:اصل جنگ ابھی باقی ہے
پچیس سال بعد بھی سوال وہی ہے:کیا دنیا نے دہشت گردی کے ڈھانچوں کو شکست دی، یا اس انتہا پسند سوچ کو بھی جو نفرت کو جنم دیتی ہے؟
پچیس سال قبل 11 ستمبر 2001 کی صبح نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے دہشت گرد حملوں نے نہ صرف ہزاروں جانیں لیں بلکہ عالمی سیاست، سلامتی، مذہبی تعلقات اور مغرب و مسلم دنیا کے درمیان مکالمے کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا۔ اس سانحے کے بعد دنیا نے القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی، اسامہ بن لادن مارا گیا، دہشت گردی کے کئی نیٹ ورک تباہ ہوئے، لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے:
کیا اس انتہا پسند سوچ کا خاتمہ ہوا جس نے نائن الیون کو جنم دیا تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق اور بارود کا نام نہیں۔ اس کی جڑیں ان نظریات میں ہوتی ہیں جو معاشرے کو آزادی، تکثیریت اور مساوی شہریت کے بجائے ایک مخصوص نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب مذہب کو روحانی اور اخلاقی رہنمائی کے بجائے ایک مکمل سیاسی منصوبے میں تبدیل کر دیا جائے تو اختلافِ رائے، خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی اور جمہوری اقدار سب خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ مذہب انسان کو اخلاق، ذمہ داری اور انصاف کا درس دے سکتا ہے، لیکن جب اسے سیاسی غلبے کا ہتھیار بنا دیا جائے تو یہی مذہبی زبان جبر کے لیے استعمال ہونے لگتی ہے۔
دہشت گردی کا مقابلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا؛ اصل معرکہ ان خیالات کے خلاف ہوتا ہے جو انسان کی آزادی کو نظریے کی بالادستی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔
نائن الیون کے بعد دنیا نے شدت پسندی کے عسکری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا، لیکن فکری میدان میں کامیابی اتنی واضح نہیں رہی۔ آج بھی مختلف معاشروں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو مذہب کی آڑ میں سیاسی غلبہ، سماجی جبر اور نظریاتی یکسانیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
ان کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، ان کے نعرے مختلف ہو سکتے ہیں اور ان کے سیاسی حالات بھی مختلف ہو سکتے ہیں، مگر بنیادی سوچ ایک ہی رہتی ہے:
فرد کی آزادی سے زیادہ نظریے کی بالادستی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نائن الیون کا سبق آج بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر دہشت گردی کو صرف ایک سکیورٹی مسئلہ سمجھا جائے تو ہم اس کے ظاہری ڈھانچے کو تو توڑ سکتے ہیں، مگر اس کی فکری جڑیں باقی رہ سکتی ہیں۔ نظریاتی انتہا پسندی جب نئی زبان، نئے پلیٹ فارم اور نئے سیاسی حالات اختیار کرتی ہے تو وہ دوبارہ معاشرے میں جگہ بنا سکتی ہے۔
انتہا پسندی صرف ایک دنیا کا مسئلہ نہیں
یہ مسئلہ صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں۔ مغربی معاشروں میں بھی شناختی سیاست، انتہا پسند نظریات اور مکالمے کے بجائے خاموش کرانے کی ثقافت نے نئی تقسیمیں پیدا کی ہیں۔
جب کسی گروہ کو تنقید سے بالاتر قرار دے دیا جائے یا اختلاف کرنے والوں کو سماجی دباؤ کے ذریعے خاموش کرایا جائے تو جمہوری معاشرہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ آزاد معاشروں کی طاقت اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے میں ہے، نہ کہ مخالف آوازوں کو دبانے میں۔
جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنے مخالف کی بات سننا ناگوار گزرے۔ آزادیِ اظہار کا اصول صرف ان خیالات کے لیے نہیں جو ہمیں پسند ہوں؛ اس کی اصل ضرورت ان آوازوں کے لیے ہوتی ہے جن سے ہم اختلاف کرتے ہیں۔
نفرت کے خلاف اصول سب کے لیے ایک
اسی طرح یہود دشمنی، مذہبی تعصب اور اقلیتوں کے خلاف نفرت بھی ایک ایسی بیماری ہے جس کا مقابلہ اصولی بنیادوں پر کرنا ہوگا۔
اگر مسلمان اپنے خلاف تعصب کو مسترد کرتے ہیں تو انہیں یہود، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تعصب کے خلاف بھی اسی جرات سے کھڑا ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق کا دفاع انتخابی نہیں ہو سکتا؛ اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔
جو اصول ہم اپنے لیے مانگتے ہیں، وہی اصول دوسروں کے لیے تسلیم کرنا ہی حقیقی اخلاقی دیانت ہے۔
نفرت خواہ مذہب کے نام پر ہو، نسل کے نام پر، قومیت کے نام پر یا سیاسی شناخت کے نام پر—اس کا نتیجہ بالآخر انسان کو دوسرے انسان سے کم تر سمجھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جسے ہر مہذب معاشرے کو چیلنج کرنا چاہیے۔
پچیس سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟
پچیس سال پہلے امریکی مسلمانوں کو جس خوف کا سامنا تھا، اس وقت بہت سے یہودی اور غیر مسلم امریکی ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ یکجہتی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی سبق بھی ہے۔
آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی دوسروں کے لیے وہی اخلاقی جرات دکھانے کے لیے تیار ہیں؟
کیا ہم انتہا پسندی کی ہر شکل کو مسترد کر سکتے ہیں، خواہ وہ ہماری اپنی صفوں سے ہی کیوں نہ جنم لے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو نفرت کے بجائے تنقید برداشت کرنے، مکالمہ کرنے اور جمہوری اقدار کا احترام کرنے کی تعلیم دے رہے ہیں؟
یہ سوال آسان نہیں، کیونکہ اپنے معاشرے کی خامیوں کا اعتراف ہمیشہ دوسروں کی خامیوں کی نشاندہی کرنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن خود احتسابی کے بغیر کوئی معاشرہ انتہا پسندی کے خلاف مستقل کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
اصل جنگ دلوں اور ذہنوں میں ہے
نائن الیون کی پچیسویں برسی صرف یادِ ماضی کا موقع نہیں۔ یہ خود احتسابی کا لمحہ ہے۔ دنیا نے دہشت گردی کے خلاف بہت سی جنگیں جیتی ہیں، لیکن اصل معرکہ اب بھی دلوں اور ذہنوں میں جاری ہے۔
اگر ہم نے آزادی، رواداری، مذہبی احترام اور مساوی شہریت کے اصولوں کو مضبوط نہ کیا تو انتہا پسندی نئی شکلوں میں واپس آتی رہے گی۔ وہ شاید وہی تنظیم، وہی جھنڈا یا وہی نعرہ لے کر واپس نہ آئے، لیکن عدم برداشت، نفرت اور نظریاتی بالادستی کی شکل میں اس کی بنیادیں دوبارہ زندہ ہو سکتی ہیں۔
گیارہ ستمبر کی سب سے بڑی یادگار گرنے والی عمارتیں نہیں، بلکہ وہ سبق ہونا چاہیے جو انسانیت نے اس سانحے سے سیکھا۔
نفرت کبھی امن پیدا نہیں کرتی، اور خاموشی کبھی آزادی کی ضمانت نہیں بنتی۔ انتہا پسندی کے خلاف مستقل جدوجہد کے لیے صرف ریاستی طاقت کافی نہیں۔ اس کے لیے ایسا معاشرہ درکار ہے جہاں سوال پوچھنے کی آزادی ہو، اختلاف کی گنجائش ہو، مذہب کا احترام ہو مگر اسے جبر کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے، اور ہر شہری کو برابر سمجھا جائے۔
اخلاقی جرات، فکری دیانت اور اصولی موقف ہی وہ راستہ ہے جو ایک زیادہ محفوظ اور منصفانہ دنیا کی طرف لے جا سکتا ہے۔
پچیس سال بعد نائن الیون ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک نفرت، عدم برداشت اور نظریاتی بالادستی کے خلاف فکری اور اخلاقی مزاحمت جاری نہ رکھی جائے۔
