واشنگٹن:لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا اور امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
العربیہ اور الحدث کو ایک لبنانی ذریعے نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ26جون کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر فوری عمل درآمد کا آغاز ضروری ہے تاکہ سرحدی کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق صدر جوزف عون نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں متعین ماڈل علاقے سے انخلا شروع کرے۔ انہوں نے لبنانی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے امریکی فوجی اور مالی معاونت میں اضافے پر بھی زور دیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس موقع پر کہا کہ لبنان کو کسی متبادل مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا اور موجودہ فریم ورک ہی تنازع کے حل کا بنیادی راستہ ہے۔ انہوں نے لبنانی ریاست کی خودمختاری کی بحالی، حزب اللہ کے ہتھیاروں کے خاتمے اور اس کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے صدر عون کی قیادت میں لبنانی حکومت کے اقدامات کو”جرأت مندانہ”قرار دیا۔
روبیو نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ امریکہ سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا اور لبنان میں امن، معاشی بحالی اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون بڑھائے گا۔
صدر جوزف عون کا یہ دورۂ واشنگٹن کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ سنہ2009کے بعد یہ کسی بھی لبنانی صدر کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جبکہ وہ گزشتہ دو دہائیوں میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے لبنانی صدر بھی ہیں۔
صدر عون کی منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں وہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا، حزب اللہ کے ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے اور لبنان میں ریاستی عملداری مضبوط بنانے سے متعلق منصوبہ پیش کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر اسرائیلی افواج کی موجودگی برقرار ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی فوجی موجودگی کا مقصد سرحدی علاقوں کو ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ لبنانی حکومت مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات اور اپنے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے سے متعلق حکومتی اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کے باعث لبنان کی داخلی سیاسی صورتحال بھی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر عون کا دورۂ واشنگٹن اور امریکی قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مستقبل کے سکیورٹی انتظامات اور جنوبی لبنان کی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

