واشنگٹن:امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے اپنی میزائل حملوں کی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں حساس فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کی اس کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد واشنگٹن میں یہ خدشات بھی زور پکڑ رہے ہیں کہ تہران کو روس یا چین کی جانب سے انٹیلی جنس یا تکنیکی معاونت حاصل ہو سکتی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اب ایسے جدید میزائل استعمال کر رہا ہے جو انتہائی تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہیں اور ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے انہیں روایتی دفاعی نظام کے ذریعے روکنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ حملوں میں حساس اہداف کو نشانہ بنانے کی کامیابی نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ ایران کو ہدف بندی، انٹیلی جنس یا جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں روس یا چین کی مدد حاصل ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام)کے مطابق ایران کے ایک حملے میں اردن کے موفق السلطي ایئر بیس پر دو امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک فوجی لاپتا بتایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق چار زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں انہیں فارغ کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمی فوجی دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔
یہ واقعہ اپریل کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد دشمن کی کارروائی میں ہونے والا پہلا امریکی جانی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران کے حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
حملے کے وقت امریکی اور اتحادی افواج ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا دفاعی نظام کے ذریعے مقابلہ کر رہی تھیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ماضی میں بھی اردن میں واقع اس اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بناتا رہا ہے۔
ادھر امریکی سیاسی قیادت نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ رکن جین شاہین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جین شاہین نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کو ترجیح دیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے امریکہ کے عزم میں مزید اضافہ ہوگا اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع سے شروع ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا دائرہ خلیج عرب، بحری جہازوں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم اہداف تک پھیل گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک اب تک مکمل جنگ سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ایک ایسے تصادم کا خطرہ پیدا کر رہی ہے جس پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس دوران امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کرنا شروع کر دی ہے۔ جرمنی کے اسپانگڈاہلم ایئربیس سے ایف-16لڑاکا طیارے اور برطانیہ کے لیکِن ہیتھ ایئربیس سے جدید ایف-35اسٹیلتھ طیارے مشرق وسطیٰ روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ امریکی اور اتحادی افواج کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
