• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ایران نے جدید میزائل حکمت عملی اپنا لی، امریکہ کو روس اور چین کی مدد کا شبہ
تازہ ترین

ایران نے جدید میزائل حکمت عملی اپنا لی، امریکہ کو روس اور چین کی مدد کا شبہ

ایرانی حملوں کے بعد امریکہ نے ایف-16 اور ایف-35 طیاروں کی تعیناتی شروع کر دی
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026Updated:جولائی 20, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

واشنگٹن⁦:⁩امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے اپنی میزائل حملوں کی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں حساس فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کی اس کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد واشنگٹن میں یہ خدشات بھی زور پکڑ رہے ہیں کہ تہران کو روس یا چین کی جانب سے انٹیلی جنس یا تکنیکی معاونت حاصل ہو سکتی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اب ایسے جدید میزائل استعمال کر رہا ہے جو انتہائی تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہیں اور ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے انہیں روایتی دفاعی نظام کے ذریعے روکنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ حملوں میں حساس اہداف کو نشانہ بنانے کی کامیابی نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ ایران کو ہدف بندی، انٹیلی جنس یا جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں روس یا چین کی مدد حاصل ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ⁦(⁩سینٹ کام⁦)⁩کے مطابق ایران کے ایک حملے میں اردن کے موفق السلطي ایئر بیس پر دو امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک فوجی لاپتا بتایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق چار زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں انہیں فارغ کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمی فوجی دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

یہ واقعہ اپریل کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد دشمن کی کارروائی میں ہونے والا پہلا امریکی جانی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران کے حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔

حملے کے وقت امریکی اور اتحادی افواج ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا دفاعی نظام کے ذریعے مقابلہ کر رہی تھیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ماضی میں بھی اردن میں واقع اس اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

ادھر امریکی سیاسی قیادت نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ رکن جین شاہین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جین شاہین نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کو ترجیح دیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے امریکہ کے عزم میں مزید اضافہ ہوگا اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع سے شروع ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا دائرہ خلیج عرب، بحری جہازوں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم اہداف تک پھیل گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک اب تک مکمل جنگ سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ایک ایسے تصادم کا خطرہ پیدا کر رہی ہے جس پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس دوران امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کرنا شروع کر دی ہے۔ جرمنی کے اسپانگڈاہلم ایئربیس سے ایف⁦-16⁩لڑاکا طیارے اور برطانیہ کے لیکِن ہیتھ ایئربیس سے جدید ایف⁦-35⁩اسٹیلتھ طیارے مشرق وسطیٰ روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ امریکی اور اتحادی افواج کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleلبنان اور اسرائیل کے فریم ورک معاہدے پر پیش رفت، صدر جوزف عون اور مارکو روبیو میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا پر اتفاق
Next Article امریکی حملوں کے باوجود ایران نے سفارتی رابطے جاری رکھنے کی تصدیق کر دی
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اسرائیل

اسرائیلی انتخابات میں غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات

اکتوبر 30, 2026
امریکہ

امریکہ، ایران پھر بڑی جنگ کے دہانے پر

اکتوبر 30, 2026
تازہ ترین

اسرائیلی انتخابات میں قطری فنڈنگ کے الزامات

اکتوبر 29, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.