امریکی فوجی حملوں کے باوجود ایران نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جنگ اور سفارت کاری دونوں راستوں پر بیک وقت عمل پیرا رہے گا۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اور سفارت کاری کو ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھتا بلکہ دونوں کو قومی مفادات کے حصول کے ذرائع تصور کرتا ہے۔
بقائی نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں مختلف ثالثوں کے ذریعے تہران کو متعدد پیغامات اور تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی سفارتی ادارہ مسلسل متحرک ہے، تاہم انہوں نے ان پیغامات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی نژاد امریکی خاتون کی رہائی سے متعلق سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذکورہ خاتون نہ تو قید میں تھیں اور نہ ہی ان پر جاسوسی کا کوئی الزام عائد کیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام)نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف مسلسل نویں مرحلے کے حملے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں ایرانی فوجی کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ تنصیبات اور مواصلاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم”ایکس”پر جاری بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
امریکی فوج نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی ایران پر نئے حملوں کا آغاز کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں ایرانی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے جاری رہیں گی۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق تبریز شہر میں امریکی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ جنوب مغربی ایران کے علاقوں بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا کہ کنارک میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ جنوب مشرقی شہر چابہار میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق27جون سے جاری امریکی حملوں میں اب تک کم از کم50افراد ہلاک جبکہ500سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

