اردن نے اپنی سرزمین کو نشانہ بنانے والے مبینہ ایرانی حملوں اور ایرانی حکام کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے عمان میں تعینات ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر لیا۔
اردن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور نے ایرانی سفارت کار کو شدید احتجاجی مراسلہ تھماتے ہوئے مملکت کی سرزمین پر ہونے والے مسلسل، بلاجواز اور جارحانہ حملوں کی مذمت کی۔ ساتھ ہی ایرانی سرکاری حکام کی جانب سے اردن کے خلاف دیے گئے اشتعال انگیز اور فتنہ انگیز بیانات پر بھی شدید اعتراض کیا گیا۔
اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی”پترا”کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر فواد المجالی نے کہا کہ ناظم الامور کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ایران فوری طور پر اردن کو نشانہ بنانے والے حملے بند کرے۔
انہوں نے کہا کہ اردن کی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کا تحفظ ایک ایسی”ریڈ لائن”ہے جسے کسی صورت عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ بھی فوری طور پر بند کرے۔
فواد المجالی نے کہا کہ اردن ایران کے ان حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جنہیں اس نے مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح پامالی قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اردن خلیج تعاون کونسل(جی سی سی)کے رکن ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہے اور ان ممالک کی خودمختاری، سلامتی، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اردن اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اور دستیاب اقدامات اٹھاتا رہے گا۔

