اسلام آباد:پاکستان اور کویت کے درمیان ایک ممکنہ توسیعی دفاعی معاہدے پر ابتدائی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، جن میں دفاعی تعاون کے ساتھ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مذاکرات کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
مذاکرات سے واقف پانچ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون میں توسیع خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور خطے میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ نے پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کویت، پاکستان کے ساتھ2023سے جاری محدود دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ اس تعاون میں تربیتی مشقوں کے علاوہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، مشترکہ مشقیں اور دفاعی سازوسامان سے متعلق تعاون شامل ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کویت پاکستان سے سعودی عرب کے ساتھ موجود دفاعی تعاون کی طرز پر وسیع تر شراکت داری کا خواہاں ہے، جس میں فوجی تربیت، فضائی دفاع، ڈرون اور دیگر دفاعی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر پاکستانی لڑاکا فوجیوں کی تعیناتی زیر غور نہیں اور نہ ہی ایسی کسی تجویز پر اتفاق ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ایک ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی خریداری سمیت مختلف شعبوں میں بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس کا نتیجہ مکمل دفاعی معاہدے کی صورت میں نکلے گا۔
دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی کا شعبہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کویت کے ساتھ تیل اور ایندھن کے ذخائر بڑھانے اور توانائی کے تحفظ کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ایندھن کی بانڈڈ ذخیرہ گاہ کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سرکاری سطح کے ڈیزل سپلائی معاہدے کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، جبکہ کویت پاکستان کو ایک قابل اعتماد دفاعی شراکت دار تصور کرتا ہے، جس کی بڑی فوج، دفاعی صنعت اور خطے میں دیرینہ عسکری تعاون اسے اہم حیثیت دیتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ترکی، پاکستان اور سعودی عرب بھی ایک علیحدہ سہ فریقی دفاعی تعاون کے مسودے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ بحرین نے بھی اسی نوعیت کے تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ مزید برآں اردن کی جانب سے دفاعی سازوسامان اور تربیتی تعاون کے امکانات پر بھی دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔
دفاعی اور تزویراتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے معاہدے پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی مواقع پیدا کر سکتے ہیں، تاہم اسلام آباد کو کسی بھی نئے دفاعی انتظام میں شامل ہونے سے قبل علاقائی توازن، سفارتی ذمہ داریوں اور ممکنہ خطرات کا محتاط جائزہ لینا ہوگا تاکہ مستقبل میں غیر ضروری علاقائی تنازعات کا حصہ بننے سے بچا جا سکے۔
