کینیڈا کی آبنائے ہرمز میں ایران کی دھمکیوں کی مذمت
ایٹمی سرگرمیوں اور پراکسی گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ

کینیڈا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو دھمکانے، جوہری سرگرمیوں اور خطے میں پراکسی گروہوں کی حمایت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اوٹاوا: کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند اور وزیر خزانہ فرانکوئس فلپ شامپین نے مشترکہ بیان میں مشرق وسطیٰ میں ایران کے مبینہ عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو یہ سرگرمیاں فوری طور پر روک دینی چاہئیں۔
6 ستمبر2026کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں دونوں وزرا نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایران کی مسلسل دھمکیاں، مبینہ غیر قانونی جوہری سرگرمیاں اور خطے میں پراکسی گروہوں کی حمایت ’’عالمی امن اور سلامتی کو بدستور نقصان پہنچا رہی ہیں‘‘۔
کینیڈا کا مؤقف
اوٹاوا کے مطابق ایران کی آبنائے ہرمز سے متعلق دھمکیاں، جوہری سرگرمیاں اور علاقائی پراکسی گروہوں کی حمایت عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور انہیں ختم ہونا چاہیے۔
جی سیون کے ساتھ دباؤ برقرار رکھنے کا فیصلہ
انیتا آنند اور فرانکوئس فلپ شامپین نے کہا کہ کینیڈا اپنے شراکت داروں، خصوصاً جی سیون (G7) کے اندر، ایران پر نمایاں دباؤ برقرار رکھنے کے لیے قریبی تعاون کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق کینیڈا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا، فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں جاری کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کی پابندیوں کی حمایت
کینیڈا نے ایران پر جاری پابندیوں کے ساتھ ساتھ ان اقدامات کی بھی حمایت کا اظہار کیا ہے جو امریکی قیادت میں ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے تحت کیے گئے ہیں۔
مشترکہ بیان کے مطابق کینیڈا ایران کی جانب سے دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی معاونت کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوششوں کی بھی حمایت کر رہا ہے۔
کینیڈا کی پابندیوں کا ریکارڈ
بیان کے مطابق2010سے اب تک کینیڈا نے 492 ایرانی افراد اور اداروں کو ’’اسپیشل اکنامک میژرز ایکٹ‘‘ اور ’’جسٹس فار وکٹمز آف کرپٹ فارن آفیشلز ایکٹ‘‘ کے تحت پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔
مزید اقدامات کا عندیہ
اوٹاوا نے کہا ہے کہ وہ خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مزید اقدامات کرے گا۔ کینیڈا نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے اور تہران کو اس کے بقول ’’نقصان دہ رویے‘‘ کے خاتمے پر آمادہ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے مشترکہ بیان کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا، جس کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ اوٹاوا ایران کی مذکورہ سرگرمیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
خطے کی صورتحال
کینیڈا کا تازہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی سلامتی، ایران کی جوہری سرگرمیوں، پابندیوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔
