تھائی لینڈ نے فرانسیسی زو مالک کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا
ساموئی ایکزوٹک پارک کے کیون ڈیمینو پر دھمکیوں، ہراسانی اور نسلی و مذہبی کشیدگی بھڑکانے کے الزامات
تھائی لینڈ نے فرانسیسی شہری کیون ڈیمینو کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا ہے، جنہیں کوہ ساموئی کے ساموئی ایکزوٹک پارک کا شریک مالک بتایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق ان کے طرزِ عمل میں دھمکیاں، ہراسانی، جسمانی بدسلوکی اور سیاحوں کے درمیان نسلی و مذہبی تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔
بنکاک: تھائی حکام نے ساموئی ایکزوٹک پارک کے شریک مالک فرانسیسی شہری کیون ڈیمینو کے خلاف ملک بدری کا حکم جاری کردیا ہے۔ مختلف رپورٹس میں ان کا نام Kevin Dimon یا اس سے ملتی جلتی صورتوں میں بھی درج کیا گیا ہے۔
یہ کارروائی ایک ایسے تنازع کے بعد سامنے آئی ہے جس میں پارک انتظامیہ، اسرائیلی سیاحوں اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی دھمکیوں کے حوالے سے کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس سے چند روز قبل اسرائیلی شہری یعقوب(جیکب)اوہائیون کے خلاف بھی اسی تنازع سے متعلق ملک بدری کا حکم جاری کیا گیا تھا۔
حکام کا مؤقف
تھائی حکام کے مطابق ڈیمینو کے بعض اقدامات عوامی نظم، اچھے اخلاق اور عوامی مفاد کے منافی تھے اور ان سے سیاحوں کے درمیان نسلی اور مذہبی تقسیم کو ہوا مل سکتی تھی۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
کیون ڈیمینو اور ان کی تھائی اہلیہ جندارات سٹایاپن ساموئی ایکزوٹک پارک چلاتے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض اسرائیلی سیاحوں کے مبینہ رویے، جن میں پارک کے قواعد کی خلاف ورزی اور ادائیگی نہ کرنے سے متعلق دعوے شامل تھے، کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
اس کے بعد ڈیمینو نے فلسطینی پرچم اور ایسے اعلانات یا پالیسیاں نمایاں کیں جن کے تحت اسرائیلی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان اقدامات کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں امتیازی قرار دیا گیا۔
ویڈیو تنازع
اسرائیلی خاندان کے ساتھ ڈیمینو کی ایک جھڑپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بعد ازاں آن لائن دھمکیوں اور شدید ردعمل کے جواب میں ڈیمینو کی جانب سے دیے گئے بعض بیانات کو متعدد ذرائع نے کھلے عام یہود مخالف قرار دیا۔
اسرائیلی شہری کے خلاف بھی کارروائی
اسی تنازع میں اسرائیلی شہری یعقوب(جیکب)اوہائیون پر مبینہ دھمکیاں دینے اور منفی آن لائن جائزے منظم کرنے کے الزامات عائد ہوئے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان پر تھائی پارک کے مالک کی جان کو خطرے سے متعلق دھمکی دینے کا الزام بھی تھا۔
کوہ ساموئی کی ایک عدالت نے اوہائیون کو خوف پیدا کرنے والی دھمکیوں سے متعلق قانونی دفعات کے تحت مجرم قرار دیا۔ انہیں مختصر مدت کی معطل قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ یہ مقدمہ تھائی لینڈ کے غیر ملکیوں سے متعلق مزید سخت کیے گئے ملک بدری کے قواعد کے تحت ابتدائی نمایاں معاملات میں شمار کیا گیا۔
فرانس میں آتش زنی کا الگ واقعہ
اس تنازع کے ساتھ ساتھ فرانس میں ایک الگ واقعہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانس کے لیون/ویلوربان علاقے میں ڈیمینو کی والدہ سے منسوب ایک جائیداد پر آتش گیر مواد یا مولوتوف کاک ٹیل سے حملہ کیا گیا۔ فرانسیسی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
اس واقعے اور تھائی لینڈ میں جاری تنازع کے درمیان تعلق کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا، تاہم دونوں واقعات نے معاملے کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
ملک بدری کا حکم کس نے دیا؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق تھائی وزیراعظم اور وزیر داخلہ اناتین چارنویراکول نے تقریباً7ستمبر2026کو ڈیمینو کے خلاف ملک بدری کے حکم پر دستخط کیے۔ حکام نے مبینہ دھمکی آمیز، ہراساں کرنے والے اور جسمانی بدسلوکی پر مبنی رویے کو عوامی نظم و نسق اور عوامی مفاد کے منافی قرار دیا۔
ڈیمینو کو سڑک اور گاڑی سے متعلق قوانین کے ایک معاملے میں مقامی جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا کہ ملک بدری کے حکم کے بعد امیگریشن حکام انہیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اپیل کا حق
دونوں ملک بدری کے احکامات کے خلاف عمومی طور پر سات دن کے اندر اپیل کی جاسکتی ہے۔
تھائی لینڈ کا سخت پیغام
تھائی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں اور رہائشیوں کو مقامی قوانین اور روایات کا احترام کرنا ہوگا۔ حکام نے ایسے رویوں کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر زور دیا ہے جو عوامی نظم و نسق کو متاثر کریں یا معاشرے میں تقسیم پیدا کریں۔
اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی شہریوں پر پابندی، ڈیمینو سے منسوب یہود مخالف بیانات، دونوں جانب سے سامنے آنے والی دھمکیوں اور تشدد کے دعووں، فرانس میں آتش زنی کے واقعے اور غیر ملکیوں کے حوالے سے تھائی لینڈ کی سخت ہوتی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
معاملہ ابھی زیرِ تکمیل
کیون ڈیمینو کے خلاف ملک بدری اور اس تنازع سے متعلق دیگر قانونی معاملات کی مزید تفصیلات سرکاری بیانات اور عدالتی ریکارڈ کے ذریعے سامنے آنے کا امکان ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق کئی اہم دعووں کی حتمی قانونی حیثیت ابھی واضح نہیں ہوئی۔
