لبنان کے شیعہ اور حزب اللہ:ایک تباہ کن انتخاب
لبنان میں ریاستی خودمختاری، حزب اللہ کے ہتھیار اور جنوبی لبنان میں جاری تباہی کے تناظر میں ایک تلخ سیاسی حقیقت
"`
عربی علاقائی میڈیا ہب میں سابق علاقائی میڈیا مشیر رہ چکی ہیں اور حکومتی
و نجی شعبوں میں اسٹریٹجک ابلاغ کے وسیع تجربے کی حامل ہیں۔
"`
لبنانی ریاست حزب اللہ کو نہ بچا سکتی ہے اور نہ کبھی بچا سکے گی، کیونکہ وقت، زمینی حقائق اور بین الاقوامی حالات اس آپشن سے آگے نکل چکے ہیں۔ لیکن اگر وہ چاہے تو لبنانی شیعوں کو بچا سکتی ہے اور وطن میں ان کے حقیقی شراکت دار کی حیثیت سے تسلسل کو یقینی بنا سکتی ہے، نہ کہ انہیں کسی بیرونی منصوبے کے لیے ایندھن بننے دے۔
اس ماحول کے لیے اب واحد راستہ یہی رہ گیا ہے کہ قانونی جواز اور ریاستی خودمختاری کے اصول کی طرف واپس آیا جائے:ایک فوج، ایک فیصلہ سازی اور اسلحہ صرف جائز ریاست کے ہاتھ میں۔ اس کے سوا ہر راستہ مزید ملبے، مزید ہلاکتوں اور مزید بے دخلی کی طرف لے جائے گا، یہاں تک کہ جنوب میں دفاع کے قابل کچھ باقی ہی نہ رہے۔
اتوار کی صبح سویرے نبطیہ الفوقا کا گندور ہسپتال بمباری کا نشانہ بنا۔ یہ ہسپتال کئی برس قبل اپنی سرگرمیاں بند کر چکا تھا اور تباہی کا ایک خاموش گواہ بن چکا تھا۔ قریب ہی عرب سلیم میں اسرائیلی فوج نے ایک گھر کو مسمار کرنے سے پہلے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ دی۔ اس کارروائی میں بسیمہ حیدر حسن اور اسراء بہجہ جاں بحق جبکہ چھ دیگر افراد زخمی ہوئے۔
کفرا رومّان اور دیر الزہرانی میں درجنوں خاندانوں نے فوری انخلا کے احکامات کے بعد رات کی تاریکی میں اپنے گھر چھوڑ دیے، جبکہ ایک رہائشی عمارت کے ملبے تلے دو شیر خوار بچوں سمیت نو افراد جان سے گئے۔ یہ صرف ایک رات کا منظر ہے، اس جنگ کا جو2مارچ سے جاری ہے اور جس میں3,800سے زیادہ افراد ہلاک، تقریباً12,000زخمی اور اپنے عروج پر دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ معاشی نقصانات20ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔
آج جنوبی لبنان صرف بمباری کا نشانہ نہیں بن رہا بلکہ اسے مٹایا جا رہا ہے۔ دیہات مسمار کیے جا رہے ہیں، بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا جا رہا ہے، کھیت جلائے جا رہے ہیں اور کھلے عام جاری کیے گئے فوجی احکامات کے ذریعے پورے کے پورے شہر اپنے باشندوں سے خالی کرائے جا رہے ہیں۔
ایک بڑی علاقائی شکست کا سایہ
لبنان کی شیعہ برادری آج جس ’’آزاد گراوٹ‘‘ کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس بڑی گراوٹ کا تسلسل ہے جس سے خود ایران گزر رہا ہے۔ ملاّؤں کی حکومت معاشی زوال اور علاقائی محاصرے کا شکار ہے اور اپنے وجودی بحران کو اپنے پراکسی گروہوں، بالخصوص حزب اللہ، کے ذریعے باہر منتقل کر رہی ہے۔
جنوب اس لیے نہیں جل رہا کہ اسرائیل نے اچانک ایسا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہی ہے اور لبنانی ریاست کو اپنی خودمختاری اور پورے ملک میں فیصلہ سازی کا اختیار واپس لینے کی اجازت نہیں دے رہی۔
آج جنوبی لبنان کے عوام جس قبضے اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، وہ حزب اللہ کے اس انتخاب کا براہِ راست نتیجہ ہے کہ وہ ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ بن کر رہنا چاہتی ہے؛ قانون سے باہر مسلح رہنا چاہتی ہے اور بیروت کے بجائے تہران کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے۔ اس کی قیمت لبنانی عوام، بالخصوص لبنان کے شیعہ، ادا کر رہے ہیں، حالانکہ جس فیصلے کی انہیں یہ قیمت چکانی پڑ رہی ہے، اس میں ان کی کوئی حقیقی شرکت نہیں۔
نبیہ بری کی سیاست اور ایک تلخ سوال
اس تباہی کے درمیان پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ’’جنوب، اس کے عوام اور ان کی املاک کو خون سے بھرا ہوا انتخابی صندوق‘‘ بناتا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے انتخابات میں امیدوار اس بات کی جنگ لڑ رہے ہیں کہ کون زیادہ قتل اور تباہی کر سکتا ہے۔
اسرائیلی فوجی مشینری کی سفاکیت کو بیان کرنے میں اس بیان میں کچھ سچائی ضرور ہے، لیکن یہ بیان جان بوجھ کر ایک کہیں زیادہ تکلیف دہ حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے:وہ کون تھا جس نے کئی دہائیوں تک حزب اللہ کے اسلحے اور ریاستی اداروں میں اس کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو سیاسی تحفظ فراہم کیا؟
کس نے لبنانی فوج کو حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد سے روکا، جبکہ عدلیہ اور سکیورٹی اداروں میں طاقت کے مراکز پر اپنا اثر برقرار رکھا؟ کس نے جنوب کو بیروت کے بجائے تہران کے فیصلوں کا تابع بنانے میں سہولت فراہم کی؟
بری، جنہیں صدر عون نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ’’جنوب کا بیٹا‘‘ قرار دے کر متعارف کرایا تھا، وہی سیاسی پردہ ہیں جس نے حزب اللہ کو لبنان اور بالخصوص اس کی شیعہ برادری کو مسلسل جنگوں میں گھسیٹنے کی اجازت دی۔
آج ’’خون سے داغ دار انتخابی صندوق‘‘ پر ان کا نوحہ، جبکہ ایران کی جانب سے کئی دہائیوں سے لبنانی فیصلہ سازی پر قائم اثر و رسوخ کے بارے میں خاموشی اختیار کی جاتی ہے، ایسی سیاسی منافقت ہے جو اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔
ایک عہد کے اختتام کی طرف؟
صورتحال اس لیے مزید سنگین ہے کہ بری اور حزب اللہ ایک ایسے عہد کے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے گرد بے مثال خونریزی کا منظر موجود ہے۔ یہ خونریزی ان کی کئی دہائیوں پر محیط پالیسیوں کی شاید سب سے سفاک عکاسی ہے۔
آج جو اختتام سامنے آ رہا ہے وہ محض اتفاق یا تقدیر کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں میں کیے گئے فیصلوں کا فطری عکس ہے:داخلی جنگوں سے لے کر قتل و غارت، لبنان کے عرب ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی تباہی، اور ملک کو بار بار ایسی جنگوں میں دھکیلنے تک جو اس کی اپنی جنگیں نہیں تھیں۔
یہ بات خوفناک ضرور ہے کہ اس جوڑی کا عہد آج جنوبی لبنان کو اپنی لپیٹ میں لینے والی خونریزی میں ختم ہو، اور اگر ان کی جنونیت جاری رہی تو بظاہر بیروت اور وادیٔ بقاع بھی اس کی زد میں آ جائیں۔ ایران کے پراکسی گروہوں نے پہلے ہی متعدد عرب دارالحکومتوں کو متاثر کیا ہے۔
لبنانیوں اور عربوں کی قیمت پر طے پانے والے اس طویل اور خوفناک سفر کے لیے یہ ایک نہایت ہولناک اختتام ہے۔
اصل سوال:لبنان کے شیعہ کب تک یرغمال رہیں گے؟
اب وہ سوال واضح الفاظ میں پوچھنا ہوگا جس سے مزید فرار ممکن نہیں:پوری شیعہ برادری کب تک ایسے منصوبے کی یرغمال بنی رہے گی جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں؟
حزب اللہ کو اس بات کی پروا نہیں کہ پورا جنوب جل کر راکھ ہو جائے۔ تمام اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ دریائے لیتانی پر رکنے والی نہیں۔ وادیٔ بقاع، بعلبک اور بیروت بھی انتظار کی فہرست میں ہیں، اور یہ سلسلہ اس وقت تک رکنے کا امکان نہیں جب تک حزب اللہ کو ختم یا غیر مسلح نہ کر دیا جائے۔
ایرانی حکومت اپنی تنہائی اور داخلی بحرانوں کے بوجھ تلے دب رہی ہے، اور خطے میں اس کی بنیادی پراکسی حزب اللہ بھی اپنے پورے حمایتی ڈھانچے سمیت گرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ صرف اکیلے گرنا نہیں چاہتی۔
ریاست کے پاس اب بھی ایک راستہ ہے
"`
لبنانی ریاست حزب اللہ کو نہ بچا سکتی ہے اور نہ بچائے گی؛ یہ ایسا راستہ ہے جسے وقت، زمینی حقائق اور بین الاقوامی حالات نے متروک کر دیا ہے۔ تاہم اگر وہ چاہے تو لبنانی شیعوں کو بچا سکتی ہے اور وطن میں ان کی حیثیت حقیقی شراکت داروں کے طور پر برقرار رکھ سکتی ہے، نہ کہ انہیں کسی غیر ملکی منصوبے کے لیے ایندھن بننے دے۔
"`
اس برادری کے لیے اب واحد باقی رہ جانے والا راستہ قانونی جواز اور ریاستی خودمختاری کے اصول کی طرف واپسی ہے: ایک فوج، ایک فیصلہ سازی کا اختیار اور اسلحہ صرف جائز ریاست کے ہاتھ میں۔
اس کے علاوہ ہر راستہ مزید ملبے، مزید ہلاکتوں اور مزید بے گھری کی طرف لے جائے گا، یہاں تک کہ جنوبی لبنان میں دفاع کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
