فضائی دہشتگردی، جو ٹل گئی تجدید عہد وفا ثابت ہوئی
تحریر: حسن مجتبیٰ
فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب بین گورین انٹرنیشنل ایئر پورٹ جانے والی پرواز اور اس کے مسافروں اور ایک لیڈر پائلٹ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، ایک ساتھ لرزہ خیز، افسوسناک لیکن اس کا ڈراپ سین بہت ہی دلیرانہ، قابل فخر اور حوصلہ مند ہے۔
فلائی دبئی کی پرواز کے پائلٹ پر اومانی نژاد(ساتھی(اسے ساتھی کہنا اب ساتھی لفظ ہی کی توہین ہے)پائلٹ کا چاقو سے حملہ اور حملے کی زد میں آئے ہوئے پائلٹ کا بڑے حوصلے اور حاضر جوابی سے اپنا اور اپنی پرواز پر مسافروں کی زندگیوں کا دفاع اس طرح کہ سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے والے طیارے کو باوجود سعودی سرزمین کے تبوک ایئر پورٹ پر با سلامت تمام مسافروں کو بغیر کسی گزند اتار دینا ایک بہت ہی انہونی کو ہونی میں بدل دینے والی بات ہے۔
سب سے بڑی بات اس وقوعے کو کسی بھی حادثے یا سانحے سے بچانے والا ہیرو جانیوالے حیون بھی ہے جو اس پرواز پر سفر کر رہا تھا اور اس نے طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئر پورٹ پر اتارا جب اس نے ساتھی مسافروں کی مدد سے حملہ آور اومانی کے پائلٹ کو دبوچ کر کنٹرول سسٹم سے دور لے جاکر قابو پا لیا-یہ تمام غیر معمولی انتہائی بہادرانہ اقدام ہیں۔
انسانیت کے ان جانبازوں، پائلٹ سمیت، اسرائیلی پلمبر حیون، ڈینٹسٹ ماویس اور اس تمام عملے اور مسافروں کو ہمارا سلام جنہوں نے ابراہیمی اقوام کے تواریخ میں ایک نئے صفحے کا اضافہ کیا۔ شولوم ان پر۔
تصور کریں کہ اگر یہ چاقو زن عمانی پائلٹ اگر اپنے حملے میں کامیاب ہوجاتا تو دنیا میں ایک اور جہنم کھل جاتا۔ اولاد ابراہیم اور دیگر بنی نوع انسان پر ایک اور جنگ و دہشت مسلط ہونے کے امکانی خطرے کو نظر نیاز نہیں کیا جا سکتا۔ شکر ہے کہ اس اسرائیلی پلمبر اور ڈینٹسٹ نے نہ صرف فلائی دبئی کی اس پرواز کی اس رفتار اور منزل کا پانسہ پلٹ دیا بلکہ دنیا کو اب بھی رہنے کی جگہ رہنے دیا۔۔
لیکن یہ محض فضا میں ایک معرکہ نہیں بلکہ تاریخ کے کئی پرت کھلتے جاتے ہیں۔ ایک نئی تاریخ رقم بھی ہو رہی ہے۔ اسرائیل عازم سفر مسافروں کو سعودی سرزمین پر بحفاظت و سلامت لینڈنگ کروانا ایک بار پھر اولاد ابراہیمی کے حوصلے اور ریسلیئنس کی تجدید کرتا ہے۔ ہم اسے تجدید عہد وفا کہیں گے۔
ماضی بعید کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کے فضاؤں میں دہشتناکی کے قصے تل ابیب سے طرابلس تک، اور کابل سے ہوانا ہمیشہ بے گناہوں کی بہت بڑی خونریزیوں پر منتج ہوئے ہیں۔
لیکن آپ ایک معاہدہ ابراہیمی پر پابند ملک یو اے ای سے اڑ کر دوسرے ابراہیمی اکارڈ کے کاربند جسے ہم وعدہ کی ہوئی سرزمین کہتے ہیں کو عازم مسافروں کے لیے یہ کیسی آگ جو جلائے نہ جلی پر گلستان بن گئی کہ حیون انسان کے روپ میں فضاؤں میں ابر باراں بن کر آیا۔ سترہ ہزار فٹ کے فضائی بلندی سے ناک کی سیدھی قلابازی کھاتے طیارے کو مقدس سرزمین حجاز کے ایئرپورٹ تبوک پر اتارنا اس عہد کی از سر نو تجدید کرتا ہے جہاں چیونٹی کی جان لینا بھی گناہ تصور کیا گیا ہے۔

