گراؤنڈ زیرو:گیارہ ستمبر کی یاد میں

بچے کے واکر، پانی کی پلاسٹک کی بوتل اور اپنے پاؤں سے اتار کر رکھی ہوئی چپلوں کے ساتھ وہ کئی منزلہ عمارت کے سائے میں فرش پر ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کی آنکھیں یہیں کہیں زمین میں کوئی گمشدہ چیز ڈھونڈ رہی ہوں۔
زمین تھی نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گراؤنڈ زیرو کی اور یہ لوگ تھے گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملے میں مارے جانے والے چوبیس سالہ کرن کمار ریڈی کے ماں باپ، جو ہر سال گیارہ ستمبر کو بھارت کی ریاست آندھرا پردیش سے امریکہ آتے ہیں۔
یہ کوئی شاعرانہ بات نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ کل نیویارک میں جتنی زور کی بارش برسی تھی، اتنی ہی اس جگہ کئی ہزار لوگوں کی آنکھیں بھی برسی تھیں۔
’’ریسٹ روم، باتھ روم کہاں ہے؟‘‘ اس باپ نے مشرقی ایشیائی نقوش والی ایک پولیس اہلکار سے پوچھا، جو اپنی لمبی برساتی میں نیویارک کی نہیں بلکہ چین کی پولیس والی لگ رہی تھی۔
’’کیا اگر میں یہاں سے پھر کر باہر نکل جاؤں تو کیا دوبارہ واپس آ سکتا ہوں؟‘‘ اس نے بڑی سادگی سے پوچھا۔
وہ اسی کئی منزلہ عمارت کے سائے سے نکل کر اسٹار بکس کافی شاپ کے ریسٹ روم میں جانے سے پہلے سگریٹ سلگانے کھڑا ہوا تو میں جا کر اس سے ملا۔
’’چودہ اگست دو ہزار ایک کو اسے نوکری ملی تھی کہ گیارہ ستمبر ہو گیا،‘‘ اس نے اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا۔
’’وہ میرا ایک ہی بیٹا تھا۔ میں کیا بتاؤں۔ یہ نقصان کبھی بھرنے کا تھوڑا ہی ہے۔‘‘
سبھا ریڈی بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع کرابا سے اپنی بیوی کے ساتھ ہر سال اپنے بیٹے سمیت گیارہ ستمبر کو ہلاک ہونے والوں کی یاد اور غم منانے کے لیے امریکہ آتے ہیں۔
سبھا ریڈی کی بیٹی دیپا اپنے شوہر نریندر گوپو کے ساتھ ہیوسٹن سے آئی تھی۔
’’آپ نہیں جانتے کہ میرا بھائی کتنی جلدی دوست بنا لیتا تھا۔‘‘
پھر اس نے اپنی تصویر کھینچنے سے منع کر دیا۔
’’میرا بھتیجا بھی اسی جگہ مارا گیا تھا۔ لیکن یہ جو جولیانی، سابق میئر نیویارک رڈی جولیانی، آج اس جگہ موجود ہے، وہ اصل میں گیارہ ستمبر میں مارے جانے والوں پر اپنا سیاسی نفع کمانے نکلا ہے،‘‘ ایک لینس کوری نامی روتے ہوئے شخص نے کہا جو ایک پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھا۔
بارش، بیماری اور گراؤنڈ زیرو کا غم
آج سورج نہیں چمک رہا۔ بارش برس رہی ہے۔ جب اس جگہ بارش برسے اور ٹھنڈ ہو تو جس شخص کو کھانستے ہوئے دیکھو، سمجھو وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے آس پاس کا رہنے والا ہے، جو سانس اور طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہے۔
’’حکومت کو جنگ پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے اپنے لوگوں پر پیسے خرچ کرنے چاہئیں،‘‘ ایک خاتون کہہ رہی تھیں جنہوں نے بتایا کہ وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ساتھ سڑک کے اس پار رہتی تھیں۔ ان کا نام جانس کولاڈو تھا۔
انہوں نے کہا، ’’آج کا دن بڑا غم انگیز دن ہے لیکن میں خوش بھی ہوں ان بیالیس ہزار لوگوں کے لیے جو اس دن بچا لیے گئے تھے۔‘‘
گیارہ ستمبر کے حملے کی صبح جانس کولاڈو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سامنے والی سڑک کے اس پار ایک عمارت میں رہ رہی تھیں اور بھگدڑ میں زخمی ہوئی تھیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں آج تک اس شخص کو ڈھونڈ رہی ہوں جس نے میری جان بچائی تھی۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس نے کئی لوگوں کی جان بچائی ہوگی۔‘‘
جانس کولاڈو کا جواب تھا: ’’نہیں۔‘‘
گراؤنڈ زیرو میں کئی ٹن پھولوں کے درمیان بارش، ہوا اور غم ناک موسیقی میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں مارے جانے والوں کے نام پکارے جا رہے تھے:
خالد ایم شاہد
ندیم رحیم حسن
ہر قوم، ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگ۔ ان میں پاکستانی اور ہندوستانی بھی تھے۔
ایک جوان سال تارک وطن لاطینی امریکی کڑیل جوان، ولڈر الفریڈ کومیز، کی تصویر اس کی بوڑھی ماں لوسیو میری گولڈ پھولوں کے بڑے گلدستے کے ساتھ اٹھائے ہوئے تھی۔ تمام ماؤں کی طرح اس کی بھی وہی کہانی تھی۔
’’میں ریان ہوں اور یہ میرا لڑکا تھا جو مارا گیا،‘‘ ایک پادری، جبے میں ملبوس، تصویر اٹھائے سوگوار نے کہا۔
’’میرا نام اینڈ روسا ہے، میرے بھی کچھ دوست ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں کھو گئے،‘‘ ایک اور خاتون نے کہا۔
سوال اٹھاتے مظاہرین
’’گیارہ ستمبر کی تحقیقات کرو،‘‘ کئی لوگ اس نعرے کی کالی ٹی شرٹس پہنے مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان کا ایک نمایاں نعرہ تھا: ’’گیارہ ستمبر اندر کا کام‘‘۔
یہ لوگ بڑی تعداد میں ان گروپوں کا حصہ تھے جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اسٹیشن کے باہر اور گراؤنڈ زیرو سے فقط چند سو گز کے فاصلے پر جنگ مخالف بڑے مظاہرے میں شریک تھے۔
’’کیا تم اس وقت اور اس دن یہاں تھے؟‘‘ میں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اسٹیشن میں واقع اخبار کی دکان والے سے پوچھا۔
’’نہیں، میں اس وقت بنگلہ دیش میں تھا لیکن یہ دکان اور یہ حصہ حملے سے محفوظ رہا تھا۔ میں چار سال قبل آیا ہوں،‘‘ اس نے کہا۔
سفید ربن، پھول اور ایک ماں
اب دوپہر ہونے لگی تھی اور مائیں اور سوگوار واپس ہونے لگے تھے۔ اپنے کالر پر سفید ربن لگائے ایک خاتون نے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ خریدا۔
ٹرین کے اس آخری اسٹیشن سے سفید ربن اور پھولوں کے گلدستے لیے سوگوار لوگ چڑھے اور اپنے اپنے اسٹیشن پر اتر گئے، سوائے ایک ماں کے جس نے اپنے پھول شاپنگ بیگ میں لپیٹ لیے تھے۔ اسے شاید مجھ سے بھی آگے کے اسٹیشن جانا تھا۔
یہ ایک دن کی بات نہیں۔
گراؤنڈ زیرو پر اپنی نظمیں لیے وہ افریقی امریکی شاعر آرچی ہربرٹ ہر روز اس جگہ آتا ہے، جو کل کہہ رہا تھا:
’’یہ کوئی بھی ہو سکتا ہے
تم بھی، میں بھی۔
کوئي جگہ
کوئی ملک بھی‘‘
