مہتاب اکبر راشدی:نوڈیرو سے پارلیمنٹ تک
گاؤں کی لڑکی نے اعتماد اور صلاحیتوں کی بنیاد پر منفرد مقام بنایا
تحریر نصیر احمد
اس خاتون نے معروف عوامی شاعر حبیب جالب کے اس مصرعے ’’ہم جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے‘‘ کے مصداق ہر شعبے میں منفرد مقام بنایا۔ مہتاب چنہ کے نام سے نوڈیرو کے چھوٹے سے گاؤں سے اپنی زندگی کا سفر شروع کرنے والی لڑکی اپنے راستے میں آنے والی مختلف مشکلات کا اعتماد اور حوصلے کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے پارلیمنٹ تک پہنچی۔ اسی سفر کے دوران وہ مہتاب چنہ سے مہتاب اکبر راشدی بن گئیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان، ٹیلی ویژن، تعلیم، ثقافت، سماجیات، ادب، بیوروکریسی اور سیاست کے شعبوں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

کراچی پریس کلب نے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیات سے ان کی زندگی کی سرگزشت سننے کیلئے ’’جو ہم پہ گزری‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس میں مدعو مہمان شخصیت اپنی کامیاب زندگی میں آنے والی مشکلات سے حاضرین محفل کو آگاہ کرتی ہے۔ یہ پروگرام کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیراہتمام منعقد کیا جاتا ہے جس کے سربراہ معروف شاعر اور گورننگ باڈی کے رکن جاوید صبا ہیں۔ اس مرتبہ مہتاب اکبر راشدی اس پروگرام میں مہمان تھیں جنہوں نے تقریباً پونے دو گھنٹے کی گفتگو میں اپنی جیون کہانی کو بیان کیا اور اپنے دلآویز لب و لہجے سے حاضرین کو مسحور کیا۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا۔
لاڑکانہ کے نواحی گاؤں نوڈیرو کے ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے گھر ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مہتاب چنہ رکھا گیا۔ وہ اپنی چار بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان سے چھوٹا ایک بھائی آفتاب چنہ تھا۔ ان کا تعلق چنہ قبیلے سے ہے۔ اس زمانے میں لڑکیوں کو اسکولوں میں تعلیم دلوانے کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تھی اور نہ ہی لڑکیوں کی تعلیم کیلئے کوئی سہولت تھی۔ استاد ہونے کی وجہ سے مہتاب کے والد دور اندیش اور روشن خیال تھے۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم کو بھی اہم گردانتے تھے۔ مہتاب نے بتایا کہ وہ ہم سب بہنوں کو اچھی تعلیم دلوانا چاہتے تھے اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب رہے۔ ہمارے ماں باپ کی تربیت اور بھرپور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ ہم پانچوں بہن بھائی اپنے اپنے شعبے میں نمایاں رہے۔ والد صاحب نے اس زمانے کی فرسودہ روایات اور صنفی امتیاز کو پس پشت ڈالا اور ارد گرد کے لوگوں کی باتوں اور تنقید کو خاطر میں نہیں لائے۔ ہم سب بہنوں کی تعلیم کی وجہ سے علاقے کی دیگر لڑکیوں کیلئے بھی تعلیم کے در وا ہونا شروع ہوئے۔
مہتاب اکبر نے کہا کہ میری والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ وہ پڑھی لکھی نہیں تھیں۔ وہ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتی تھیں اور پنج وقتہ نمازی تھیں۔ ہمیشہ سفید لباس تن زیب کرتی تھیں جس کی وجہ سے سب انہیں ’’اچھی مائی‘‘ یعنی سفید کپڑوں والی مائی کہتے تھے۔ مہتاب اکبر نے بتایا کہ والدہ گھر کے کام کاج نہیں کرتی تھیں بلکہ وہ بیٹھی رہتی تھیں اور کاموں کی نگرانی کرتی تھیں۔ ان کے اصول سخت تھے۔ والدہ کا حکم تھا کہ اسکول سے سیدھے گھر آنا ہے اور رات کو کسی کے بھی گھر میں نہیں رکنا ہے۔ وہ اس پر سختی سے عمل کرواتی تھیں۔ وہ اپنے اصولوں پر کمپرومائز نہیں کرتی تھیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کی وجہ سے ہی انہوں نے سندھی اور اردو پڑھنا سیکھی اور وہ گھر آنے والے اردو اور سندھی کے اخبارات پڑھنے لگیں۔ میرے والد میری والدہ کے ساتھ انتہائی احترام کا رویہ رکھتے تھے۔ وہ ہم بہنوں کو اماں اور بھائی آفتاب کو بابا کہتے تھے جو کہ ہمارے ہاں چھوٹے بچوں کے ساتھ پیار و محبت کے اظہار کا روایتی انداز تھا۔

مہتاب اکبر نے بتایا کہ نوڈیرو میں ان کا بڑا گھر تھا جس میں مختلف اقسام کے درخت اور پھول پودے تھے۔ وہ آج بھی اپنے اس گھر کو نہیں بھول پاتی ہیں۔ اپنے اس گھر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبائی گھر کی مٹی میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ انسان کہیں بھی چلا جائے لیکن اپنی مٹی کی خوشبو اسے ہمیشہ یاد رہتی ہے اور اپنی جانب کھینچتی ہے۔ اس گھر کے ساتھ بہت سی یادیں جڑی ہیں جب میں ان کو یاد کرتی ہوں تو مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ گھر میں درختوں پر اپنی کرنز کے ساتھ جھولا جھولتے تھے۔ خالہ اور دیگر رشتے دار قریب رہتے تھے۔ ان کے بچے ہمارے گھر آجاتے تھے۔ درختوں پر پرندے چہچہاتے تھے جن کی آوازیں کانوں میں رس گھولتی تھیں۔ اب ہمارے کان ایسی آوازیں کو ترسنے لگے ہیں۔ گھر کے بڑے صحن میں رات کو آسمان پر چمکنے والے چاند اور ستاروں کو غور سے دیکھتی تھی اور ان چاند ستاروں کی وجہ سے میرے ذہن میں خیالات اور تصورات پیدا ہونے لگے جو بعد میں میرے لکھنے کی صلاحیت کی بنیاد بنے۔
نوڈیرو میں گزرے دنوں کو یاد کرتے ہوئے مہتاب اکبر نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے قریب ایک نہر گزرتی تھی جس کی ایک جانب ہمارے گھر تھے اور دوسری جانب آموں کے باغ تھے۔ شدید گرمی کے دن ہوتے تھے۔ ان دنوں میں قیلولہ، دوپہر کو کچھ دیر کیلئے سونا، لازمی ہوتا تھا۔ ہماری والدہ ہم سب بہنوں کو سلا دیتی تھیں اور ہم کچھ دیر ویسے ہی آنکھیں موند لیتے تھے اور پھر چپکے سے باہر نکل جاتے تھے۔ نہر کے پار آم کے باغوں سے امبیاں چوری کرنا ہمارا محبوب مشغلہ تھا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ چوری کی چیز کھانے کا مزا ہی الگ ہوتا ہے۔ مہتاب اکبر نے بتایا کہ اس کام میں ان کا لیڈر ان کا خالہ زاد بھائی ہوتا تھا جو عمر میں ہم سب سے بڑا تھا۔ نہر پر کوئی پل نہیں تھا بلکہ کھجور کے لمبے تنے کو نہر کے دونوں کناروں پر ڈال کر راستہ بنایا ہوا تھا جو بالکل پگڈنڈی کی طرح ہوتا تھا جس پر ڈگمگاتے ہوئے انتہائی احتیاط سے چلنا پڑتا تھا۔ عدم توازن پر پاؤں ذرا سا بھی پھسلنے سے بندہ نہر میں جا گرتا تھا۔ ہم روزانہ دوپہر میں باقاعدگی سے امبیاں توڑ کر لاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز ہم سب امبیاں چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ جب باغ کے مالی یا مالک نے باری باری ہمارے بارے میں سوالات کیے تو ہم بہنوں نے اپنے والد صاحب کا نام لیا کہ ہم ماسٹر جی کی بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے اوروں سے بھی پوچھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے ہمیں استاد جی کی بیٹیاں ہونے کے سبب چھوڑ دیا۔
مہتاب اکبر نے بتایا کہ میری پیدائش پر رشتہ داروں میں کہا گیا تھا کہ ماسٹر جی کے ہاں پھر ایک بیٹی پیدا ہوگئی ہے۔ میری والدہ کا کہنا تھا کہ میں تمہاری پیشانی اور شکل و شباہت بہتر بنانے میں اس طرح پوری توجہ نہیں دے سکی جس طرح تمہاری دوسری بہنوں پر دی تھی۔ مہتاب نے بتایا کہ میری پیدائش کے بعد میری نانی ہمارے گھر آئیں اور میرے والد سے کہا کہ میری بیٹی سے تو بیٹیاں ہی بیٹیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ میں تمہیں دوسری شادی کی اجازت دیتی ہوں۔ ہو سکتا ہے اس سے بیٹا پیدا ہو جائے۔ میرے والد نے ان کی بات سنی اور پھر مسکراتے ہوئے نانی جان سے کہا کہ اگر میرے ہاں بیٹا ہونا ہو گا تو اسی بیوی سے ہو جائے گا۔ مہتاب اکبر نے بتایا کہ میرے بعد پھر بھائی آفتاب پیدا ہوا۔

مہتاب کی بڑی بہن نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو لاڑکانہ لڑکیوں کو اس سے آگے تعلیم دلوانے کیلئے کوئی کالج نہیں تھا۔ مہتاب کے والد نے بیٹیوں کی تعلیم کیلئے نوڈیرو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنا تبادلہ حیدرآباد کروا لیا۔ اس وقت مہتاب چنہ دوسری کلاس میں تھیں۔ ان کا خاندان اپنا بڑا گھر چھوڑ کر حیدرآباد میں کرائے کے مکان میں منتقل ہوگیا۔ آبائی گاؤں چھوڑنے کا تذکرہ کرتے ہوئے مہتاب راشدی کی آواز کچھ رندھ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ میری والدہ جو گاؤں میں گھر کا کوئی کام نہیں کرتی تھیں اب یہاں کھانا پکانے سمیت تمام کام کاج خود کرنے لگیں، صبح صبح ہمارے لیے ناشتہ تیار کرتی تھیں۔ اماں کو یہاں کام کرتے دیکھ کر میں حیران ہوتی تھی۔
مہتاب اکبر نے حیدرآباد میں اپنی پرائمری، سیکنڈری اسکول اور کالج میں تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا۔ ان کے ساتھ فہمیدہ ریاض، فہمیدہ حسین اور ان جیسی کئی خواتین زیر تعلیم تھیں جنہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ مہتاب راشدی نے کہا کہ پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں ہماری استانیوں نے ہمارے اندر جو اعتماد اور حوصلہ پیدا کیا اس نے زندگی کی شاہراہ میں ہماری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس زمانے میں استاد ماں باپ سے زیادہ بچوں کا خیال کرتے تھے جو طالب علم یا طالبہ پڑھائی میں کمزور ہوتے تو استاد انہیں اسکول کا وقت ختم ہونے کے بعد روک لیتے تھے اور ان کی اضافی کلاسز لیتے تھے اور یہ کام بلامعاوضہ کرتے تھے۔ اس زمانے میں ٹیوشن کا کوئی تصور نہیں تھا۔ استاد کسی بچے یا بچی کے فیل ہونے کو اپنے لیے باعث شرمندگی گردانتے تھے لیکن آج کل صورت حال بالکل الٹ ہے۔ تعلیمی اداروں میں پڑھائی نہیں ہے اور ٹیوشن سینٹرز کی بھرمار ہے۔
مہتاب اکبر تقریری اور تحریری مقابلوں میں ہمیشہ انعامات حاصل کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم گاڑی کھاتہ حیدرآباد میں رہتے تھے۔ ایک کونے پر ہمارا گھر تھا تو دوسرے کونے پر فہمیدہ حسین کا گھر تھا۔ ایک جانب سلطانہ صدیقی کا گھر تھا اور دوسری طرف آپا مریم نوحانی کا گھر تھا جو معروف ماہر تعلیم اور زبردست مقررہ تھیں۔ فن تحریر و تقریر میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ علاقے کی لڑکیاں روزانہ شام کو ان کے گھر جمع ہوجاتی تھیں۔ اگر مجھے کسی تقریری مقابلے میں شرکت کرنا ہوتی تو وہ مجھ سے میری تحریر کردہ تقریر منگواتی تھیں اور تحریر دیکھ کر اس کی نوک پلک درست کرتی تھیں۔ ایک بار سکھر میں تقریری مقابلہ تھا۔ ہماری ٹیم کو وہاں جانا تھا۔ ٹیچر نے مجھ سے پوچھا کہ تیاری کر لی، تمہارا سامان کہاں ہے۔ ہمیں سکھر میں بوائز اسکول جانا ہے۔ مہتاب اکبر نے بتایا کہ یہ سنتے ہی میں نے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں لڑکوں کے سامنے تقریر نہیں کروں گی، وہ ہوٹنگ کرتے ہیں۔ جب اس بات کا پتہ ہیڈ مسٹریس کو چلا تو انہوں نے ہمیں بلا کر سخت لہجے میں کہا کہ تم سب وہاں جاؤ گی اور مقابلے میں حصہ لو گی، ہمیں کوئی ٹرافی نہیں چاہیے، تم نے بس وہاں جاکر مقابلے میں حصہ لینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا مقصد صرف ہماری حوصلہ افزائی اور اعتماد پیدا کرنا تھا۔ اسی حوصلہ افزائی نے ہمیں گفتگو اور تحریر و تقریر کے فن میں مہارت دی اور ہمارا مستقبل تابناک بنایا۔

ریڈیو پاکستان حیدرآباد کو نئی آوازوں کو روشناس کرانے کی ضرورت پڑی تو اسکولز اور کالجز سے لڑکیوں کے آڈیشن لیے گئے۔ مہتاب نے بتایا کہ مجھے بھی ریڈیو پر آڈیشن کیلئے جانے کا کہا گیا تھا جب میری والدہ کو پتہ چلا تو انہوں نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ ریڈیو پر جائے گی۔ میرے والد نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے، تاہم میں بعد میں آڈیشن کیلئے وہاں گئی۔ چائلڈ اسٹار کے طور پر کام شروع کیا۔ بعد میں ڈراموں میں ہیروئن کے طور پر شرکت کی۔ ان کے مدمقابل ہیرو محمد علی اور مصطفیٰ قریشی ہوتے تھے جو بعد میں نامور فلمسٹار بنے۔ مہتاب اکبر نے بتایا کہ ڈراموں میں پہلا معاوضہ پانچ روپے نقد ملا تھا جس پر میں بے انتہا خوش تھی۔ جب میں پیسے لے کر گھر گئی اور اماں کو بتایا کہ مجھے پانچ روپے معاوضہ ملا ہے تو اماں نے مجھ سے پانچ روپے یہ کہہ کر لے لیے کہ لاؤ میرے پاس رکھوا دو، تم اس رقم کو گم کر دو گی۔ اس زمانے میں پانچ روپے بڑی رقم تھی۔ مہتاب کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔ اتنی اچھی اردو بولنے اور آواز کے زیر و بم کا کریڈٹ وہ اپنی اساتذہ اور ریڈیو کو دیتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں ریڈیو حیدرآباد پر اردو شعر کو پڑھنے سے قبل معروف شاعر حمایت علی شاعر کو سناتی تھی تاکہ الفاظ کی ادائیگی درست تلفظ کے ساتھ ہو۔ اسی طرح میں سندھی زبان کے حوالے سے بھی اپنے سینیئرز سے رہنمائی لیتی تھی۔
انہوں نے میٹرک کے بعد انٹر سائنس کیا۔ ان کے والد انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن مہتاب تدریس میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی انٹر سائنس کیا لیکن دل میں دعا کرتی رہیں کہ اتنے نمبر نہ آئیں کہ میڈیکل کالج میں داخلہ ہو جائے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میری دعا قبول ہو گئی۔ مہتاب نے سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد سینٹ میری کانونٹ گرلز اسکول میں پڑھانا شروع کیا۔ اسی دوران انہوں نے بی ایڈ کیا کیونکہ انہیں بچوں کو پڑھانے میں زیادہ دل چسپی تھی۔ مہتاب اکبر نے سندھ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔
سندھ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں سلیکشن کے باوجود مہتاب چنہ کو اس ڈیپارٹمنٹ میں تقرری نہیں ملی تو انہیں شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے لیکچرار کی حیثیت سے تدریس کا آغاز کیا۔ سندھ یونیورسٹی میں یہ نیا شعبہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ اسکالر شپ پر تعلیم کیلئے امریکہ چلی گئیں۔ امریکی یونیورسٹی میساچیوسٹس سے انہوں نے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور اپنی روم میٹ امریکن سہیلی کے ساتھ کئی ملکوں کے دورے کیے۔ وہاں کے لوگوں اور سسٹم کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ وطن واپس آکر انہوں نے دوبارہ سندھ یونیورسٹی میں تدریس شروع کر دی اور برسوں تک شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ رہیں۔
مہتاب اکبر راشدی کو تدریس کے دوران ہی پاکستان ٹیلی ویژن سے بلاوا آیا اور انہوں نے پی ٹی وی پر اردو اور سندھی زبان میں لاتعداد پروگرامز کیے۔ بچوں کا پروگرام روشن تارا سلطانہ صدیقی کے ساتھ کیا۔ فروزاں، ناظرین کے خطوط، لائیو الیکشن ٹرانسمیشن، میزبانی اور کمپئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں بھی خدمات انجام دیں۔
مشہور کہاوت ہے کہ عشق اور مشک کبھی چھپائے نہیں چھپتے۔ مہتاب چنہ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔ سندھ یونیورسٹی میں تدریس کے دوران وہاں سول انجینیئر کے طور پر فرائض انجام دینے والے اکبر حسین شاہ راشدی ان کے منظور نظر ٹھہرے جن کا تعلق پیر صاحب پگارا کے قبیلے سے تھا۔ ان کا گھرانہ خاصا قدامت پرست تھا۔ ان کے خاندان کی خواتین باپردہ ہوتی ہیں جو صرف شادی کی صورت میں ہی اپنے گھر کی چوکھٹ سے باہر قدم رکھتی ہیں۔ مہتاب نے بتایا کہ میں سر پر دوپٹہ بھی نہیں اوڑھتی تھی اور نہ کھانا بناتی تھی۔ ایسی صورت میں شادی ممکن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اکبر راشدی نے اپنی فیملی سے کہہ دیا تھا کہ شادی کروں گا تو مہتاب سے ہی کروں گا۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔ اس کی خبر پیر حسام الدین راشدی کے کانوں میں بھی پڑی تو انہوں نے ہم دونوں سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ تم دونوں شادی کرنا چاہتے ہو۔ ہم نے ہاں میں جواب دیا۔ میں نے پیر حسام الدین سے کہا کہ اکبر راشدی کے گھر والے اس کیلئے تیار نہیں ہیں تو انہوں نے کہا کہ اب یہ مجھ پر چھوڑ دو۔ انہوں نے ہماری شادی کا انتظام کیا اور شادی کا دعوت نامہ ہمارے والدین کے بجائے پیر حسام الدین راشدی کی جانب سے چھاپا گیا تھا۔
مہتاب راشدی نے بتایا کہ میری شادی فروری1981میں بیگم نصرت بھٹو کی جانب سے منتخب کردہ تاریخ پر ہوئی۔ شادی میں نصرت بھٹو کو بھی شرکت کرنا تھی۔ یہ دن تاریخی اہمیت کا حامل تھا، اسی تاریخ کو لاہور میں پیپلز پارٹی کا کنونشن تھا جس میں نصرت بھٹو کو شرکت کرنا تھی۔ ملک میں سیاسی صورت حال انتہائی کشیدہ تھی۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت نصرت بھٹو کو اس کنونشن میں شرکت سے روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہی تھی، دوسری جانب بیگم بھٹو نے بھی کنونشن میں پہنچنے کی ٹھان لی تھی۔ ان حالات میں یہ خبر پھیلا دی گئی کہ بیگم نصرت بھٹو میری شادی کی تقریب میں شرکت کریں گی لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔ نصرت بھٹو برقع پہن کر ایک ویگن میں کراچی کینٹ اسٹیشن گئیں اور تمام ایجنسیوں کو چکمہ دیا اور ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں اور کنونشن میں شرکت کی، جہاں لاٹھی چارج کے دوران نصرت بھٹو سر پر ڈنڈا لگنے سے زخمی ہوگئی تھیں۔ نصرت بھٹو نے اپنی نمائندگی کیلئے بینظیر بھٹو اور صنم بھٹو کو میری شادی میں بھیجا۔ اس طرح بینظیر بھٹو اور صنم سے میری پہلی ملاقات ہوئی اور پھر بینظیر سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی۔ کبھی کبھی بے نظیر اچانک برقع پہن کر ملاقات کیلئے جامشورو میں میرے گھر آجاتی تھیں تو میں حیرت زدہ رہ جاتی تھی اور کہتی کہ آپ برقع پہن کر کیوں آئی ہیں تو وہ کہتیں کہ اگر ایسا نہ کروں تو مجھے کون آسانی سے راستے سے نکلنے دے گا۔ جب کبھی انہیں میری ضرورت پڑتی تو مجھے اپنے گھر بلوا لیتی تھیں اور میں عقبی دروازے سے70کلفٹن میں داخل ہوتی تھی۔ ان سے انتہائی دوستانہ اور بے تکلفی کا رشتہ تھا۔ وہ مجھ سے سندھ کے حالات اور مسائل کے بارے میں بات کرتی اور تجاویز بھی لیتی تھیں۔
مہتاب نے بتایا کہ اکبر کے ساتھ شادی میں کسی قسم کی کوئی شرائط نہیں تھیں۔ میں نے ایک ماہ اور اکبر نے15دن کی چھٹی لی تھی۔ شادی کے تیسرے دن میرا باورچی آیا اور کہا ادی مجھے اجازت دو تو میں نے کہا کہ کس چیز کی تو اس نے جواب دیا کہ میری شادی ہونے والی ہے مجھے جانا ہے تو میں نے کہا کہ پھر کھانا کون بنائے گا، مجھے کھانا بنانا پسند نہیں تھا۔ باورچی چلا گیا تو بعد میں میں صبح اٹھتی تھی اور آٹا گوندھنے کے بعد ایک پلیٹ اوپر رکھ کر روٹی بناتی تھی تاکہ روٹی بالکل گول بنے۔ میں دل و جان کے ساتھ سالن تیار کرتی تھی تاکہ ذائقے دار ہو۔ میاں گھر واپس آ کر کھانا کھاتا تو تعریفیں کرتا تھا لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ سچی تعریف ہوتی تھی یا صرف میرا دل رکھنے کیلئے۔ شادی کے تیسرے دن مجھے یہ سزا ملی۔ میں سمجھتی تھی کہ میاں مجھے گھمانے لے کر جائے گا۔ اکبر راشدی کی بھرپور حمایت اور اعتماد مجھے حاصل رہا اور میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کر پائی۔ مجھے ان کی جانب سے کوئی روک ٹوک نہیں تھی کہ میں کب آتی ہوں اور کہاں جا رہی ہوں۔ یہ اعتماد کا رشتہ ہی میری ترقی کا سبب بنا۔ نہ انہوں نے کبھی میری تنخواہ پوچھی نہ میں نے ان کی۔
مہتاب اکبر راشدی نے بتایا کہ بینظیر کے ہاں جب بڑی بیٹی کی ولادت ہوئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ خواتین کے کچھ نام مجھے لکھ کر بھیجو۔ تو میں نے انہیں سندھ کی تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی کئی خواتین کے نام لکھ کر بھیجے اور ان ناموں کے ساتھ جڑے تاریخی واقعات بھی مختصراً لکھے۔ میں نے لکھا تھا کہ بختاور نے میرپور خاص میں اپنی زمینوں اور فصل کو بچانے کیلئے وڈیروں سے لڑائی لڑی تھی جس کو مار دیا گیا تھا۔ دو تین دن بعد پتہ چلا کہ بینظیر بھٹو نے بیٹی کا نام بختاور رکھا ہے، یہ فارسی نام ہے۔ نصرت بھٹو کو بھی یہ نام اچھا لگا تھا۔ آپ اس سے بے نظیر کے ساتھ میری قربت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ زبانیں ایک دوسرے کو آپس میں جوڑتی ہیں توڑتی نہیں ہیں۔ میں نے مختلف زبانیں بولنے والے افراد کے ساتھ کام کیا اور مجھے کہیں بھی زبان کی وجہ سے کسی مسئلے اور پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اردو بولنے والوں کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔ مجھے بہت عزت و احترام ملا۔ ہم نے کبھی زبان کا بکھیڑا نہیں پالا کہ میں سندھی ہوں، یہ اردو بولنے والا ہے۔ میں سندھی ہوں، مجھے سندھی زبان سے بہت محبت ہے اور آپ کو اردو زبان سے محبت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ زبانوں کو قبول کریں اور مل جل کر رہیں۔ ہم خوشی خوشی انگریزی زبان اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور پڑھیں گے تو ہمیں اس کی یہ سزا مل رہی ہے۔ ہمارے بچے ہماری اپنی زبانیں نہیں بول رہے۔ ہمارے بچے اب رومن زبان میں اپنی مادری زبان کو پڑھ رہے ہیں، اگر یہی سلسلہ چلتا رہا اور ہم نے اپنی مادری زبانوں پر توجہ نہ دی تو پھر یہ زبانیں بھی معدوم ہوجائیں گی۔
مہتاب اکبر راشدی نے1988سے2007تک حکومت سندھ میں مختلف محکموں میں سیکرٹری اور دیگر ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ انہوں نے ڈائریکٹر، لیاقت لائبریری؛ سیکرٹری، ثقافت، سیاحت، امورِ نوجوانان و کھیل؛ ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات؛ سیکرٹری، تعلیم؛ ڈائریکٹر جنرل صوبائی محتسب سندھ؛ سیکرٹری، اطلاعات و آرکائیوز؛ سیکرٹری، ثقافت، سیاحت و سماجی بہبود؛ سیکرٹری، محکمہ بین الصوبائی رابطہ؛ ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف سندھیالوجی؛ ڈائریکٹر، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، علاقائی دفتر حیدرآباد، کی حیثیت میں فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے اردو اور سندھی اخبارات میں کالم نویسی کی۔2004میں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔
2007 میں اپنی ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد مہتاب اکبر پاکستان فنکشنل لیگ کی جانب سے مخصوص نشستوں پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئیں اور اس طرح انہوں نے اپنے پارلیمانی کیریئر کی ابتدا کی۔ انہوں نے سندھ اسمبلی میں بھرپور انداز میں عوام کی ترجمانی کی اور پیپلز پارٹی کو سندھ کی حالت زار پر آڑے ہاتھوں لیا۔ ان دنوں مہتاب اکبر راشدی نے پاکستان فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر صاحب پگارا، بڑے پیر صاحب، سے کہا تھا کہ آپ کی پارٹی کی کوئی پالیسی نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ تم ہی پارٹی ہو اور تم ہی پالیسی ہو، جو چاہو کرو۔ مہتاب اکبر نے پارٹی میں ویمن ونگ تشکیل دیا اور کچھ پالیسیاں بنا کر دیں۔ انہوں نے ان کے ساتھ پانچ سال پورے کیے لیکن یہ پارٹی ان کے خیالات کے ساتھ میل نہیں کھاتی تھی اس لیے انہوں نے پارٹی کو چھوڑ دیا۔ اس وقت وہ ویمن ونگ کی سربراہ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیر صاحب پگارا نے مجھے ایک اور مدت کیلئے رکن بننے کی آفر کی تو میں نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ کچھ عرصے تک مختلف فلاحی سرگرمیوں میں مصروف رہیں اور پارلیمانی سیاست سے دور رہیں۔ پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی کی آفر کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ اب وہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں لیکن وہ ایوان میں ہونے والے بحث و مباحثے سے مایوس نظر آتی ہیں جہاں عوام کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی سے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔

