"`
نیتن یاہو:فلائی دبئی حملہ آور کی انتہا پسندانہ ذہن سازی ہوئی
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز کے کپتان پر مبینہ حملہ کرنے والے عمانی معاون پائلٹ نے اسلام پسند انتہا پسندانہ ذہن سازی کا سامنا کیا تھا، تاہم واقعے کے محرکات اور پس منظر کے بارے میں حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز کے کپتان کو مبینہ طور پر چاقو مارنے اور طیارے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے عمانی معاون پائلٹ نے”اسلام پسند انتہا پسندانہ ذہن سازی”کا سامنا کیا تھا۔ نیتن یاہو کے مطابق تفتیش کار مشتبہ حملہ آور کے ذاتی پس منظر سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں، جن سے اس کی مبینہ انتہا پسندی کے بارے میں مزید اشارے مل سکتے ہیں۔
فوکس نیوز کو ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ حکام کو مشتبہ حملہ آور کی ذاتی معلومات سے ایسی تفصیلات مل رہی ہیں جو مبینہ طور پر اس کی ذہنی اور نظریاتی بنیادوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
فلائی دبئی کی پرواز میں کیا ہوا؟
یہ واقعہ بدھ کے روز فلائی دبئی کی پروازFZ1073میں پیش آیا جو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی۔ بوئنگ737طیارے میں174افراد سوار تھے، جن میں اکثریت اسرائیلی مسافروں کی تھی۔
پرواز کے تقریباً دو گھنٹے بعد معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر بھارتی کپتان سمت مچھر پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ واقعے کے دوران طیارہ تیزی سے نیچے آیا اور تقریباً17ہزار فٹ سے زیادہ بلندی کھو بیٹھا۔
مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا، جبکہ طیارے میں موجود ڈیوٹی سے باہر دو پائلٹس نے بعد میں کنٹرول سنبھالنے میں مدد کی۔ طیارے کو سعودی عرب کے شمال مغربی شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا گیا۔
نیتن یاہو:طیارہ گرانے کی کوشش کا امکان بہت زیادہ
نیتن یاہو نے واقعے کو طیارہ گرانے کی ممکنہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب ابتدائی معلومات اس امکان کو مضبوط کرتی ہیں۔ ان کے مطابق مبینہ حملہ آور کو قابو کرکے باندھے جانے کے بعد اس نے عملے سے”مجھے مار دو”کہنے کی اپیل کی، جسے نیتن یاہو نے اس کے ممکنہ خودکشی کے رجحان کی علامت قرار دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اگر اس رویے کو مشتبہ شخص کے مبینہ اسلام پسند رجحانات اور پس منظر سے متعلق معلومات کے ساتھ دیکھا جائے تو تحقیقات کے لیے ایک ممکنہ سمت سامنے آتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
سوشل میڈیا سرگرمی کی بھی تحقیقات
اسرائیلی حکام نے الگ سے یہ بھی کہا ہے کہ معاون پائلٹ کی سوشل میڈیا سرگرمی میں مبینہ طور پر جہادی نظریات اور یہودیوں کو قتل کرنے سے متعلق مواد موجود تھا۔ تاہم مشتبہ شخص کی شناخت باضابطہ طور پر عوام کے سامنے نہیں لائی گئی اور اس کے سوشل میڈیا مواد سمیت دیگر شواہد کی تحقیقات جاری ہیں۔
مشتبہ معاون پائلٹ اس وقت سعودی عرب کی تحویل میں ہے۔ تحقیقات میں سعودی عرب کے ساتھ متحدہ عرب امارات، عمان، امریکا اور اسرائیل کے حکام بھی تعاون کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بھی معاملے میں اپنے دائرۂ اختیار کا مؤقف اختیار کیا ہے کیونکہ طیارہ وہاں رجسٹرڈ ہے۔
ایران سے تعلق کے بارے میں ابھی کوئی حتمی جواب نہیں
نیتن یاہو نے کہا کہ فی الحال یہ طے کرنا قبل از وقت ہے کہ مشتبہ معاون پائلٹ کے ایران یا کسی دوسرے فریق سے کوئی تعلقات تھے یا نہیں۔ ان کے مطابق تحقیقات میں آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید واضح معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حکام مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعے کے پیچھے کوئی منظم رابطہ یا بیرونی معاونت موجود تھی یا یہ ایک فرد کی کارروائی تھی۔
زخمی کپتان اور مسافروں کی بہادری کو خراجِ تحسین
نیتن یاہو نے واقعے کے دوران زخمی ہونے والے کپتان کی بہادری کو سراہا۔ ان کے مطابق کپتان شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے، جس سے مسافروں اور عملے کو اندر داخل ہو کر صورتحال پر قابو پانے کا موقع ملا۔
انہوں نے ان مسافروں اور عملے کے ارکان کی بھی تعریف کی جنہوں نے خطرے کے باوجود مداخلت کی اور مشتبہ حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد دی۔ نیتن یاہو کے مطابق ان اقدامات نے ممکنہ طور پر ایک ایسے سانحے کو روکنے میں کردار ادا کیا جس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے تھے۔
فلائی دبئی نے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کردیں
واقعے کے بعد فلائی دبئی نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی ہیں تاکہ سکیورٹی کے طریقۂ کار کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے۔ کمپنی نے واقعے کے محرکات کے بارے میں قبل از وقت نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
نیتن یاہو نے ایک سابقہ سکیورٹی خلا کا بھی ذکر کیا جس کے تحت بعض ایسے ممالک کے شہریوں کے لیے جو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتے، کپتانوں پر پابندیاں موجود تھیں لیکن معاون پائلٹس کے حوالے سے وہی پابندیاں لاگو نہیں ہوتی تھیں۔ ان کے مطابق اس معاملے کو متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے حل کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے بعد ہی مکمل تصویر واضح ہوگی
فلائی دبئی کی پروازFZ1073کا واقعہ اب کئی ملکوں کے حکام کی مشترکہ تحقیقات کا موضوع بن چکا ہے۔ مشتبہ حملہ آور کے نظریاتی پس منظر، سوشل میڈیا سرگرمی، ممکنہ روابط اور واقعے کے اصل محرکات سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی حکام نے واقعے کو طیارہ گرانے کی ممکنہ کوشش سے جوڑا ہے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک اس دعوے کی تمام تفصیلات اور محرکات حتمی طور پر طے ہونا باقی ہیں۔ اس دوران طیارے کے عملے اور مسافروں کی فوری مداخلت نے پرواز کو سعودی عرب میں بحفاظت اتارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
فلائی دبئیFZ1073کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے معاون پائلٹ کے مبینہ انتہا پسندانہ پس منظر کا دعویٰ کیا ہے، تاہم واقعے کے محرکات اور ممکنہ روابط کے بارے میں حتمی نتائج تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

