آتشزدگیاں۔۔ ایم کیو ایم کی اسکرپٹیڈ وارداتیں
مثال کے طور پر جہاں آگ لگائی جاتی ہے وہاں دکانوں، فیکٹری، پلازہ اور اسپتال کے دروازے باہر سے بند کر دیے جاتے ہیں۔
فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی نہیں ہوتا، لائٹیں بجھا دی جاتی ہیں، پولیس جائے وقوعہ پر دیر سے پہنچتی ہے کیونکہ ایس ایچ او وغیرہ کو روک دیا جاتا ہے۔
ایسی واردات ہمیشہ ویک اینڈ پر ہوتی ہیں، یعنی چھٹی یا چھٹیوں سے ایک دن پہلے، تاکہ لوگ چھٹیاں منائیں اور کوئی بڑا احتجاج نہ ہو سکے۔
آگ اتنی دیر تک لگی رہتی ہے کہ لاشوں کی شناخت نہ ہو سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔
یہ ان کی Modus Operandi کہلاتی ہے۔
آئیے آتشزدگی کی وارداتوں میں یکسانیت دیکھتے ہیں
پمز اسپتال اسلام آباد کی آتشزدگی کے وقت مصطفیٰ کمال وفاقی وزیرِ صحت تھے اور یہ ایک ہی بڑا اسپتال ہے جو ان کی وزارت کے زیرِ انتظام ہے۔
آتشزدگی کے وقت عام تعطیل تھی، وارڈ کے تمام دروازوں کو باہر سے بند کرکے بڑے بڑے تالے ڈال دیے گئے تھے، متعلقہ تمام عملہ واردات کے وقت غائب ہو گیا۔
جو آگ بجھانے والا انجن آیا، اس میں پانی نہیں تھا۔
واقعے کے بعد مصطفیٰ کمال لواحقین سے بدتمیزی کرتے رہے اور اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔15نومولود بچے زندہ جل کر جاں بحق ہو گئے تاکہ کسی بچے کی شناخت نہ ہو سکے۔
علی گارمنٹ فیکٹری بلدیہ ٹاؤن میں جہاں سینکڑوں مرد و خواتین ہر شفٹ میں کام کرتے ہیں، وہاں آتش زنی اسی اسکرپٹ کے ساتھ کی گئی کہ پہلے فیکٹری کے تمام خارجی راستوں کو باہر سے تالا لگا دیا گیا بلکہ تالوں میں سیلفی ڈال دی گئی تاکہ کسی بھی مضبوط اوزار سے تالے نہ توڑے جا سکیں۔
ایس ایچ او کو غائب کرکے پولیس کو بروقت آنے سے روکا گیا۔
بقر عید آ رہی تھی، اس کی چھٹیوں کا فائدہ لیا گیا۔
فائر انجن آئے جن میں پانی کم تھا یا پانی نہیں تھا۔
آگ کو پورا وقت دیا گیا کہ کوئی لاش پہچانی نہ جا سکے۔
اس طرح259مرد و خواتین محنت کشوں کو زندہ جلا دیا گیا۔
ایسی ہی واردات معزول چیف جسٹس کی کراچی میں آمد کے موقع پر کی گئی تھی، جہاں انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریبِ حلف وفاداری میں خطاب کرنا تھا۔
اس وقت کے صوبائی وزیرِ داخلہ اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے چیف جسٹس کو دھمکیاں دی تھیں۔
سارے عوام اور میڈیا نے دیکھا کہ شہر میں درجنوں لاشوں کو دن دہاڑے گرایا گیا۔
اس کے بعد سٹی کورٹ کے ساتھ ہی واقع وکلا کی ایک عمارت، طاہر پلازہ، کی ساتویں منزل کے کمروں میں، جہاں وکلا کے دفاتر تھے، کیمیکلز پھینک کر آگ لگوائی گئی اور دروازوں کو باہر سے تالے لگوائے گئے۔
بلکہ ان تالوں میں سیلفی تک ڈال دی گئی۔
اس طرح بہت سارے وکلا زندہ جل گئے۔
یہ2006اور2007کی بات ہے جب پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری مرکز بولٹن مارکیٹ کی جگہ کے خلاف ایم کیو ایم نے، خاص طور پر اس وقت کے ناظمِ اعلیٰ مصطفیٰ کمال نے، پروپیگنڈا کیا ہوا تھا کہ وہ جگہ قبضے کی ہے۔
ایم کیو ایم کی ساری کوششیں تھیں کہ بولٹن مارکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر مارکیٹ اور اس کے اطراف کی اربوں روپے کی مالیت کی عمارات مسمار کی جائیں۔
لیکن اطراف کی منڈیوں، جوڑا بازار، کھارادر، میٹھادر، میریئٹ روڈ، جونا بازار وغیرہ کے رہائشیوں، کاروباری افراد اور اداروں نے ایم کیو ایم کے مبینہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر دی۔
مصطفیٰ کمال اس وقت میئر کراچی تھے۔ انہوں نے محرم کے جلوسوں کی آڑ میں وہاں مبینہ طور پر بھیانک آگ لگوا دی۔
کئی درجن لوگ زندہ جل گئے۔
اس وقت سرکاری چھٹی تھی جو ایم کیو ایم کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے۔
یہاں بھی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بہت تاخیر سے، تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچیں اور پانی بھی کم تھا۔
ایم کیو ایم نے اسے بھی ایجنسیوں کی کارروائی قرار دیا۔
گزشتہ سال ہی ایم اے جناح روڈ، کراچی کی مشہور تجارتی عمارت، گل پلازہ میں آتش زنی کا واقعہ بھی ابھی تازہ ہے، جس کی چوکیداری، انتظام اور کرایے کی وصولی ایک کیو ایم کی ماتحتی میں ہوتی تھی۔
اس واقعے میں ایک سو سے زائد مرد و خواتین زندہ جل گئے۔
اس عمارت میں زیرِ زمین کار پارکنگ کو ختم کرکے چھوٹی چھوٹی بے شمار دکانیں نکالی گئی تھیں، جن کے ذمہ دار ایم کیو ایم کے بدنامِ زمانہ دہشت گرد ناصر بھولا اور زبیر چریا تھے۔
یہ دونوں علی گارمنٹ فیکٹری بلدیہ ٹاؤن میں آگ لگانے کے ذمہ دار تھے اور انہیں عدالتوں سے عمر قید و پھانسی کی سزائیں بھی ہوئی تھیں، جنہیں بعد میں مصطفیٰ کمال نے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے عدالتوں سے بری کروایا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے ڈیپ اسٹیٹ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتش زنی کے مجرمان اور259محنت کشوں کو زندہ جلانے کے مجرمان کی رہائی کا سودا کیا گیا تھا۔
ناصر بھولا اور زبیر چریا کی رہائی پر مصطفیٰ کمال نے خوشیاں منائی تھیں اور انہیں مہاجروں کا ہیرو اور بے گناہ قرار دیا تھا۔
گل پلازہ میں بھی پوری عمارت کے دروازے، گیٹ اور جالیاں بند کر دی گئی تھیں۔
جب تک پوری طرح لوگ جل کر مر نہیں گئے تھے، اس وقت تک فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نہیں آئی تھیں، جن میں پانی کم تھا اور بہت ساری گاڑیاں پانی کے بغیر تھیں۔
آگ ڈھائی دن تک لگی رہی، مگر عمارت کے عملے کا ایک بھی فرد ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
تم قتل کرتے ہو یا کرامات کرتے ہو
ایم کیو ایم چاہے الطاف حسین کی ہو یا مصطفیٰ کمال کی، ان کے پاس بہترین حربہ آگ لگا کر درجنوں افراد کو زندہ جلانا ہے۔
مگر ان تمام معاملات میں ایم کیو ایم مظلوم بن کر سامنے کھڑی رہتی ہے۔
ان کی مدد کو ڈیپ اسٹیٹ ہمیشہ حاضر ہے۔
بصیر نوید کا تعارف
بصیر نوید انسانی حقوق کے معروف کارکن، صحافی اور پاکستان میں انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے بائیں بازو کی طالب علم رہنما اور سیاست کار رہے ہیں۔
وہ ایوبی آمریت سے لے کر پرویز مشرف کی فوجی آمرانہ حکومت تک گاہے بگاہے سیاسی اسیر رہے ہیں۔
مشرف دورِ حکومت میں جبری گمشدہ بھی رہے ہیں جب وہ کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کے غریبوں کی زمینوں پر بننے کے خلاف تحریک میں حصہ لے رہے تھے۔
وہ صحافی بھی رہے ہیں اور ہانگ کانگ سے ایشیا ہیومن رائٹس کونسل اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایشیا کے عہدیدار اور سربراہ بھی رہے ہیں۔
وہ اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت ہانگ کانگ میں رہائش پذیر ہیں۔
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔
ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔
قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

