ریاض ایئرپورٹ پر مہلک حملے کی نیتن یاہو کی مذمت، سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی
باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کا سعودی عوام سے تعزیت کا اظہار؛ حملے میں12افراد ہلاک اور300سے زائد زخمی ہوئے
اہم نکات
- اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے مہلک حملے کی مذمت کی۔
- سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے حملے میں کم از کم12افراد ہلاک اور300سے زائد زخمی ہوئے۔
- اتوار کو اسی ٹرمینل کمپلیکس پر ایک اور حملے کے بعد مزید زخمیوں اور آگ لگنے کی اطلاع دی گئی۔
- اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں، تاہم نیتن یاہو نے سعودی عوام سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
- نیتن یاہو نے خطے میں سلامتی، تعاون اور خوش حالی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’’خوفناک دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا۔ ان کے بیان کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں کم از کم12افراد ہلاک اور300سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی عوام کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے گہری تعزیت اور زخمیوں کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
’’میں سعودی عرب کے ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے خوفناک دہشت گرد حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، جس میں12بے گناہ افراد کی جانیں گئیں اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اسرائیلی عوام کی جانب سے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور زخمیوں کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔‘‘
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشت گردی بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتی ہے اور خوف و عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کرتی ہے، اس لیے اس کا عزم کے ساتھ مقابلہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل سے متعلق بھی ایک وسیع تر پیغام دیا اور کہا کہ اسرائیل ایک ایسے مضبوط مشرقِ وسطیٰ کا خواہاں ہے جو خطرات کے خلاف متحد ہو، اپنے عوام کا تحفظ کرے اور خطے کی تمام اقوام کے لیے سلامتی، تعاون اور خوش حالی کا مستقبل تعمیر کرے۔
’’ایک مضبوط مشرقِ وسطیٰ، جہاں سلامتی اور تعاون سب کے لیے ہو‘‘
نیتن یاہو کے بیان کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ دہشت گردی اور عدم استحکام کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے عوام کو ایسا مستقبل ملنا چاہیے جس کی بنیاد سلامتی، باہمی تعاون اور خوش حالی پر ہو۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملہ: 12 ہلاکتیں،300سے زائد زخمی
ہفتے کے روز ہونے والا حملہ سعودی سرزمین پر ایک دہائی سے زائد عرصے میں مہلک ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔ سعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق حملے میں دارالحکومت کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اندرونِ ملک پروازوں کے ٹرمینلز کے ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی شہری اور امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر سے تعلق رکھنے والا ایک ایک شہری شامل تھا۔300سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ حملے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں اور دیگر سرگرمیوں کو معطل کر دیا گیا۔
حوثی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ گروپ یمن کی جنگ میں ایران کی حمایت یافتہ قوت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے حملے کے بعد ہوائی اڈے کی سرگرمیاں بند رہیں۔
اتوار کو اسی ٹرمینل پر ایک اور حملہ
نیتن یاہو کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اتوار کو حوثیوں نے اسی ٹرمینل کمپلیکس پر ایک اور حملہ کیا۔ سعودی حکام نے بتایا کہ ایک نامعلوم پرتابیہ شے ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور مزید افراد زخمی ہوئے۔ یہ وہی تنصیب تھی جو ہفتے کے مہلک حملے کے بعد سے بند تھی۔
حوثیوں نے دونوں حملوں اور سعودی عرب کے اندر دیگر کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔ گروپ نے ایئرلائنز اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی تنبیہ بھی کی۔ مسلسل حملوں اور فضائی آپریشنز کی معطلی نے شہریوں اور بین الاقوامی مسافروں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اظہارِ یکجہتی
نیتن یاہو کی جانب سے سعودی عرب کے لیے عوامی سطح پر تعزیت اور یکجہتی کا اظہار اس لیے قابلِ توجہ ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نے حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں سے ہمدردی اور زخمیوں کے لیے صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹ موساد کمنٹری نے بھی اس بیان کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود نیتن یاہو نے سعودی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا۔ یہ اس اکاؤنٹ کی تشریح ہے؛ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کی حقیقت اس بیان کے پس منظر کو واضح کرتی ہے۔
اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر مذمت
ریاض ایئرپورٹ پر شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملے کی دیگر عالمی شخصیات نے بھی مذمت کی۔ ان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی شامل تھے۔ شہری ہوائی اڈے پر حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے خطے میں شہری تنصیبات کے تحفظ اور تنازع کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
ریاض ایئرپورٹ پر مسلسل حملوں کے تناظر میں نیتن یاہو کا بیان سعودی عرب کے لیے اظہارِ تعزیت کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
