حوثیوں کے حملوں میں شدت، ریاض ایئرپورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا
سعودی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد فضائی آپریشن معطل، زخمیوں میں چھ پاکستانی شہری بھی شامل
|
12 اکتوبر 2026
اہم نکات
- سعودی حکام کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جبکہ فضائی دفاع نے قریب ہی ایک میزائل روک لیا۔
- ہوائی اڈے کے آپریشن معطل رہے اور رن ویز، ریڈار اور مواصلاتی نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا گیا۔
- پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق حملے میں چھ پاکستانی شہری زخمی ہوئے، جن کے اہل خانہ کی مدد کے لیے پاکستانی سفارت خانہ سرگرم ہے۔
- پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ پر مشتمل گروپ نے حوثی حملوں کو خطرناک کشیدگی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
- حوثیوں نے سعودی عرب کے مزید ہوائی اڈوں اور اہم سفری مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
ریاض:یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت کے دوران اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے کے ایک دن بعد ہوا جس میں کم از کم ایک درجن افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں اور حکام کو ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل کرنا پڑیں۔
ہفتے کا حملہ سعودی سرزمین پر ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا۔ اس واقعے نے یمن کی جنگ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں سعودی عرب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے جبکہ حوثی گروپ اس کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔
حوثیوں نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ24گھنٹوں کے دوران متعدد حملے کیے، جن میں ریاض کا ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ گروپ نے سعودی عرب کے سفری مراکز کو آئندہ بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے انہیں اپنی فورسز کے لیے ’’میدانِ کارروائی‘‘ قرار دیا۔
چند گھنٹوں بعد حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی اتحاد نے اطلاع دی کہ ایک میزائل یا دیگر پرتابیہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اتحاد کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے قریبی علاقے میں ایک میزائل کو بھی روک لیا۔
سعودی سول ایوی ایشن حکام نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، تاہم زخمیوں کی درست تعداد فوری طور پر نہیں بتائی گئی۔ حکام کے مطابق ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔
اتوار کو سعودی دارالحکومت میں صحافیوں اور مقامی شہریوں نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ شہر کے شمالی علاقے العارض کے ایک رہائشی نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد پرندے گھبرا کر اڑنے لگے اور ان کا پورا گھر لرز اٹھا۔
حوثی حملے اور ’’کھلی جنگی کارروائی‘‘ کا الزام
حوثیوں نے ریاض کے ہوائی اڈے اور دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کے دیگر اہم مقامات پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ جمعرات کو بھی ہوائی اڈے پر ایک حملے میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔ سعودی عرب نے دفاعی صلاحیتوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، تاہم حوثیوں کے بعض حملے ان دفاعی انتظامات سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
سعودی وزیرِ توانائی کا عزم:عالمی توانائی سپلائی ہر حال میں جاری رکھیں گے
سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ مملکت ہر قسم کے حالات میں عالمی سطح پر توانائی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب مشکلات اور چیلنجز کے باوجود بار بار سنبھلنے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں17ویں بین الاقوامی انرجی فورم کے وزارتی اجلاس(IEF17)کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ سعودی عرب نے توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی برقرار رکھنے، سرمایہ کاری جاری رکھنے اور مختلف حالات و چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
’’کوئی ہماری ہمت نہیں توڑ سکتا۔ ہم اس فینکس پرندے کی مانند ہیں جو ہر بار راکھ سے دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔‘‘
سعودی وزیرِ توانائی نے کہا کہ کوئی بھی مملکت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا اور نہ ہی ترقی جاری رکھنے اور عالمی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ارادے کو توڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب دنیا کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں کو اہمیت دیتا ہے۔
’’ہم دنیا کے ساتھ اپنے وعدوں کی قدر کرتے ہیں۔ ریاض توانائی سلامتی کا دارالحکومت ہے۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں، شہری ہلاکتوں اور فضائی آپریشنز کی معطلی نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی استحکام سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ سعودی وزیرِ توانائی نے اپنے بیان میں توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی، مسلسل سرمایہ کاری اور مشکل حالات میں مملکت کی تیاری پر زور دیا۔
ماخذ:سعودی وزارتِ توانائی کی جانب سے اجلاس کے افتتاح سے متعلق بیان۔ اصل بیان یہاں ملاحظہ کریں۔
حوثیوں مخالف اتحاد نے ہفتے کے حملے کو ’’مکمل جنگی جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے فیصلہ کن جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ دوسری جانب حوثی میڈیا نے اتوار کو یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول صنعا گورنریٹ میں سعودی حملوں کی دو کارروائیوں کی اطلاع دی۔
ہفتے کے حملے کی اقوام متحدہ اور دنیا کے متعدد رہنماؤں نے مذمت کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں امریکی شمولیت پر غور کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس واقعے کو ’’خوفناک دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی، حالانکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی، ایک امریکی، ایک مصری، ایک اردنی، ایک شامی، ایک فلسطینی اور ایک سوڈانی شہری شامل تھے۔ حکام نے زخمیوں کی تعداد309بتائی۔
سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے نے بھی اتوار کو بتایا کہ اس کا ایک شہری ہفتے کے روز زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا۔ ریاض میں مقیم ایک مغربی سفارت کار کے مطابق زخمیوں کی سرکاری تعداد سے مکمل صورتِ حال واضح نہیں ہوتی، کیونکہ بظاہر معمولی زخمی ہونے والے افراد اس شمار میں شامل نہیں تھے۔
چھ پاکستانی شہری زخمی، سفارت خانہ مدد میں مصروف
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ حملے میں چھ پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی امید ظاہر کی۔ وزیراعظم کے مطابق ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کا مشترکہ مؤقف
الگ سے پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ پر مشتمل ریجنل فور(R4)گروپ نے حوثیوں کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’خطرناک کشیدگی‘‘ اور ’’بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔
گروپ نے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی حمایت کی، ان کے نتائج کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد کی اور مطالبہ کیا کہ حملے فوری اور غیر مشروط طور پر بند کیے جائیں۔
ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل
ایک سینئر ایوی ایشن ذریعے کے مطابق اتوار کو بھی ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل تھیں۔ فضائی ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار24نے بتایا کہ بندش کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات نو بجے تک بڑھا دیا گیا تھا۔
ایک دوسرے ایوی ایشن ذریعے نے تصدیق کی کہ آپریشنز اگلے اعلان تک بند رہیں گے۔ اس ذریعے کے مطابق ریڈار اور مواصلاتی آلات کو نقصان پہنچا تھا، جبکہ رن ویز کی حالت کا جائزہ لینا بھی ضروری تھا۔
ہفتے کے حملے کے عینی شاہدین نے اس کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری کی تفصیلات بیان کیں۔ ریاض کے ایک32سالہ رہائشی کے مطابق ٹرمینل3میں موجود افراد بھاگتے ہوئے ان کی طرف آئے۔ ان کے بقول بعض افراد کے ہاتھ یا بازو شدید زخمی تھے، جبکہ لوگ خون میں لت پت زخمیوں کو اٹھا کر لے جا رہے تھے۔
ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ حملے کے بعد صحت کے حکام نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر طلب کرنے کا ایک غیر معمولی ہنگامی اقدام کیا۔ سعودی عرب میں امریکی، کینیڈین، جرمن اور ہسپانوی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ریاض ایئرپورٹ سے دور رہنے کی ہدایت کی، جبکہ آسٹریلیا نے اتوار کو اپنے شہریوں سے گھروں کے اندر رہنے اور محفوظ مقام پر پناہ لینے کی اپیل کی۔
حوثیوں نے دمام ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔ اتوار کو اس ہوائی اڈے کی سرکاری ویب سائٹ پر متعدد پروازوں کی آمد اور روانگی میں تاخیر ظاہر کی جا رہی تھی۔
عمرہ سیزن اور سعودی عرب کی اہم تقریبات متاثر ہونے کا خدشہ
ہفتے کا حملہ سعودی عرب میں اہم کنونشنز اور تفریحی سرگرمیوں کے سیزن کے آغاز سے ایک روز قبل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق2015میں خودکش بم دھماکے کے بعد یہ مملکت میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والے حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
گرمی کی شدت کم ہونے کے ساتھ اکتوبر عموماً عمرہ کے مصروف سیزن کے آغاز کا مہینہ بھی ہوتا ہے، جب دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔ ہوائی اڈے کی بندش اور پروازوں میں خلل بین الاقوامی مسافروں اور زائرین کے سفر کو متاثر کر سکتا ہے۔
یمن کی جنگ اور باب المندب کی اہمیت
سعودی عرب2015سے یمن کی حکومت کی فوجی مدد کرنے والے بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ اس مداخلت میں یمنی فضائی حدود اور حوثیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں۔
یمن کے محاذ پر فوجی ذرائع نے ہفتے کو بتایا کہ سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز باب المندب آبنائے کے گرد حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی میں پیش قدمی کر رہی تھیں۔ باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ریاض ایئرپورٹ پر مسلسل حملوں، شہری ہلاکتوں اور فضائی آپریشنز کی معطلی نے سعودی عرب کی سلامتی اور خطے میں جاری تنازع کے مزید پھیلاؤ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستانی شہریوں سمیت متعدد ممالک کے افراد کے زخمی ہونے کے بعد فوری توجہ متاثرین کی مدد، شہریوں کے تحفظ اور حملوں کے خاتمے پر مرکوز ہے۔
