میڈیا|صحافت|ادارتی آزادی
نیویارک ٹائمز کا بائیں بازو کے غیر منافع بخش صحافتی اداروں پر بڑھتا انحصار
اکنامک ہارڈشپ رپورٹنگ پروجیکٹ کی ایک رپورٹ میں سالانہ3لاکھ15ہزار ڈالر گھریلو آمدنی رکھنے والی اسرائیل مخالف کارکن کی معاشی مشکلات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
تحریر:آئرا اسٹول | 28 اکتوبر 2026
نیویارک ٹائمز، جو اپنی ادارتی خودمختاری پر فخر کرتا ہے اور اپنے ہاں دو ہزار سے زیادہ صحافیوں کی خدمات حاصل ہونے کا ذکر کرتا ہے، اب خبریں اور ادارتی مواد فراہم کرنے کے لیے بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی بیرونی غیر منافع بخش تنظیموں پر زیادہ انحصار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دعویٰ صحافت کے اس بنیادی سوال کو سامنے لاتا ہے کہ جب کوئی بڑا تجارتی میڈیا ادارہ بیرونی تنظیموں سے مواد حاصل کرے تو اس کی ادارتی آزادی، ترجیحات اور جواب دہی کس طرح برقرار رہتی ہے۔
مصنف آئرا اسٹول کے مطابق، اس رجحان کی تازہ مثال اکنامک ہارڈشپ رپورٹنگ پروجیکٹ کی ایک تحریر ہے، جسے نیویارک ٹائمز میں شائع کیا گیا۔ اس رپورٹ میں مالی مشکلات کی کہانیاں شامل کی گئیں، جن میں ایک ایسی شخصیت بھی ہے جس کے گھرانے کی سالانہ آمدنی3لاکھ15ہزار ڈالر بتائی گئی، مگر اس کے باوجود اس نے اپنے بچوں کو کسی ممتاز کالج میں تعلیم دلانے کی امید چھوڑ دینے کا ذکر کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مضمون میں معاشی عدم تحفظ کے اثرات بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ معاشی بے یقینی کو ختم کرنا مشکل ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کی امید یا کم از کم استحکام کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے۔ زندگی کے مختلف مراحل میں چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری نہ ہونے کا مجموعی اثر یہ ہوتا ہے کہ امریکیوں کو اپنی زندگی کی کہانی پہلے جیسی بامعنی محسوس نہیں ہوتی۔ اسٹول اس پیش کش پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا ایسے افراد کی مشکلات کو عام امریکی گھرانوں کی معاشی پریشانیوں کی نمائندہ تصویر کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے۔
آؤٹ لا اوشن پروجیکٹ اور عطیہ دہندگان کا کردار
مصنف نیویارک ٹائمز میگزین کے اتوار کے سرورق پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیتے ہیں، جس میں فارموں پر پالی جانے والی سالمن مچھلیوں سے آلودگی پیدا ہونے کے خدشات اجاگر کیے گئے تھے۔ اس رپورٹ کا کریڈٹ آؤٹ لا اوشن پروجیکٹ کو دیا گیا، جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے مطابق، اس کے بڑے عطیہ دہندگان میں بلومبرگ اوشن فنڈ، اوشنز فائیو، اوک فاؤنڈیشن، پیکارڈ فاؤنڈیشن، 11th Hour Racing Charitable اور دی شمٹ فیملی فاؤنڈیشن سمیت متعدد ادارے شامل ہیں۔
اسٹول نشاندہی کرتے ہیں کہ مائیکل بلومبرگ ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار اور اس جماعت کے بڑے مالی معاون رہے ہیں۔ وہ اوشنز فائیو کے مالی انتظامی سرپرست ادارے راکفیلر فلانتھراپی ایڈوائزرز کا بھی ذکر کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک نگران رپورٹ نے راکفیلر سے وابستہ خیراتی اداروں کے نیٹ ورک کو انتہائی بائیں بازو کے حلقوں سے جوڑا ہے۔ یہ سیاسی اور مالی روابط مصنف کی تنقید کا حصہ ہیں، تاہم کسی عطیہ دہندہ کے سیاسی رجحان سے بذاتِ خود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی مالی معاونت سے تیار ہونے والا صحافتی مواد لازماً جانبدار ہے۔
بدھ کے روز نیویارک ٹائمز نے اپنے رائے کے شعبے میں ایک ملٹی میڈیا فیچر بھی شائع کیا، جسے اکنامک ہارڈشپ رپورٹنگ پروجیکٹ کی ادارتی ڈائریکٹر الیسا کوارٹ نے تیار کیا تھا۔ اس طرح اسٹول کے مطابق، اخبار کے مختلف حصوں میں بیرونی غیر منافع بخش اداروں سے وابستہ صحافتی مواد کی موجودگی نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔
فاؤنڈیشنز کی مالی معاونت اور میڈیا کی ترجیحات
اکنامک ہارڈشپ رپورٹنگ پروجیکٹ کو مبینہ طور پر بائیں بازو سے وابستہ عطیہ دہندگان کی مالی معاونت حاصل ہے، جن میں جارج اور الیگزینڈر سوروس کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز، پیئر امیدیار کا امیدیار نیٹ ورک اور فورڈ فاؤنڈیشن شامل ہیں۔ اسٹول فورڈ فاؤنڈیشن کے سابق سربراہ ڈیرن واکر کا ذکر بھی کرتے ہیں، جن کی نیویارک ٹائمز کے مضامین میں موجودگی پر وہ سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق، واکر کو بعض اوقات ایسے موضوعات پر بھی اخبار میں جگہ دی گئی جن سے ان کا براہِ راست تعلق واضح نہیں تھا۔
فورڈ فاؤنڈیشن، جس کی قیادت اب ییل لا اسکول کی سابق ڈین ہیدر گیرکن کر رہی ہیں، نے اسی ماہ مالی معاونت کے سات نئے شعبوں کا اعلان کیا، جن میں معلومات کا شعبہ بھی شامل ہے۔ فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں شکایت کی کہ معتبر ذرائع ابلاغ کی آوازیں شور میں دب جاتی ہیں، اور کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے والے صحت مند اطلاعاتی اور میڈیا ماحول کے لیے کام کرنے کا موقع موجود ہے۔ اس کے مؤقف کے مطابق، اطلاعات کو عوامی مفاد کی ایک اہم خدمت سمجھنے کا وقت آ گیا ہے۔
اسٹول اس تصور پر تنقید کرتے ہیں کہ خیراتی اداروں کی مالی معاونت سے صحافت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے، اور سوال اٹھاتے ہیں کہ جب بڑے میڈیا ادارے اپنی تجارتی حیثیت اور منافع بخش کاروباری ماڈل پر فخر کرتے ہیں تو پھر وہ اپنی نیوز روم سرگرمیوں کے لیے فاؤنڈیشنوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کی مدد کیوں حاصل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ معاملہ محض مالی معاونت کا نہیں بلکہ ادارتی ترجیحات، شفافیت اور قارئین کے اعتماد کا بھی ہے۔
معاشی مشکلات کی کہانیاں اور طبقاتی سوال
مصنف کے مطابق، الیسا کوارٹ طویل عرصے سے امریکی معاشرے میں سماجی ترقی اور معاشی خوش حالی کے روایتی تصور پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ ان کی تحریروں میں اس خیال پر تنقید کی گئی ہے کہ محنت، تعلیم اور بہتر ملازمت کے ذریعے ہر شخص لازماً معاشی استحکام حاصل کر سکتا ہے۔ اسٹول کے نزدیک نیویارک ٹائمز کا تازہ انٹرایکٹو فیچر اس بحث کو ایک ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جو ان کے خیال میں طنز کا پہلو بھی رکھتا ہے۔
اس فیچر میں ڈانا رینالڈز نامی38سالہ خاتون کی مثال دی گئی، جن کے گھرانے کی سالانہ آمدنی دو لاکھ سے ڈھائی لاکھ ڈالر کے درمیان بتائی گئی۔ وہ نیواڈا کے شہر رینو میں ایک بچے کے ساتھ رہتی ہیں اور اپنے ابتدائی گھر سے بہتر رہائش میں منتقل ہونے کی امید چھوڑ دینے کا ذکر کرتی ہیں۔ اسٹول اس مثال کو اخبار کی جانب سے معاشی مشکلات کے تصور کو وسیع انداز میں پیش کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایک اور مثال زو ٹیمکو کی ہے، جن کی عمر32سال بتائی گئی اور جو میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں سالانہ ایک لاکھ30ہزار ڈالر کماتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبے میں تعلیم حاصل کی، ایم آئی ٹی سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور اچھی ملازمت بھی حاصل کی۔ ان کے مطابق، انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر وہ یہ تمام مراحل مکمل کر لیں تو اپنا گھر خرید سکیں گی اور زندگی اپنی جگہ پر آ جائے گی، مگر ایسا نہیں ہوا اور وہ اب بھی اپارٹمنٹ میں رہ رہی ہیں۔
اسٹول کا استدلال ہے کہ ان مثالوں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشی مشکلات کو کس پیمانے پر جانچا جانا چاہیے۔ زیادہ آمدنی رکھنے والے گھرانوں کو بھی رہائش، تعلیم اور دیگر اخراجات کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن ان کے مسائل کو کم آمدنی والے خاندانوں کی مشکلات کے برابر قرار دینے کے لیے آمدنی، اخراجات، قرضوں، اثاثوں اور مقامی حالات کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔
سالانہ3لاکھ15ہزار ڈالر آمدنی والا گھرانہ
اسٹول کے مضمون میں سب سے زیادہ زیرِ بحث مثال فلاڈیلفیا کی جل گرووی کی ہے، جن کے گھرانے کی سالانہ آمدنی3لاکھ15ہزار ڈالر بتائی گئی۔ واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسٹول لکھتے ہیں کہ ان کے شریکِ حیات میٹ رے ٹیمپل یونیورسٹی میں عمرانیات کے پروفیسر اور شعبۂ عمرانیات کے سربراہ ہیں۔ رے نے سن2000میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے نسلی مطالعات میں پی ایچ ڈی کی تھی۔
وفاقی انتخابی مالیات کے ریکارڈ کے مطابق، میٹ رے نے2020کے صدارتی انتخاب میں سوشلسٹ امیدوار برنی سینڈرز کی مہم کو604ڈالر عطیہ کیے تھے۔ اسٹول یہ بھی لکھتے ہیں کہ نومبر2025کے ایک وفاقی ریکارڈ میں گرووی کا پیشہ اور ادارہ ’’ملازمت نہیں‘‘ درج تھا۔ ان معلومات کو سامنے رکھتے ہوئے مصنف اس رپورٹ کے انتخاب اور اس میں معاشی مشکلات کی تصویر کشی پر تنقید کرتے ہیں۔ تاہم، کسی فرد کی آمدنی، ملازمت کی صورتِ حال یا سیاسی عطیات بذاتِ خود اس کی معاشی مشکلات کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔
اسٹول کے مضمون کا ایک اور حصہ گرووی کی اسرائیل سے متعلق تحریر پر مرکوز ہے، جو2024میں شکاگو ٹریبیون میں شائع ہوئی اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں بھی سامنے آئی۔ اس تحریر میں گرووی نے لکھا تھا کہ7اکتوبر کے بعد کے ہفتوں میں انہوں نے اسرائیل کے قیام کی تاریخ اور اس کے بارے میں اپنے سابقہ فہم پر دوبارہ غور شروع کیا۔ انہوں نے اسے اپنے عقیدے سے متعلق ایک بحران سے تشبیہ دی اور کہا کہ حماس کے حملے نے انہیں اسرائیل کے قیام کے بارے میں ایک مختلف تاریخی بیانیے پر غور کرنے کی طرف مائل کیا۔
گرووی نے اپنی تحریر میں مؤرخ راشد خالدی کے کام کا ذکر کرتے ہوئے فلسطینیوں کی بے دخلی، اسرائیل کے دفاع کے حق اور فلسطینی مزاحمت کے تناظر پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ امریکی یہودیوں کی تعلیم و تربیت میں اسرائیل کی تاریخ کے بارے میں مخصوص بیانیے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ اسٹول اس مؤقف کو اسرائیل مخالف قرار دیتے ہیں اور اسے نیویارک ٹائمز کے معاشی مشکلات سے متعلق فیچر کے انتخاب پر اپنی تنقید سے جوڑتے ہیں۔
یہاں دو الگ سوال سامنے آتے ہیں:ایک، کسی مضمون میں شامل افراد کے معاشی حالات کس حد تک اس موضوع کی نمائندگی کرتے ہیں؛ اور دوسرا، ان افراد کے سیاسی یا نظریاتی خیالات کو ان کی کہانیوں کی اشاعت کے فیصلے سے کس طرح جوڑا جا سکتا ہے۔ ان سوالات کا جواب دینے کے لیے ادارتی معیار، مواد کے انتخاب کے اصول اور مضمون کی تحقیق کا جائزہ ضروری ہے، نہ کہ صرف کسی فرد کے سیاسی خیالات یا ذاتی پس منظر کو بنیاد بنایا جائے۔
بائی لائن میں ناموں کی کثرت اور ادارتی جواب دہی
نیویارک ٹائمز کے اس منصوبے میں نو مزید افراد کے نام بطور معاون شامل کیے گئے:جولی ہو، تینزِن ڈی۔ تساغونگ، ٹم ڈیوس، آنہ نگوین، مہر احمد، آنا بیکر، ربیکا چیو، جیسی وینڈر اور ایڈم فیرس۔ اسٹول اس صورتِ حال کو طنزیہ انداز میں ’’بائی لائن میں نام بڑھانے کا اصول‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول، کسی صحافتی تحریر کی ساکھ اس کے ساتھ درج صحافیوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔
یہ مصنف کا طنزیہ تبصرہ ہے، کوئی تسلیم شدہ صحافتی اصول نہیں۔ بڑے ملٹی میڈیا منصوبوں میں متعدد افراد تحقیق، ڈیٹا، ڈیزائن، انٹرویوز اور تحریر کے مختلف حصوں پر کام کر سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہر فرد نے کیا کردار ادا کیا، مواد کی تصدیق کس نے کی اور ادارتی فیصلوں کی ذمہ داری کس کے پاس تھی۔ واضح کریڈٹ اور شفاف ذمہ داری صحافتی اعتماد کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کا کاروباری ماڈل اور خیراتی معاونت
اسٹول یاد دلاتے ہیں کہ نیویارک ٹائمز ایک منافع بخش کمپنی کے تحت شائع ہوتا ہے، جس پر اوکس۔سلزبرگر خاندان کا کنٹرول ہے۔ ان کے مطابق، نیویارک ٹائمز کمپنی نے2022میں مارشیا پارکر کو کل وقتی ’’ڈائریکٹر آف فلانتھراپک پارٹنرشپس‘‘ مقرر کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق، اس عہدے کا مقصد اس ٹیم کی قیادت کرنا تھا جو2019میں قائم کی گئی اور جسے فاؤنڈیشنوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے اشتراک سے نیوز روم کے اقدامات تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔
مصنف کے نزدیک یہ صورتِ حال ایک تضاد پیدا کرتی ہے:ایک طرف اخبار سرمایہ کاروں اور مالیاتی منڈیوں کے سامنے اپنے کاروبار کی مضبوطی بیان کرتا ہے، جب کہ دوسری طرف نیوز روم کے منصوبوں کے لیے خیراتی اداروں سے مالی معاونت بھی حاصل کرتا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ اگر سوروس، امیدیار، بلومبرگ یا ہیدر گیرکن جیسے عطیہ دہندگان اوکس۔سلزبرگر خاندان کے زیرِ کنٹرول کاروبار کو خیراتی رقوم سے مدد دینا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اختیار ہے، لیکن اس کا ممکنہ نقصان قارئین اور دوسرے حصص داروں کو ہو سکتا ہے، اگر اس عمل سے صحافت کی آزادانہ قدر متاثر ہو۔
اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بیرونی مالی معاونت حاصل کرنا لازماً صحافتی جانبداری کا ثبوت نہیں، لیکن اس سے شفافیت اور ادارتی خودمختاری کے بارے میں جائز سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ قارئین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کسی رپورٹ کی مالی معاونت کہاں سے آئی، مواد کے انتخاب میں کس کا کردار تھا، عطیہ دہندگان کو ادارتی فیصلوں پر کوئی اختیار حاصل تھا یا نہیں، اور خبر یا رائے کے مواد کی تصدیق کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کیا گیا۔
نیویارک ٹائمز اور دوسرے بڑے میڈیا اداروں کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ بیرونی شراکت داریوں سے حاصل ہونے والے وسائل کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور اس بات کو کیسے یقینی بناتے ہیں کہ مالی معاونت خبر کے انتخاب، تجزیے اور اداریے کی سمت متعین نہ کرے۔ اسی طرح قارئین کو بھی کسی رپورٹ کا جائزہ لیتے وقت اس کے شواہد، طریقۂ تحقیق، نمائندگی اور ادارتی وضاحت کو دیکھنا چاہیے۔
آئرا اسٹول کی تنقید ایک بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتی ہے:جب صحافت کے لیے سرمایہ، خیراتی عطیات اور غیر منافع بخش اداروں کی شراکت داری بڑھتی ہے تو خبر کی آزادی اور عوامی اعتماد کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟ اس کا جواب محض عطیہ دہندگان کی سیاسی شناخت میں نہیں، بلکہ شفاف مالیاتی انکشافات، واضح ادارتی اصولوں، قابلِ تصدیق تحقیق اور قارئین کے سامنے جواب دہی میں پوشیدہ ہے۔
