فرینک وولف کی برمی فوج پر تنقید، مسیحیوں کے خلاف ظلم اور لابنگ معاہدے کی مذمت
امریکی مذہبی آزادی ایوارڈ تقریب میں برما کی مسیحی برادریوں کے تحفظ اور واشنگٹن میں فوجی اثرورسوخ کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ
امریکی کانگریس کے سابق رکن اور بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نمایاں حامی فرینک وولف نے برما کی فوج پر مسیحی برادریوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات اور واشنگٹن میں تعلقات استوار کرنے کے لیے مبینہ طور پر سالانہ تین ملین ڈالر کے لابنگ معاہدے پر تنقید کی ہے۔ ان کے یہ خیالات27اکتوبر2026کو ریاست ورجینیا کے شہر فالز چرچ میں منعقدہ فرینک وولف انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم ایوارڈ پروگرام کے دوران سامنے آئے۔
یہ تقریب21WILBERFORCEکی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر برما میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات اور امریکہ میں مقیم بپٹسٹ برادری کے رہنما بھی شریک تھے۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے قانون کی اہمیت
فرینک وولف نے1998کے انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم ایکٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ قانون27اکتوبر1998کو اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے منظور کیا تھا۔ اس قانون نے مذہبی آزادی کو امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں مقام دینے اور دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایک اہم قانونی بنیاد فراہم کی۔
وولف طویل عرصے سے مذہبی آزادی اور مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کا سامنا کرنے والے افراد کے حقوق کے حامی رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان میں برما کی مسیحی آبادیوں کو درپیش خطرات اور اس معاملے پر امریکی پالیسی کے کردار کو نمایاں کیا گیا۔
برمی فوج اور واشنگٹن میں لابنگ معاہدہ
تقریب کے دوران وولف نے برمی فوج کے واشنگٹن ڈی سی میں قائم لابنگ فرم DCI Group کے ساتھ مبینہ طور پر سالانہ تین ملین ڈالر کے معاہدے پر اعتراض اٹھایا۔ فراہم کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنا بتایا گیا ہے۔
وولف نے اس معاملے کو برما میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں، خصوصاً مسیحی برادریوں کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات کے تناظر میں اٹھایا۔ ان کے مؤقف کے مطابق، ایسے حالات میں امریکی لابنگ کے ذریعے اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوششوں پر کانگریس کو توجہ دینی چاہیے۔

زو تم ہمنگ کا اظہارِ تشکر، قانون سازی کا مطالبہ
وولف کے خطاب کے بعد برما ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو زو تم ہمنگ نے برما کے مسیحیوں کی صورتِ حال کو اجاگر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ ایسی قانون سازی کی جائے جو برمی فوج کو امریکی لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کرنے سے روکے۔
برما ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ کے چیئرمین اور امریکن بپٹسٹ چرچز یو ایس اے کے سابق ایسوسی ایٹ جنرل سیکریٹری ریورنڈ ڈاکٹر رابن اسٹوپس نے بھی وولف کے کردار کو سراہا۔
ڈاکٹر رابن اسٹوپس کے مطابق، فرینک وولف کئی دہائیوں سے مذہبی ظلم و ستم کا شکار افراد کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برمی فوج کو واشنگٹن میں اثرورسوخ خریدنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے، جب کہ اس پر گرجا گھروں پر بمباری اور مذہبی برادریوں کو خوف زدہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول، کانگریس کو اس راستے کو بند کرنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔

امریکی مذہبی آزادی کمیشن کی2026کی سفارش
یہ مطالبہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی(USCIRF)کی2026کی سالانہ رپورٹ میں شامل ایک سفارش سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق، مارچ2026میں جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کانگریس سے کہا گیا تھا کہ وہ ایسی قانون سازی متعارف کرائے اور منظور کرے جو برمی فوج، جسے تتماڈاو(Tatmadaw)بھی کہا جاتا ہے، کو امریکی لابنگ فرموں کی خدمات استعمال کرنے سے روکے۔
رپورٹ میں اس اقدام کو برمی فوج کو مبینہ جرائم کے احتساب سے بچنے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے لابنگ کے استعمال سے روکنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا۔ برما ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے رپورٹ کے اجرا کے وقت اس سفارش کا خیرمقدم کیا تھا۔
یہ مطالبہ بنیادی طور پر اس سوال کو سامنے لاتا ہے کہ امریکی حکومت اور کانگریس کو ایسے غیر ملکی اداروں کے ساتھ کس نوعیت کا معاملہ کرنا چاہیے جن پر مذہبی آزادی یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوں۔
مذہبی رہنماؤں کا وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو خط
پریس ریلیز کے مطابق،19اکتوبر2026کو انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم سیکریٹریٹ نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کی جانب سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو ایک مشترکہ خط بھیجا۔ خط میں ان سے برما میں ظلم و ستم کا سامنا کرنے والے مسیحیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی۔
یہ خط اور فرینک وولف کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برما میں مذہبی آزادی کا مسئلہ امریکی مذہبی آزادی کے حامیوں، انسانی حقوق کے اداروں اور مختلف مذہبی برادریوں کے لیے ایک اہم تشویش بنا ہوا ہے۔

2026 کا فرینک وولف مذہبی آزادی ایوارڈ
اس سال کا ایوارڈ ریورنڈ ڈاکٹر اے رائے میڈلی کو پیش کیا گیا، جو برما ایڈووکیسی گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ تقریب میں ڈاکٹر رابن اسٹوپس، زو تم ہمنگ اور امریکہ میں مقیم چن، کاچن اور کارین برادریوں سے تعلق رکھنے والے بپٹسٹ رہنما بھی شریک ہوئے۔
ایوارڈ کا مقصد اور تقریب کا موضوع مذہبی آزادی کے دفاع، انسانی حقوق کے تحفظ اور ظلم و ستم سے متاثرہ برادریوں کی حمایت کے لیے کام کرنے والی شخصیات کی خدمات کو نمایاں کرنا تھا۔
برما ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کیا ہے؟
برما ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(BRI)امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے شہر ایلیکاٹ سٹی میں قائم ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے، جو امریکی قانون کے تحت501(c)(3)تنظیم کے طور پر کام کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق، اس کی سرگرمیوں میں تحقیق، وکالت، مذہبی آزادی یا عقیدے کی آزادی، انسانی حقوق اور برما میں پناہ گزینوں اور اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد کے تحفظ اور امداد سے متعلق کام شامل ہیں۔
یہ ادارہ پہلے چن ایسوسی ایشن آف میری لینڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کے مطابق، یہ میری لینڈ اور امریکہ کے دیگر علاقوں میں مقیم چن برادری کو امریکی معاشرے میں کامیاب انضمام کے لیے بااختیار بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔
میڈیا رابطہ
نام: زو تم ہمنگ (Zo Tum Hmung)
موبائل: 443-936-8616
ای میل: zotumhmung@burmari.org
ویب سائٹ: www.burmari.org
ماخذ: برما ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی فراہم کردہ پریس ریلیز۔
