7 اکتوبر:تین سال، سوگ بھی جاری، مزاحمت بھی
تین برس گزر گئے، مگر زخم ابھی تازہ ہیں، یادیں ابھی زندہ ہیں اور ایک قوم اب بھی اپنے مقتولوں، مغویوں اور اپنے وجود کے دفاع کی داستان سنبھالے کھڑی ہے۔
7 اکتوبر کو تین سال مکمل ہو گئے، مگر اس دن کی صبح آج بھی اسرائیل کی اجتماعی یادداشت میں اسی شدت کے ساتھ موجود ہے۔ صبح6بج کر29منٹ پر سائرن بجے تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں ملک ایک ایسے سانحے سے گزرنے والا ہے جس نے اس کی تاریخ، سلامتی کے تصور اور اجتماعی شعور کو ہمیشہ کے لیے بدل دینا تھا۔ تقریباً1,200افراد مارے گئے اور250سے زیادہ لوگوں کو زبردستی غزہ لے جایا گیا۔ نووا میوزک فیسٹیول میں نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا، خاندانوں کو ان کے گھروں میں قتل کیا گیا اور متعدد مقامات پر ایسی ہولناک کارروائیاں ہوئیں جن کی یاد آج بھی ناقابلِ بیان دکھ اور غم پیدا کرتی ہے۔
تین برس بعد اسرائیل اس دن کو صرف ایک قومی سانحے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی یاد کے طور پر منا رہا ہے جس میں غم، سوال، عزم اور بقا کی خواہش سب ایک ساتھ موجود ہیں۔ ریاستی سطح پر تقریبات منعقد ہوئیں، خاندان اپنے پیاروں کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے اور ان لوگوں کے نام دہرائے گئے جو7اکتوبر کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ ماؤنٹ ہرزل پر ہونے والی یادگاری تقریب میں صدر اسحاق ہرزوگ سمیت ملک کی قیادت نے ان جانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہیں اس دن چھین لیا گیا تھا۔
وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز اور آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر سمیت فوجی اور سیاسی قیادت نے بھی اس دن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ریئم میں یادگار تقریبات اور دیگر مقامات پر ہونے والی اجتماعی یاد دہانیوں نے یہ واضح کیا کہ7اکتوبر صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو پورے معاشرے کے اندر موجود ہے۔ گانی یِہوشوا پارک میں ہونے والی یادگاری سرگرمیوں سے لے کر متاثرہ خاندانوں کی ذاتی دعاؤں تک، ہر جگہ ایک ہی سوال گونجتا رہا کہ ایسا کیسے ہوا اور اسے دوبارہ ہونے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
سوال صرف حملے کا نہیں، ناکامی کا بھی ہے
7 اکتوبر کے بعد اسرائیل میں صرف بیرونی دشمن کے بارے میں سوالات نہیں اٹھے بلکہ ملک کے اپنے دفاعی اور انٹیلی جنس نظام پر بھی گہری نظر ڈالی گئی۔ ایسے شواہد سامنے آئے کہ ایک انٹیلی جنس تجزیہ کار نے ممکنہ خطرے کے بارے میں خبردار کیا تھا، مگر اس انتباہ کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا وہ مستحق تھا۔ اس واقعے نے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کو اپنی ساخت، طریقۂ کار اور فیصلہ سازی کے عمل پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کیا۔
اسرائیلی فوج نے اس سانحے سے سبق حاصل کرنے کے لیے نئے تربیتی پروگرام اور ادارہ جاتی تبدیلیاں بھی شروع کی ہیں۔ ایک نئے آئی ڈی ایف اسکول کا قیام اسی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد مستقبل کے فوجی کمانڈروں کو اس نوعیت کے خطرات کو سمجھنے، ان کا بروقت اندازہ لگانے اور کسی بھی ممکنہ حملے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں ردعمل دینے کے لیے تیار کرنا ہے۔
تاہم7اکتوبر کو صرف ایک اچانک ردعمل یا کسی پہلے سے جاری تنازعے کی ایک اور کڑی قرار دینا اس واقعے کی نوعیت کو کم کر دیتا ہے۔ یہ ایک منظم اور منصوبہ بند قتلِ عام تھا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر شہریوں کو نشانہ بنانا، خوف پیدا کرنا اور اسرائیلی معاشرے کو شدید صدمے سے دوچار کرنا تھا۔ اسی لیے اسرائیل میں اس دن کو محض جنگ کے آغاز کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے حملے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے شہریوں کی زندگی کے بنیادی احساسِ تحفظ کو چیلنج کر دیا۔
جواب انتقام نہیں، بقا کی جنگ ہے
اسرائیلی موقف یہ ہے کہ اس کے بعد کی فوجی کارروائی محض انتقام کے جذبے سے نہیں بلکہ ملک کے دفاع اور اپنے شہریوں کو دوبارہ ایسے حملے سے محفوظ رکھنے کی کوشش کے طور پر شروع کی گئی۔7اکتوبر کے بعد سامنے آنے والے واقعات نے اسرائیل کے لیے یہ سوال مزید اہم بنا دیا کہ ایک ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کیسے یقینی بنائے، جب اس کی سرحد کے قریب ایک ایسی مسلح تنظیم موجود ہو جو اس کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر چکی ہو۔
اسی پس منظر میں دنیا بھر میں موجود اسرائیلی اور یہودی برادریاں بھی7اکتوبر کو محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ موجودہ خطرات اور مستقبل کی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھ رہی ہیں۔ دبئی سے آنے والی فلائی دبئی کی پرواز پر حملے جیسے واقعات نے بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اب صرف ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
یاد رکھنا بھی مزاحمت ہے۔ ایک نام یاد رکھنا، ایک خاندان کے دکھ کو سمجھنا اور ایک مقتول کی زندگی کو محض ایک اعداد و شمار میں تبدیل نہ ہونے دینا اس اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے جسے وقت مٹا نہیں سکتا۔
دنیا کے نام ایک اپیل
7 اکتوبر کی تیسری برسی پر یورپ اور امریکا سمیت دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اس دن کو خاموشی سے گزرنے نہ دیں۔ ایک شمع روشن کریں،7اکتوبر کے متاثرین میں سے کسی ایک کا نام یاد کریں، ان کے خاندانوں کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنی مقامی یہودی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔ یہ اقدامات کسی سیاسی تنازعے کا حل نہیں، لیکن یہ اس بنیادی انسانی اصول کی یاد دہانی ضرور ہیں کہ بے گناہ انسانوں کی جان کسی بھی سیاسی مقصد سے زیادہ قیمتی ہے۔
تین برس بعد بھی بہت سے خاندان اپنے پیاروں کے انتظار، یاد اور غم کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ بہت سے سوالات ابھی باقی ہیں، بہت سے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے اور بہت سی کہانیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ مگر اس سب کے باوجود ایک قوم اپنے مقتولوں کو یاد کرتے ہوئے، اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے اور اپنی بقا کے لیے کھڑی ہے۔
7 اکتوبر کی یاد کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود یادداشت کمزور نہ پڑے۔ تاریخ کو فراموش کرنا صرف ماضی کو بھولنا نہیں ہوتا بلکہ مستقبل کے لیے سبق کھو دینا بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے ان لوگوں کے نام یاد رکھنا ضروری ہے جن کی زندگیاں اس دن ختم ہوئیں، ان خاندانوں کے دکھ کو تسلیم کرنا ضروری ہے جن سے ان کے پیارے چھین لیے گئے اور اس عزم کو زندہ رکھنا ضروری ہے کہ ایسے سانحات دوبارہ نہ دہرائے جائیں۔
Am Yisrael Chai
ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔
ہم کبھی معاف نہیں کریں گے۔
اور ہم کبھی رکیں گے نہیں۔

