پاکستان فٹبال کا ’’جوائے رائیڈ کلچر‘‘
آسیان کپ میں مکمل ناکامی
انڈونیشیا میں ایک پوائنٹ،10گول کے خلاف اور پھر ’’بہتری‘‘ کا فلسفہ
پاکستان فٹبال کی حالت بھی عجیب ہے۔ ٹیم میدان میں ہارتی ہے، انتظامیہ وضاحتیں دیتی ہے، کوچ ’’مثبت پہلو‘‘ تلاش کرتا ہے اور شائقین سے کہا جاتا ہے کہ مستقبل روشن ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ یہ مستقبل آخر کب آئے گا؟
فیفا آسیان کپ2026میں پاکستان کی مہم اختتام پذیر ہوچکی ہے۔ تین میچ، دو شکستیں، ایک ڈرا، صرف ایک پوائنٹ، چار گول کیے اور دس گول کھائے۔ تھائی لینڈ نے4-0سے شکست دی، فلپائن کے خلاف پاکستان نے2-2سے مقابلہ برابر کیا، جبکہ آخری میچ میں ویتنام نے4-2سے شکست دے کر پاکستانی مہم کا خاتمہ کردیا۔

یہ اعداد و شمار کسی ’’شاندار پیش رفت‘‘ کی داستان نہیں سناتے۔
لیکن پاکستان فٹبال میں شاید شکست کے بعد بھی کامیابی تلاش کرنے کا ایک نیا فن ایجاد ہوچکا ہے۔
اسی لیے انڈونیشیا کے اس دورے کو ’’تفریحی دورہ‘‘ یا جوائے رائیڈ کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
قومی ٹیم یا سفری قافلہ؟
سوال یہ نہیں کہ قومی ٹیم بیرونِ ملک کیوں گئی۔
سوال یہ ہے کہ کس مقصد کے لیے گئی، کس تیاری کے ساتھ گئی اور کس ترجیح کے تحت گئی؟
دنیا کی سنجیدہ فٹبال ٹیمیں جب کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں جاتی ہیں تو ان کے ساتھ ایک واضح تکنیکی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ کوچنگ اسٹاف، فزیوتھراپسٹ، فٹنس ماہرین، ویڈیو اور پرفارمنس اینالسٹ، میڈیکل سپورٹ، ویلفیئر اور دیگر ضروری معاون عملہ ٹیم کی کارکردگی کا حصہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قومی ٹیم کے ساتھ جانے والے افراد کی تعداد اور نوعیت پر انگلیاں اٹھیں، مگر دوسری طرف ضروری تکنیکی عملے کی موجودگی ہی زیرِ بحث آجائے۔
اگر قومی ٹیم کے کسی دورے میں ضروری اسٹاف کم اور غیر ضروری افراد زیادہ ہوں تو پھر یہ سوال پوچھنا حق ہے:
قومی ٹیم کھیلنے گئی تھی یا سفری وفد تشکیل دینے؟
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ’’جوائے رائیڈ‘‘ کی اصطلاح جنم لیتی ہے۔
پہلے ہاف کا پاکستان اور دوسرے ہاف کا پاکستان
ویتنام کے خلاف میچ اس پوری کہانی کا بہترین خلاصہ تھا۔
پہلے ہاف میں پاکستان نے دکھایا کہ صلاحیت موجود ہے۔
محب اللہ نے31ویں منٹ میں گول کیا۔ پاکستانی دفاع نے دباؤ برداشت کیا، مواقع پیدا ہوئے اور ایک ایسے حریف کے خلاف برتری حاصل ہوئی جو عالمی رینکنگ میں پاکستان سے کہیں اوپر ہے۔
اس وقت سوال یہ نہیں تھا کہ پاکستان جیتے گا یا نہیں۔
سوال یہ تھا کہ:کیا پاکستان ایک بڑا اپ سیٹ کرسکتا ہے؟

لیکن وقفے کے بعد وہی پاکستان نظر نہیں آیا۔
ویتنام نے رفتار بڑھائی، پاکستان تھکنے لگا، دفاعی لائن میں خلا پیدا ہوئے اور کھیل کا کنٹرول ہاتھ سے نکل گیا۔ ویتنام نے ایک کے بعد ایک گول کیا اور بالآخر مقابلہ4-2سے جیت لیا۔
کلیم اللہ خان نے88ویں منٹ میں دس سال بعد بین الاقوامی گول کرکے ایک جذباتی لمحہ ضرور پیدا کیا، مگر آخری سیٹی نے پھر وہی سوال چھوڑ دیا:
پاکستان90منٹ کیوں نہیں کھیل سکتا؟
کوچ کا اطمینان اور شائقین کی بے چینی
ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو نے شکست کے باوجود ٹیم میں بہتری کے آثار دیکھے۔
ان کے مطابق فیفا رینکنگ کو زیادہ اہمیت دینے کے بجائے مضبوط ٹیموں کے خلاف کھیل کر اپنی اصل پوزیشن سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دوسرے ہاف میں پاکستانی کھلاڑی تھکنے لگے اور ویتنام کے پاس زیادہ توانائی تھی۔
کوچ کا تجزیہ اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے۔
مگر یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر کوچ خود تسلیم کررہا ہے کہ ٹیم90منٹ کی شدت برقرار نہیں رکھ سکی تو پھر یہ مسئلہ کب حل ہوگا؟
ایک ٹورنامنٹ میں شکست کو تجربہ کہا جاسکتا ہے۔
دو ٹورنامنٹس میں شکست کو عمل کا حصہ کہا جاسکتا ہے۔
لیکن برسوں تک یہی مسئلہ برقرار رہے تو پھر اسے ’’تجربہ‘‘ نہیں، نظامی ناکامی کہنا پڑتا ہے۔

ڈائسپورا:حل یا وقتی سہارا؟
پاکستانی ٹیم میں یورپ اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں۔
یہ کھلاڑی اگر میرٹ پر منتخب ہوں، فٹ ہوں اور قومی ٹیم کی ضرورت پوری کرتے ہوں تو ان کی شمولیت میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے:
کیا ڈائسپورا کھلاڑی پاکستان کے فٹبال نظام کا متبادل بن سکتے ہیں؟
جواب واضح ہے:نہیں۔
اگر غیر ملکی لیگز میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود قومی ٹیم تین میچوں میں صرف ایک پوائنٹ حاصل کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف کھلاڑیوں کا نہیں۔
مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہے۔
پاکستان کو ڈائسپورا سے جان چھڑانے کی نہیں بلکہ ڈائسپورا پر انحصار ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
مقامی فٹبال مضبوط ہوگا، نیشنل لیگ ہوگی، کلب فعال ہوں گے، نوجوانوں کے مستقل مقابلے ہوں گے تو ڈائسپورا کھلاڑی قومی ٹیم کی طاقت بنیں گے، اس کا سہارا نہیں۔
دو سال بعد بھی بنیادی سوال وہی
موجودہ پی ایف ایف انتظامیہ کو اقتدار سنبھالے تقریباً دو سال ہونے کو ہیں۔
لیکن آج بھی بنیادی سوالات موجود ہیں:
- نیشنل لیگ کہاں ہے؟
- مسلسل ڈومیسٹک فٹبال کہاں ہے؟
- ضلعی فٹبال کہاں ہے؟
- یوتھ ڈویلپمنٹ کا مستقل نظام کہاں ہے؟
- کوچنگ کا طویل المدتی پروگرام کہاں ہے؟
- قومی ٹیم کے لیے واضح پانچ سالہ تکنیکی منصوبہ کہاں ہے؟
اگر قومی ٹیم کی بنیاد ہی مضبوط نہیں ہوگی تو ہر چند ماہ بعد بیرونِ ملک کیمپ لگا کر، چند ڈائسپورا کھلاڑی بلا کر اور ایک غیر ملکی کوچ مقرر کرکے معجزے کی امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔

’’این سی کے بعد بھی این سی ہی‘‘
پاکستانی فٹبال کی سب سے دلچسپ اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ نارملائزیشن کمیٹی کا دور ختم ہوگیا، انتخابات ہوگئے، نئی انتظامیہ آگئی، مگر فٹبال کے انتظامی نظام میں ماضی کی جھلکیاں اب بھی نظر آتی ہیں۔
پاکستان گزشتہ برسوں میں کئی مرتبہ فیفا کی پابندی کا سامنا کرچکا ہے۔2017، 2021 اور2025کے بحرانوں نے دنیا کے سامنے پاکستانی فٹبال کی انتظامی کمزوریوں کو عیاں کیا۔
2021 میں پی ایف ایف ہیڈکوارٹر پر قبضے کے نتیجے میں پاکستان طویل عرصے تک بین الاقوامی فٹبال سے دور رہا۔
2025 میں آئینی اصلاحات کے معاملے پر دوبارہ فیفا کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔
اتنے بحرانوں کے بعد کیا نظام واقعی تبدیل ہوا؟
یا صرف نام، عہدے اور کرسیوں کے چہرے بدلے؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نارملائزیشن کمیٹی کے دور سے وابستہ بعض افراد بعد میں بھی فٹبال انتظامیہ میں مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے رہے۔
یہ بذاتِ خود کسی فرد کے خلاف جرم یا الزام نہیں۔
لیکن سوال ضرور بنتا ہے:
اگر ماضی کے نظام میں خامیاں تھیں تو اس نظام سے وابستہ لوگوں کے کردار، کارکردگی اور مالی معاملات کا مکمل احتساب کیوں نہ ہو؟
دو ارب روپے کا سوال
نارملائزیشن کمیٹی کے دور میں تقریباً دو ارب روپے کے اخراجات، تیسرے فریق کے ذریعے مالی معاملات اور ریکارڈ تک رسائی سے متعلق مختلف دعوے فٹبال حلقوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔
یہاں جذبات سے زیادہ دستاویزات کی ضرورت ہے۔
اگر یہ رقم واقعی خرچ ہوئی تو حساب سامنے آنا چاہیے۔
اگر تیسرے فریق کے ذریعے رقم منتقل ہوئی تو اس کی قانونی اور انتظامی وجہ سامنے آنی چاہیے۔
اگر مالی ریکارڈ موجود ہے تو آزادانہ آڈٹ کرایا جائے۔
اور اگر کوئی الزام بے بنیاد ہے تو متعلقہ انتظامیہ دستاویزات کے ساتھ اس کی تردید کرے۔
خاموشی ہر سوال کا جواب نہیں ہوتی۔
فیفا، اے ایف سی اور پاکستان کے متعلقہ اداروں کے لیے بھی یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی فٹبال کے مالی معاملات شفاف اور قابلِ جانچ ہوں۔

کھلاڑیوں کو الزام دینا آسان ہے
پاکستانی کھلاڑیوں کو ہر شکست کے بعد تنقید کا نشانہ بنانا سب سے آسان کام ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں سال بھر کتنے اعلیٰ معیار کے مسابقتی میچ ملتے ہیں؟
ان کے لیے فٹنس پروگرام کہاں ہے؟
نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ترقی کا راستہ کہاں ہے؟
کلب فٹبال کا معیار کیا ہے؟
کوچز کی تربیت کتنی باقاعدگی سے ہوتی ہے؟
اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ایک ساتھ کھیلنے کا وقت کتنا ملتا ہے؟
ویتنام کے خلاف پاکستانی کھلاڑیوں نے پہلے ہاف میں جس جذبے کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مسئلہ صلاحیت کی مکمل عدم موجودگی نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس صلاحیت کو مسلسل کارکردگی میں تبدیل کرنے والا نظام کہاں ہے؟
’’سخت محنت‘‘ کے بیانات کب تک؟
ہر شکست کے بعد ایک نیا بیان آتا ہے:
ٹیم نے محنت کی۔
ٹیم نے سیکھا۔
ٹیم میں بہتری آئی۔
نوجوان کھلاڑیوں نے تجربہ حاصل کیا۔
مستقبل روشن ہے۔
لیکن پاکستانی فٹبال کے شائقین اب بیانات سے آگے بڑھ چکے ہیں۔
انہیں نتائج چاہیے۔
انہیں ایک مستقل لیگ چاہیے۔
انہیں اپنے شہروں میں فٹبال چاہیے۔
انہیں ضلعی مقابلے چاہیے۔
انہیں نوجوانوں کے لیے مواقع چاہیے۔
انہیں شفاف انتظامیہ چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین چاہیے کہ قومی ٹیم کا دورہ واقعی قومی ٹیم کے لیے ہے، کسی انتظامی جوائے رائیڈ کے لیے نہیں۔
اب فیصلہ میدان سے باہر ہونا ہے
انڈونیشیا میں پاکستان کی مہم ختم ہوگئی۔
پوائنٹ
گول
گول کے خلاف
اور گروپ میں آخری پوزیشن۔
یہ اعداد و شمار تلخ ضرور ہیں، مگر شاید اس سے بھی زیادہ تلخ وہ سوال ہے جو اب پاکستان فٹبال کے سامنے کھڑا ہے:
کیا ہم ہر بار شکست کے بعد صرف نیا جواز تلاش کریں گے یا ایک بار واقعی نظام تبدیل کریں گے؟
پاکستان فٹبال کو اب ’’جوائے رائیڈ‘‘ نہیں چاہیے۔
اسے روڈ میپ چاہیے۔
اسے نمائشی سرگرمیاں نہیں، مستقل ڈھانچہ چاہیے۔
اسے عہدیداروں کا بڑا وفد نہیں، میدان کے لیے مضبوط تکنیکی ٹیم چاہیے۔
اسے ڈائسپورا پر انحصار نہیں، مقامی ٹیلنٹ کی نرسری چاہیے۔
اسے پریس ریلیز نہیں، نیشنل لیگ چاہیے۔
اسے وعدے نہیں، نتائج چاہیے۔
اور اگر واقعی پاکستانی فٹبال کو ماضی کی غلطیوں سے نجات دلانی ہے تو سب سے پہلے شفافیت، احتساب اور میرٹ کو قومی فٹبال کی بنیاد بنانا ہوگا۔
ورنہ خطرہ یہی ہے کہ ایک اور ٹورنامنٹ آئے گا، ایک اور سفری وفد جائے گا، ایک اور شکست ہوگی، پھر ایک اور پریس کانفرنس ہوگی۔
اور آخر میں وہی جملہ سننے کو ملے گا:
’’ٹیم نے بہت کچھ سیکھا ہے، مستقبل میں بہتری آئے گی۔‘‘
مگر پاکستانی فٹبال کا اصل سوال یہی ہے:
آخر یہ ’’مستقبل‘‘ کب آئے گا؟

