شمالی اسرائیل میں دھماکا، نوعمر طالب علم ہلاک،24افراد زخمی
لبنانی سرحد کے قریب رامیم رج پر اسکول کے مطالعاتی دورے کے دوران دھماکا، حزب اللہ کے راکٹ سے منسلک کلسٹر گولہ بارود کا شبہ
شمالی اسرائیل میں پیر کے روز اسکول کے ایک مطالعاتی دورے کے دوران ہونے والے دھماکے میں ایک نوعمر طالب علم ہلاک اور24دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکا بالائی الجلیل کے علاقے رامیم رج میں، لبنان کی سرحد کے قریب کبوتز یفتاح کے نزدیک ہوا۔ واقعے کے بعد طبی امدادی کارکنوں، فوجی اہلکاروں اور طبی ہیلی کاپٹروں پر مشتمل بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر کہا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا آلہ غالباً کلسٹر گولہ بارود کا ایک ذیلی دھماکا خیز حصہ تھا، جس کا تعلق حزب اللہ کے ایک راکٹ سے ہو سکتا ہے اور جو علاقے میں پہلے سے موجود تھا۔ اس واقعے نے جنگ کے دوران استعمال ہونے والے مگر پھٹنے سے رہ جانے والے گولہ بارود اور شمالی اسرائیل میں پیدل سفر کے راستوں کی حفاظت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات:بڑے پیمانے پر ہنگامی صورتِ حال
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی شمالی سرحد کے قریب رامیم رج پر پیدل سفر کرنے والے افراد کے ایک گروپ کے نزدیک دھماکا ہوا۔ اسرائیل کی قومی طبی امدادی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم (MDA) نے ابتدائی طور پر کم از کم12متاثرین کی اطلاع دی۔ سوشل میڈیا پر ابتدائی اطلاعات میں بعض افراد کے بے ہوش ہونے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جیسے جیسے امدادی ٹیموں نے مزید متاثرین کا جائزہ لیا، زخمیوں کی تعداد سے متعلق اطلاعات میں اضافہ ہوتا گیا اور بعض رپورٹس میں یہ تعداد20یا اس سے زیادہ بتائی گئی۔ بعد ازاں ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک نوعمر لڑکے کی ہلاکت اور24افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جبکہ میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق دو افراد شدید زخمی ہوئے۔ بعض ذرائع نے زخمیوں کی تعداد23بتائی۔
متاثرین میں او آر ٹی معالوت سے وابستہ تعلیمی دورے پر جانے والے طلبہ اور اساتذہ شامل تھے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ گروپ نفتالی پہاڑی سلسلے کے جنگلاتی علاقے میں، پیر آبزرویشن پوائنٹ کے قریب ایک خوب صورت راستے پر پیدل سفر کر رہا تھا۔ زخمیوں کی تعداد سے متعلق ابتدائی اطلاعات میں تیزی سے تبدیلی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ابتدائی خبروں کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔
دھماکا کیسے ہوا؟
اسرائیلی فوج کے ابتدائی جائزے کے مطابق دھماکے کا سبب کلسٹر گولہ بارود کا ایک ایسا ذیلی دھماکا خیز حصہ ہو سکتا ہے جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے راکٹ سے آیا تھا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ایک طالب علم کو وقفے کے دوران یہ شے ملی، اس نے اسے اٹھا کر اپنے بیگ میں رکھا اور چند منٹ بعد دھماکا ہو گیا۔
یہ واقعات کی ایک ابتدائی تشکیلِ نو ہے، مکمل فرانزک رپورٹ نہیں۔ حکام ابھی اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ یہ شے کہاں سے ملی، اسے کس طرح اٹھایا گیا اور دھماکا کن حالات میں ہوا۔
کلسٹر گولہ بارود کا خطرہ
کلسٹر گولہ بارود فضا یا زمین پر متعدد چھوٹے دھماکا خیز آلات پھیلا سکتا ہے۔ ان میں سے بعض زمین سے ٹکرانے پر نہیں پھٹتے اور برسوں تک خطرناک رہ سکتے ہیں۔
ایسا غیر پھٹا ہوا آلہ اٹھانے، ہلانے، دباؤ پڑنے یا کسی اور طرح چھیڑنے سے دھماکا ہو سکتا ہے۔
متاثرین کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی فوری وجہ دھماکا خیز باقیات کا پھٹنا تھا۔ یہ شے کس طرح ملی اور اسے کس انداز میں سنبھالا گیا، اس کا تعین تفتیش کاروں کو کرنا ہوگا۔
فوج کی جانب سے ابتدائی طور پر حزب اللہ کے گولہ بارود کی طرف اشارہ کیے جانے کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس گروپ نے جان بوجھ کر اس مقام پر حملہ کیا تھا۔ دستیاب رپورٹس میں واقعے کو پہلے استعمال کیے گئے گولہ بارود کے حادثاتی طور پر پھٹنے کا ممکنہ واقعہ قرار دیا گیا ہے۔
شمالی اسرائیل میں ہنگامی امدادی کارروائیاں
میگن ڈیوڈ ایڈوم کے طبی عملے اور ہنگامی امدادی کارکنوں نے جائے وقوعہ پر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔ فوجی اہلکاروں اور فضائی عملے نے بھی متاثرین کو منتقل کرنے میں مدد کی۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں پہنچایا گیا، جن میں صفد کا زیو میڈیکل سینٹر اور حیفہ میں رمبام ہیلتھ کیئر کیمپس شامل ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں گلیلی میڈیکل سینٹر پر طبی ہیلی کاپٹر اترنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
دھماکا خیز مواد سے نمٹنے والے ماہرین کو بھی علاقے میں طلب کیا گیا۔ اس کارروائی سے شہری ایمبولینس سروسز، فوجی امدادی یونٹوں اور اسپتالوں کے درمیان رابطہ کاری کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم امداد کی تیز رفتار فراہمی اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتی کہ اسکول کے دورے کے راستے پر خطرناک گولہ بارود موجود کیسے تھا۔
پہلے استعمال ہونے والے پیدل سفر کے راستے کی جانچ کیوں ضروری ہے؟
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسکول کے اس دورے کی اجازت دی گئی تھی اور ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا کہ اس علاقے کو پولیس اور اسرائیلی فوج پہلے کلیئر قرار دے چکی تھی۔ تاہم ان دونوں باتوں کی جانچ جاری ہے اور ابھی انہیں حتمی طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں سمجھا جا سکتا۔
کسی علاقے کو کلیئر قرار دینے کا مطلب یہ ضمانت نہیں کہ اس کے ہر مربع میٹر کی تلاشی لی گئی ہو۔ کلیئرنس کی مؤثریت استعمال کیے گئے طریقوں، زمین کی ساخت، گولہ بارود کی نوعیت اور ریکارڈ کی درستگی پر منحصر ہوتی ہے۔
معائنہ کس نے کیا؟
راستے کی جانچ کس ادارے نے کی اور کون سے حفاظتی طریقۂ کار استعمال ہوئے؟
شے کہاں ملی؟
کیا یہ آلہ پہلے معائنہ کیے گئے علاقے کے اندر موجود تھا؟
انتباہ دیا گیا تھا؟
کیا اسکول کو باقی ماندہ خطرات کے بارے میں درست معلومات فراہم کی گئی تھیں؟
راستہ بند ہونا چاہیے تھا؟
کیا استعمال کی اجازت دینے سے پہلے مزید تکنیکی معائنہ ضروری تھا؟
ان سوالات کے جوابات قیاس آرائیوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر تلاش کیے جانے چاہییں۔ اگر دورے کی اجازت دی گئی تھی تو اس معاملے کا شفاف جائزہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔
غیر پھٹا ہوا گولہ بارود:جنگ کے بعد بھی برقرار رہنے والا خطرہ
تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں خطرات لڑائی ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں۔ غیر پھٹا ہوا گولہ بارود بچوں، کسانوں، تعمیراتی کارکنوں، اپنے گھروں کو واپس آنے والے رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ ایسا مواد گھاس، مٹی یا جھاڑیوں میں چھپا ہو سکتا ہے یا اسے دھات کے عام ٹکڑے سمجھنے کی غلطی ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس (UNMAS) کے مطابق جنگی دھماکا خیز باقیات شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ اور زمین کے محفوظ استعمال میں رکاوٹ ہیں۔ ادارہ خطرات سے متعلق آگاہی، تکنیکی سروے، خطرناک مقامات کی نشان دہی اور تربیت یافتہ ماہرین کے ذریعے کلیئرنس کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر (ICRC) نے بھی جنگی دھماکا خیز باقیات کے دیرپا انسانی نقصانات کو دستاویزی شکل دی ہے۔
اگر مشتبہ دھماکا خیز شے ملے تو کیا کریں؟
- اس شے کو ہاتھ نہ لگائیں، نہ اٹھائیں اور نہ ہی اسے حرکت دیں۔
- اس سے مناسب فاصلہ اختیار کریں اور دوسروں کو بھی قریب جانے سے روکیں۔
- مقامی پولیس یا متعلقہ ہنگامی حکام کو اطلاع دیں۔
- تربیت یافتہ ماہرین کی جانب سے علاقے کو محفوظ قرار دیے جانے تک وہاں واپس نہ جائیں۔
شہریوں کا تحفظ اور جواب دہی
کلسٹر گولہ بارود کے کنونشن میں اس کے فریق ممالک کے لیے پابندیاں اور ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں کی کلیئرنس، متاثرین کی مدد اور بین الاقوامی تعاون شامل ہیں۔ اسرائیل اور لبنان اس کنونشن کے فریق نہیں ہیں، اس لیے اس کی معاہداتی ذمہ داریوں کو ان دونوں ممالک پر براہِ راست لاگو قرار نہیں دینا چاہیے۔
تاہم بین الاقوامی انسانی قانون میں شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان امتیاز، تناسب اور حملوں کے دوران احتیاط سے متعلق اصول موجود ہیں۔ کسی مخصوص گولہ بارود یا واقعے پر ان اصولوں کا اطلاق حقائق اور حالات پر منحصر ہوگا۔
فی الحال بنیادی ترجیحات میں دھماکا خیز آلے کی اصل معلوم کرنا، علاقے میں باقی خطرات کی نشان دہی اور یہ جانچنا شامل ہے کہ حفاظتی طریقۂ کار مناسب تھے یا نہیں۔ وسیع تر قانونی اور سیاسی نتائج اخذ کرنے سے پہلے مصدقہ شواہد کا انتظار کرنا چاہیے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
1۔ علاقے کو محفوظ بنانا
پولیس کے بم ناکارہ بنانے والے ماہرین اور فوجی دھماکا خیز مواد کی ٹیموں کو اضافی آلات کی تلاش کرنا ہوگی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ماہرین کو علاقے میں تعینات کیا گیا اور وہاں پیدل سفر پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا تھا۔
2۔ واقعات کی مکمل ترتیب معلوم کرنا
تفتیش کاروں کو معلوم کرنا ہوگا کہ مشتبہ شے کس طرح ملی، دھماکا کیسے ہوا اور آیا پہلے کیے گئے معائنے میں عین اس مقام کا احاطہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
3۔ اسکول کے دورے کی منظوری کا جائزہ
حکام کو سابقہ یا جاری تنازعات سے متاثرہ علاقوں کے قریب تعلیمی دوروں کے خطرات کا جائزہ لینا چاہیے اور ماہرین کی جانب سے راستوں کو محفوظ قرار دیے جانے تک ضروری پابندیاں برقرار رکھنی چاہییں۔
4۔ زخمیوں اور سوگوار خاندان کی مدد
زخمیوں کو مسلسل طبی نگہداشت درکار ہے، جبکہ ہلاک ہونے والے طالب علم کے اہلِ خانہ اور اسکول کی برادری درست معلومات، ہمدردی اور ضروری معاونت کے حق دار ہیں۔
نتیجہ:جنگ کے خطرات لڑائی کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے
رامیم رج میں مہلک دھماکا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کے اثرات اس وقت ختم نہیں ہو جاتے جب راکٹ فضا میں اڑنا بند کر دے یا میدانِ جنگ خاموش ہو جائے۔ ایک نوجوان کی ہلاکت اور طلبہ و اساتذہ کے زخمی ہونے کا یہ واقعہ شہریوں کے تحفظ سے متعلق ایک سنگین سانحہ ہے، جس کے لیے محتاط تحقیقات، شفاف معلومات اور مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
