صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Truth Social پر ایک پوسٹ میں سعودی عرب کی جانب سے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں سے باب المندب آبنائے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی تیاری سے متعلق بات کی اور اس حوالے سےReutersکی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا۔
اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ریاض حوثیوں کی ان پیش قدمیوں کو واپس لینے کے لیے حملے پر غور کر رہا ہے جن کے نتیجے میں اس گروپ کو بحیرہ احمر کی اس اہم بحری گزرگاہ پر اثر و رسوخ حاصل ہوگیا ہے۔ انہوں نے علاقائی اور یورپی شراکت داروں کے معاون کردار کی طرف بھی اشارہ کیا، جن میں پاکستان شامل ہے جس نے سعودی عرب میں اندازاً30ہزار سے40ہزار فوجی تعینات کیے ہیں اور یمنی فورسز کی معاونت کے لیے فوجی مشیر بھی فراہم کیے ہیں، ترکیہ نے یمن کے اوپر ڈرونز فراہم کیے ہیں، جبکہ فرانس سعودی بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کے تحفظ میں مدد کے لیے دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھیج رہا ہے۔
ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے زمینی کارروائی پر غور کو، جس سے ریاض طویل عرصے سے گریز کرنا چاہتا رہا ہے، ایرانی اقدامات کے ردعمل کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے باعث بحیرہ احمر کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کرنے پر انحصار کرنا پڑا، جس کے بعد تہران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ پوسٹ میں کہا گیا، ’’جب آپ دیکھتے ہیں کہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ دنیا بھر میں کیا کر رہے ہیں تو یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ ٹرمپ شروع ہی سے ایران پر اتنے تنقیدی کیوں رہے ہیں۔‘‘
ان پیش رفتوں کی مجموعی تصویر حالیہ رپورٹنگ سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔Reutersکے مطابق سعودی عرب آنے والے ہفتوں میں ایک فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کی زمینی قیادت ریاض کی نگرانی میں یمنی فورسز کریں گی جبکہ سعودی فضائی حملوں کے ذریعے انہیں مدد فراہم کی جائے گی۔ زیر غور اختیارات میں باب المندب کے گرد ساحلی علاقے میں محدود پیش قدمی یا متعدد محاذوں پر وسیع تر حملہ شامل ہے، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ یمنی فوجی شامل ہوسکتے ہیں۔ اہم مقصد گزشتہ ماہ حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کو واپس لینا ہے جس کے نتیجے میں انہیں اس آبنائے پر کنٹرول حاصل ہوگیا تھا۔
پاکستان نے اپنی معاونت میں اضافہ کیا ہے، جس میں اسلحے کی ترسیل اور فوجی مشیر شامل ہیں، جبکہ رپورٹس کے مطابق ہزاروں پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں دفاعی ذمہ داریوں کے لیے موجود ہیں۔ امریکہ انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معاونت فراہم کر رہا ہے، تاہم اس نے اب تک حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگی کارروائی میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے اور اس کی توجہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے۔
سعودی عرب کی ممکنہ کارروائی کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ترکیہ کے ڈرونز اور پاکستان کی جانب سے فراہم کیا گیا فوجی سازوسامان یمن میں استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی فوجی مشیر بھی یمنی فورسز کی معاونت کے لیے موجود ہیں۔Reutersکے مطابق پاکستان نے گزشتہ ماہ عدن کے لیے دفاعی نظام، ہلکی توپ خانے کی صلاحیت، ڈرونز اور ڈرون شکن نظام سمیت فوجی سامان لے جانے والے چار کارگو طیارے بھی بھیجے تھے۔
سعودی عرب کے لیے ایک اہم تشویش یہ بھی ہے کہ یمن میں کسی نئی کارروائی کے دوران اس کی تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اسی تناظر میں ریاض نے اپنے اتحادیوں سے دفاعی نظام اور دیگر معاونت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ فرانس نے سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کے تحفظ کے لیے دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ اس وقت سعودی عرب کی یمن میں کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے، تاہمReutersکے مطابق صدر ٹرمپ نے براہ راست امریکی فضائی حملوں کی سعودی درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔ امریکی اتحادیوں سے متعلق اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے شراکت دار براہ راست جنگی کارروائیوں میں شامل ہونے کے بجائے زیادہ تر دفاعی نوعیت کی فوجی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
صورتحال نے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے درمیان بحیرہ احمر کا تجارتی اور توانائی کا راستہ ایک متبادل گزرگاہ کے طور پر مزید اہم ہوگیا ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے اور اس کے گرد جاری فوجی سرگرمیاں عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خطے میں بحری سلامتی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
