ٹرمپ کی نیتن یاہو کی کھل کر حمایت
بین الاقوامی سیاست|اسرائیل|امریکہ
ٹرمپ کی نیتن یاہو کی کھل کر حمایت، ایران کے خلاف کارروائی اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل
اسرائیلی انتخابات سے قبل امریکی صدر کی توثیق؛ نیتن یاہو کے نزدیک ٹرمپ کے دورِ صدارت کے اگلے دو سال خطے کی صورتِ حال بدلنے کے لیے اہم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں27اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ حمایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی رہنما اپنے ملک کے مستقبل کے لیے اگلے دو برس کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق اس عرصے میں ایران کے خطرے سے نمٹنے، خطے میں باقی ماندہ سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں نئے علاقائی تعلقات استوار کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے انتخاب سے نو روز قبل اسرائیلی وزیرِاعظم کی حمایت کا اعلان کیا۔
اتوار کو اپنے بیان میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کے لیے اپنی حمایت کو ’’مکمل اور غیر مشروط‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں ایک ’’عظیم جنگجو وزیرِاعظم‘‘ کہا اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ان کی قیادت کی تعریف کی۔ نیتن یاہو نے اس حمایت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسے غیر معمولی توثیق قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کو وائٹ ہاؤس میں اس سے زیادہ مضبوط اتحادی کبھی نہیں ملا۔ ان کے بقول، ’’ہم مل کر ایران کی حکومت کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔‘‘ اس بیان کے ذریعے دونوں رہنماؤں نے تہران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اتحادی گروہوں کے خلاف اپنے مشترکہ مؤقف کو نمایاں کیا۔
نیتن یاہو کے نزدیک اگلے دو سال فیصلہ کن
اسرائیلی وزیرِاعظم کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران دستیاب وقت کو سکیورٹی اہداف آگے بڑھانے، علاقائی شراکت داریاں مضبوط بنانے اور مستقبل کی ممکنہ امریکی پالیسی تبدیلیوں کے لیے تیاری کرنے میں استعمال کرنا چاہیے۔
ایران کے خلاف کارروائی اور باقی ماندہ اہداف
قومی سلامتی کی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ اسرائیل یہ فرض نہیں کر سکتا کہ جنوری2029میں ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی واشنگٹن کی حمایت اسی سطح پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’صدر ٹرمپ کے ساتھ مزید دو برس کی ایک مہلت موجود ہے، اور ان انتخابات میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ کون کام کرے گا؟ باقی ماندہ کام کون مکمل کرے گا؟‘‘
نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل کو اس مدت میں اپنے نامکمل فوجی اہداف پر پیش رفت، خطے میں تعاون کے نئے امکانات اور مستقبل میں مختلف امریکی انتظامیہ کے تحت پیدا ہونے والی ممکنہ مشکلات کے لیے تیاری کرنا ہوگی۔ ان کی حکمتِ عملی میں ایران مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ فراہم کردہ متن کے مطابق فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی صلاحیتوں کو کمزور کیا۔ نیتن یاہو کا خیال ہے کہ ان حالات سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلی لانے کا موقع پیدا ہوا ہے۔
ٹرمپ نے بھی اپنی حمایت کے اعلان میں ایران کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کو فوجی اور مالی لحاظ سے شدید نقصان پہنچا ہے اور اگر اس کی قیادت نے اپنا طرزِعمل تیزی سے تبدیل نہ کیا تو امریکہ مزید کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی ووٹروں سے بھی براہِ راست اپیل کی کہ نیتن یاہو کی قیادت جاری رہنا ایران کے خلاف مشترکہ مہم کے باقی اہداف کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔
تاہم، ایران کی جوہری صلاحیت، خطے میں اس کے اثرورسوخ اور فوجی کارروائیوں کے طویل مدتی نتائج سے متعلق صورتِ حال اب بھی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ فوجی نقصان پہنچانا اور کسی ریاست کے جوہری عزائم کا مستقل خاتمہ دو مختلف امور ہیں؛ اسی لیے آئندہ حکمتِ عملی میں سفارتی کوششوں، علاقائی سلامتی اور کشیدگی کے وسیع تر نتائج کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مغربی کنارے میں تشدد پر امریکی تشویش
امریکہ اور اسرائیل کے قریبی تعلقات کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ تشدد پر واشنگٹن نے تشویش ظاہر کی ہے۔ فراہم کردہ متن میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی مسیحی آبادی کے گاؤں طیّبہ کے قریب مبینہ طور پر اسرائیلی انتہا پسندوں نے یورپی سفارت کاروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا۔ ان واقعات نے نیتن یاہو حکومت کے لیے ایک اضافی سفارتی چیلنج پیدا کیا ہے، کیونکہ حکومت ایک طرف امریکی حمایت برقرار رکھنا چاہتی ہے اور دوسری طرف اپنے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام حملوں کی ویڈیوز دیکھ کر شدید پریشان ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ نہیں چاہتے کہ مغربی کنارے میں ایک نیا بحران جنم لے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر اور صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی تشدد کی مذمت کی، جب کہ نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے حقائق سامنے لانا ضروری ہے۔ اسرائیلی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق طیّبہ کے قریب حملوں کے بعد امریکی سفارت کاروں نے فلسطینی مسیحی برادری سے ملاقات بھی کی۔ اس معاملے نے ایک بار پھر مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد، شہریوں کے تحفظ اور ایسے واقعات پر جواب دہی کے سوالات کو نمایاں کیا ہے۔ یہ صورتِ حال اسرائیل کے لیے محض داخلی امن و امان کا مسئلہ نہیں، بلکہ امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
انتخابات اسرائیل کی آئندہ سمت کا تعین کر سکتے ہیں
نیتن یاہو نے27اکتوبر کے انتخابات کو اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مخالف سیاسی اتحاد اقتدار میں آیا تو فلسطینی ریاست کے قیام اور علاقائی سلامتی سے متعلق موجودہ حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس طرح انتخابی مہم صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ ایران، فلسطینی مسئلے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات بھی اس کے مرکز میں آ گئے ہیں۔
نیتن یاہو کی دلیل یہ ہے کہ اسرائیل کو ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف حاصل ہونے والی فوجی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کا موقع استعمال کرنا چاہیے۔ دوسری جانب، ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، حزب اللہ اور حماس کی باقی ماندہ صلاحیتیں، مغربی کنارے میں تشدد اور وسیع تر علاقائی کشیدگی ایسے مسائل ہیں جن کا حل صرف فوجی کارروائی سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ آنے والی اسرائیلی حکومت کو ان تمام معاملات پر فیصلے کرنا ہوں گے، جن کے اثرات کئی برس تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی حمایت نے امریکی صدر کو اسرائیل کے انتخابی مباحثے میں غیر معمولی طور پر نمایاں مقام دے دیا ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف حکمتِ عملی میں نیتن یاہو کو اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ تاہم، کسی امریکی صدر کی حمایت بذاتِ خود اسرائیلی ووٹروں کے فیصلے کا تعین نہیں کرتی۔ ووٹرز کو سکیورٹی، جنگ کے نتائج، حکومت کی کارکردگی، فلسطینی مسئلے اور ملک کے بین الاقوامی تعلقات سمیت متعدد امور کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔
انتخابات کے نتائج ابھی غیر یقینی ہیں، لیکن نیتن یاہو نے اپنی مہم کا بنیادی پیغام واضح کر دیا ہے:ان کے نزدیک اگلے دو برس اسرائیل کی علاقائی حکمتِ عملی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا اسرائیلی ووٹرز انہیں ایک اور مدت کے لیے اختیار دیتے ہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران، فلسطینی علاقوں اور خطے کے دوسرے تنازعات سے نمٹنے کے لیے ان کی حکومت کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔
