• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ضیاء الحق زندہ ہے
ایشیا

ضیاء الحق زندہ ہے

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 26, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

تجزیہ و کالم

ضیاء الحق زندہ ہے

تحریر: ڈاکٹر عبدالرؤف
سترہ اگست⁦1988⁩ء کو بہاولپور کے قریب ایک طیارہ حادثے میں جنرل محمد ضیاء الحق کی موت واقع ہوئی، مگر ان کے دورِ حکومت کے بہت سے سیاسی، قانونی اور سماجی اثرات آج بھی پاکستان کے ریاستی اور معاشرتی ڈھانچے میں موجود ہیں۔

سترہ اگست⁦1988⁩ء کی سہ پہر، تین بج کر اکاون منٹ پر، بہاولپور کے قریب ستلج کے کنارے ایک سی⁦-130⁩طیارہ زمین سے ٹکرایا اور پرزے پرزے ہو گیا۔ اس روز جنرل محمد ضیاء الحق مر گئے۔ اڑتیس برس بعد آج یہ لکھنا پڑتا ہے کہ وہ صرف مرے تھے، پاکستان سے گئے نہیں۔ جو شخص گیارہ سال حکومت کرے اور اڑتیس سال بعد بھی آپ کی عدالتوں، آپ کے تھانوں، آپ کے نصاب، آپ کے بینک فارم اور آپ کی مسجد کے منبر پر بیٹھا ہو، اسے تاریخ کا ایک کردار نہیں کہتے۔ اسے ایک مستقل بندوبست کہتے ہیں۔

شروع وہیں سے کیجیے جہاں سے سب کچھ شروع ہوا۔⁦4⁩جولائی⁦1977⁩ء کو حکومت اور پاکستان قومی اتحاد نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔⁦5⁩جولائی کو معاہدے پر دستخط ہونے تھے۔ اسی⁦5⁩جولائی کی رات جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ اس ایک تاریخ کو ذہن میں رکھیے، کیونکہ یہی اُس پورے بیانیے کی قبر ہے جو کہتا ہے کہ فوج انتشار روکنے آئی تھی۔ قومی اتحاد کا انتشار رُک رہا تھا۔ مگر جو چیز نہیں رُکنے والی تھی، وہ ضیاء الحق کا اقتدار کا حرص اور اس موقع کی تلاش تھی۔ موقع ملا، نوے دن میں انتخابات کا وعدہ کیا گیا۔ لیکن گیارہ برس گزر گئے۔ حرص ختم نہیں ہوا۔

پھر وہ ہوا جسے پاکستان کی عدالتی تاریخ آج تک اپنے گلے سے نہیں اتار سکی۔ ایک منتخب وزیرِاعظم پر قتل کا مقدمہ سیشن عدالت کے بجائے براہِ راست لاہور ہائی کورٹ میں چلایا گیا، مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں⁦6⁩فروری⁦1979⁩ء کو سپریم کورٹ نے چار کے مقابلے میں تین ووٹوں سے اپیل مسترد کر دی۔ ایک ووٹ کے فرق سے ایک منتخب وزیرِاعظم تختۂ دار پر گیا۔ سماعت کے دوران بینچ نو ججوں سے گھٹ کر سات رہ گیا۔ اکثریتی فیصلہ لکھنے والے چیف جسٹس انوار الحق وہی صاحب تھے جو ضیاء الحق کی غیر حاضری میں قائم مقام صدر کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ جسٹس دوراب پٹیل، جسٹس صفدر شاہ اور جسٹس محمد حلیم نے اختلاف کیا؛ جسٹس صفدر شاہ کا اکتالیس صفحات سے زائد پھیلا ہوا اختلافی نوٹ اس نتیجے پر پہنچا کہ وعدہ معاف گواہ کا بیان ناقابلِ اعتبار اور بڑی حد تک سنی سنائی بات تھی۔ صدر کارٹر، بریژنیف، جیمز کیلاہن اور پوپ جان پال دوم تک نے رحم کی اپیل کی۔⁦4⁩اپریل⁦1979⁩ء کی صبح راولپنڈی جیل میں خاموشی سے پھانسی دے دی گئی۔⁦2024⁩ء میں سپریم کورٹ نے خود تسلیم کیا کہ اس مقدمے میں شفاف سماعت کے تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے۔

24 مارچ⁦1981⁩ء کو عبوری آئینی حکم⁦(⁩پی سی او⁦)⁩جاری ہوا اور ججوں سے نئے حلف کا تقاضا کیا گیا۔ دراب پٹیل اور فخر الدین جی ابراہیم جیسے لوگ گھر چلے گئے۔ جو رہ گئے، انہوں نے وہ روایت قائم کی جو پھر عدالتوں میں بارہا دہرائی گئی۔ ضیاء الحق نے عدالت توڑی نہیں، اُس نے عدالت کو یہ سکھا دیا کہ وہ ہر نئے آقا کے سامنے دوبارہ حلف اٹھا سکتی ہے۔ یہ اُس کا سب سے کامیاب سبق تھا۔

13 مئی⁦1978⁩ء کو گیارہ صحافیوں کو فوجی عدالتوں نے سزا سنائی۔ ناصر زیدی، مسعود اللہ خان، اقبال جعفری اور خاور نعیم ہاشمی کو ایک نوجوان میجر کی سربراہی میں قائم سمری فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، منٹوں میں سزا سنائی گئی، اور ایک گھنٹے کے اندر کوٹ لکھپت جیل میں کمر تک برہنہ کر کے تیل میں بھگوئے ہوئے چمڑے کے کوڑے مارے گئے۔ یہ صرف چار صحافیوں کی پیٹھ پر کوڑے نہیں تھے۔ یہ اُس معاہدے پر کوڑے تھے جس کے تحت ریاست اور شہری ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔⁦19⁩دسمبر⁦1980⁩ء کو مارشل لا ریگولیشن نمبر⁦49⁩جاری ہوا⁦:⁩کوئی بھی ایسی بات چھاپنے پر دس سال قید، پچیس کوڑے اور جرمانہ جسے حکام ’’ملکی سالمیت یا اخلاقیات کے منافی‘‘ قرار دے دیں۔

10 فروری⁦1979⁩ء کو حدود آرڈیننس نافذ ہوئے۔ زنا آرڈیننس نے زیادتی اور بدکاری کو ایک ہی خانے میں ڈال دیا، اور اس ایک تکنیکی سطر نے ہزاروں عورتوں کی زندگی برباد کر دی۔ صفیہ بی بی، جو نابینا نوعمر ملازمہ تھی اور جسے⁦1982⁩ء میں اس کے آجر کے بیٹے نے زیادتی کا نشانہ بنایا، جب زیادتی ثابت نہ کر سکی تو⁦24⁩جولائی⁦1983⁩ء کو خود زنا کی مرتکب قرار پا کر تین سال قید، پندرہ کوڑوں اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا پا گئی۔ اس کا حمل اسی کے خلاف شہادت مان لیا گیا۔ قانونی امداد کے اداروں کے اندازوں کے مطابق⁦1979⁩ء میں پاکستان بھر کی جیلوں میں تقریباً ستر خواتین تھیں؛⁦1988⁩ء تک یہ تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی تھی۔ یہ محض ایک بد قانون نہیں تھا۔ یہ ریاست کا باقاعدہ اعلان تھا کہ ثبوت کا بوجھ مظلوم پر ہے اور خاموشی کا حق ظالم کے پاس۔⁦1983⁩ء میں جب لاہور میں عورتوں نے قانونِ شہادت کے خلاف احتجاج کیا تو ان پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں۔ وہ تصویریں آج بھی موجود ہیں۔

1980ء میں مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز کلمات پر تین سال قید کا قانون آیا۔ اور⁦1986⁩ء میں دفعہ⁦295-C⁩کے ذریعے توہینِ رسالت کو قابلِ دست اندازی جرم بنا کر اس کی سزا میں موت شامل کر دی گئی۔ اُس کے بعد پاکستان میں جتنے لوگ الزام لگنے پر ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے، جتنی بستیاں جلیں، جتنے ذاتی جھگڑے اور جائیداد کے تنازعے مذہبی مقدمے بن کر عدالتوں میں پہنچے، ان سب کی قانونی جڑ ایک ہی جگہ ہے، اور اس جگہ پر ایک ہی آدمی کے دستخط ہیں۔

جون⁦1980⁩ء میں زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے تحت بینک کھاتوں سے ڈھائی فیصد کٹوتی شروع ہوئی۔ اہلِ تشیع نے اعتراض کیا کہ انہیں حنفی فقہ کے تابع نہیں کیا جا سکتا، اور جولائی⁦1980⁩ء میں تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ کے زیرِ اہتمام اسلام آباد پر جو اجتماع ہوا اس نے حکومت کو استثنیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ ظاہری طور پر یہ ایک انتظامی رعایت تھی۔ حقیقت میں یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا⁦:⁩اُس روز سے ریاست کے کاغذ پر ہر شہری کا فرقہ درج ہونا شروع ہوا۔ جو ملک اپنے شہریوں کو بینک فارم پر فرقوں میں تقسیم کرے، وہ خانہ جنگی کی فائل تیار کر رہا ہوتا ہے۔ اسی دہائی میں مدارس کو پہلی بار ریاستی سرپرستی اور زکوٰۃ فنڈ سے مالی وسائل ملے اور ان کی تعداد ایک اندازے کے مطابق آٹھ سو ترانوے سے بڑھ کر اٹھائیس سو سے تجاوز کر گئی۔ فرقہ واریت پاکستان میں آسمان سے نہیں اتری۔ اسے بجٹ ملا، دفتر ملا اور تحفظ ملا۔

پھر افغانستان۔ امریکہ کی وہ جنگ جس کے لئے ضیاء الحق کو اقتدار دلوایا گیا تھا۔ ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طوالت بخشی لیکن اس جنگ کی قیمت آنے والی نسلوں کے لاکھوں بے گناہ انسانوں نے دی۔ امریکہ سے تین ارب بیس کروڑ ڈالر کی امداد آئی، اور اس کے علاوہ پانچ سے سات ارب ڈالر مجاہدین کے لیے پاکستان کے راستے گزرے۔ ان کے ساتھ کیا آیا؟ کلاشنکوف اور ہیروئن۔⁦1987⁩ء تک ’’کلاشنکوف کلچر‘‘ اخبارات کی اصطلاح بن چکا تھا، اور معیشت کا شعبۂ خدمات منشیات کی تجارت سے سہارا لے رہا تھا۔ کیمپس، صحافت اور دانش گاہوں سے بائیں بازو کو صاف کرنے کا کام باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ہوا۔ آج ہم جس دہشت گردی پر ماتم کرتے ہیں، اُس کی پہلی اینٹ اسی دہائی میں رکھی گئی تھی۔

14 اگست⁦1983⁩ء کو تحریکِ بحالیِ جمہوریت شروع ہوئی۔ پنجاب خاموش رہا لیکن سندھ اٹھ کھڑا ہوا۔ ریاست کا جواب سیاسی نہیں تھا۔ پینتالیس ہزار فوجی سندھ بھیجے گئے، تین ڈویژن حرکت میں آئے، اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے دیہاتوں پر فائرنگ کی۔ لوگ صوفی درگاہوں اور مورو و دادو کے جنگلوں سے تحریک چلاتے رہے۔ کتنے مارے گئے؟ ریاست نے آج تک کوئی عدد شائع نہیں کیا۔ یہی خاموشی اُس زخم کا اصل حجم ہے۔

فروری⁦1985⁩ء کے غیر جماعتی انتخابات کو ہم آج تک ایک انتظامی تفصیل سمجھتے ہیں۔ وہ ایک سماجی دھماکہ تھا۔ جب نظریہ ممنوع ہو تو برادری، زبان اور نسل باقی رہ جاتی ہے۔⁦15⁩اپریل⁦1985⁩ء کو کراچی میں ایک بس حادثے میں طالبہ بشریٰ زیدی کی موت ہوئی، اور شہر جل اٹھا۔ اُسی سال کراچی پولیس نے فسادات کے چھ سو آٹھ مقدمات درج کیے جن میں چھپن اموات ہوئیں۔ کراچی اُس کے بعد کبھی وہ شہر نہ رہا جو اس سے پہلے تھا۔

مگر ضیاء الحق کا سب سے پائیدار جرم بندوق نہیں، قلم تھا۔ دسمبر⁦1984⁩ء کے ریفرنڈم میں سوال اس طرح لکھا گیا کہ اسلام کے خلاف ووٹ دیے بغیر ضیاء الحق کے خلاف ووٹ دینا ممکن ہی نہ رہے؛ سرکاری نتیجہ ستانوے فیصد سے زائد حمایت کا آیا، جبکہ آزاد مبصرین کے نزدیک ایک تہائی ووٹر بھی باہر نہیں نکلا تھا۔⁦2⁩مارچ⁦1985⁩ء کو ’’بحالیِ آئین کا حکم‘‘ جاری ہوا جس نے پارلیمان کے بیٹھنے سے پہلے آئین کی تقریباً پینسٹھ شقوں کو بدل ڈالا۔ پھر آٹھویں ترمیم آئی، جس نے⁦1977⁩ء سے⁦1985⁩ء تک کے تمام مارشل لائی احکامات کو ماضی سے تحفظ دے دیا اور آرٹیکل⁦58(2)(b)⁩کے ذریعے صدر کو اسمبلی توڑنے اور وزیرِاعظم کو گھر بھیجنے کا اختیار سونپ دیا۔ یعنی جرم کو پہلے قانون بنایا گیا، پھر منتخب پارلیمان سے اس پر مہر لگوائی گئی۔ اسی ایک شق نے⁦1988⁩ء سے⁦1996⁩ء کے درمیان چار منتخب حکومتیں گرائیں۔ ضیاء الحق مر چکا تھا؛ اس کا قلم کام کرتا رہا۔

اور پھر⁦10⁩اپریل⁦1988⁩ء کو اوجڑی کیمپ کا اسلحہ ڈپو پھٹا اور راولپنڈی و اسلام آباد پر میزائل برسے۔ سو سے زائد افراد مارے گئے⁦(⁩تعداد پر آج تک اختلاف ہے⁦)⁩۔ ذخیرے میں تیس ہزار راکٹ، اسٹنگر میزائل اور دس کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ بتایا جاتا ہے۔ دھماکے نے ریکارڈ جلا دیا اور یہ اُسی دن ہوا جس دن ایک امریکی ٹیم اُسی اسلحے کا حساب لینے پہنچ رہی تھی۔ وزیرِاعظم محمد خان جونیجو نے تحقیقات کرائی تھی؛ اس کا انعام یہ ملا کہ⁦29⁩مئی⁦1988⁩ء کو ان کی حکومت برطرف کر دی گئی، اور الزام یہ لگا کہ وہ اسلام نافذ کرنے میں ناکام رہے۔ اڑتیس برس گزر گئے، رپورٹ آج بھی شائع نہیں ہوئی۔

اُس کے حامی ایک ہی دلیل رکھتے ہیں، اور وہ معاشی ہے⁦:⁩اسی کی دہائی میں شرحِ نمو اوسطاً ساڑھے چھ فیصد رہی اور⁦1982-83⁩ء میں ترسیلاتِ زر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یعنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً دسواں حصہ۔ لیکن اسی دلیل کے اندر اس کا جواب موجود ہے۔ انہی برسوں میں دفاعی بجٹ اوسطاً نو فیصد سالانہ بڑھا جبکہ ترقیاتی اخراجات حقیقی معنوں میں صرف تین فیصد؛⁦1987-88⁩ء تک دفاع ترقی سے آگے نکل چکا تھا۔ ضیاء الحق کوئی طویل مدتی معاشی حکمتِ عملی نہیں رکھتا تھا، اور اپنے پیچھے کوئی بڑا زیرِ تعمیر منصوبہ چھوڑ کر نہیں گیا۔ یہ ترقی نہیں تھی، یہ ادھار تھا۔ اُس نے ایک دہائی کی خوشحالی اگلی چار دہائیوں کے کھاتے سے لی، اور بل ہمیں بھیج دیا۔

سترہ اگست⁦1988⁩ء کو بہاولپور کے قریب جو گرا، وہ صرف ایک جہاز تھا۔ آٹھویں ترمیم اُس جہاز میں نہیں تھی۔ دفعہ⁦295-C⁩اُس جہاز میں نہیں تھی۔ حدود آرڈیننس، زکوٰۃ کا فارم، مدرسوں کا جال، پی سی او کا حلف، کلاشنکوف، اور یہ خیال کہ اقتدار کو جواز مذہب سے ملتا ہے اور ووٹ سے نہیں — ان میں سے کوئی چیز اُس ملبے میں دفن نہیں ہوئی۔

یہ سب زندہ بچ گئے۔ اور تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ اُس کے بعد کے اڑتیس برسوں میں انہیں چلانے والے فوجی نہیں تھے⁦:⁩منتخب حکومتیں تھیں، سویلین عدالتیں تھیں، اور ہماری اپنی سہولت پسند خاموشی تھی۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ضیاء الحق کو کس نے مارا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے اڑتیس سال سے زندہ کون رکھے ہوئے ہے؟

مصنف کا تعارف:
مصنف پاکستان میں سرائیکی وسیب سے تعلق رکھتے ہیں، سافٹ وئیر انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی ہیں اور اس وقت سویڈن میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرؤف
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleموت کا اکھاڑہ⁦:⁩پاکستان میں باڈی بلڈنگ کے پردے کے پیچھے چھپا خطرناک کھیل
Next Article مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارت کاروں کی واپسی کی تیاری
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.