• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » پاکستان میں تشدد سے ہلاکتوں میں⁦83⁩فیصد اضافہ
ایشیا

پاکستان میں تشدد سے ہلاکتوں میں⁦83⁩فیصد اضافہ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 4, 2026Updated:اکتوبر 4, 20261 تبصرہ6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

تحریر:
اسحاق سومرو
فری لانس صحافی اور ریسرچ ایسوسی ایٹ

اسحاق سومرو

پاکستان میں تشدد⁦:⁩تیسری سہ ماہی میں ہلاکتوں میں⁦83⁩فیصد اضافہ

2026 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان میں تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں⁦83⁩فیصد اضافہ ایک بار پھر اس سنگین حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں امن و سلامتی کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔

پاکستان میں⁦2026⁩کی تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں⁦83⁩فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے پہلی اور دوسری سہ ماہی میں سامنے آنے والے کمی کے رجحان کو ایک بار پھر پلٹ دیا ہے۔ ملک بھر میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز⁦(CRSS)⁩کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر⁦2026⁩کے دوران ملک میں دہشت گردی، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور دیگر پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس صورت حال میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں ہلاکتوں کی تعداد دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہوگئی۔ قومی سطح پر تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں ہونے والے اضافے کا تقریباً⁦88⁩فیصد حصہ بلوچستان سے متعلق تھا۔

بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا ملک کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔ دونوں صوبے ایک مرتبہ پھر ملک میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے مرکزی مراکز بنے رہے۔ رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ملک کی تقریباً⁦98⁩فیصد تشدد سے متعلق ہلاکتیں ہوئیں۔

اہم اعداد و شمار
1,415
تشدد سے متعلق ہلاکتیں

585
پرتشدد واقعات

83٪
ہلاکتوں میں اضافہ

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر افراد سمیت کم از کم⁦1,415⁩تشدد سے متعلق ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ⁦585⁩پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں دہشت گردی کے حملے اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔

بلوچستان میں⁦829⁩ہلاکتیں ہوئیں، جو قومی مجموعی تعداد کا تقریباً⁦59⁩فیصد بنتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں⁦556⁩ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جو ملک میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا⁦39⁩فیصد سے زیادہ ہیں۔ یوں صرف ان دو صوبوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد⁦1,385⁩بنتی ہے، جو ملک میں تشدد سے متعلق مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً⁦98⁩فیصد ہے۔

پرتشدد واقعات کے حوالے سے بھی بلوچستان سب سے آگے رہا۔ صوبے میں⁦186⁩واقعات رپورٹ ہوئے، جو ملک بھر میں ریکارڈ کیے گئے واقعات کا⁦48⁩فیصد سے زیادہ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں⁦173⁩واقعات پیش آئے، جو مجموعی واقعات کا تقریباً⁦45⁩فیصد بنتے ہیں۔

زخمیوں کے اعداد و شمار بھی صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں⁦376⁩افراد زخمی ہوئے، جبکہ بلوچستان میں⁦163⁩افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح دونوں صوبوں میں نہ صرف ہلاکتیں بلکہ تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی نمایاں رہی۔ رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی سے تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد میں اضافہ⁦2021⁩کے بعد سب سے نمایاں سہ ماہی اضافہ تھا۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا بحران کا مرکز کیوں؟

پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تشدد جغرافیائی طور پر یکساں نہیں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا مسلسل اس بحران کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں تشدد سے متعلق ہلاکتوں اور واقعات کا بڑا حصہ انہی دونوں صوبوں میں مرکوز رہا ہے۔

اس صورت حال میں صرف عسکری کارروائیوں کو ہی نہیں بلکہ ان عوامل کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جو مسلسل بدامنی کو جنم دیتے ہیں۔ سرحدی صورت حال، مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، مقامی تنازعات، کمزور حکمرانی، پسماندگی، روزگار کے محدود مواقع اور بعض علاقوں میں ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے مسائل جیسے عوامل پر بھی سنجیدہ توجہ ضروری ہے۔

تاہم ان عوامل کے باہمی اثرات اور کسی مخصوص واقعے کی وجہ الگ الگ کیس اور علاقے کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے پالیسی سازی میں مقامی حالات کو سامنے رکھنا اہم ہوگا۔ تشدد میں⁦83⁩فیصد اضافہ محض ایک شماریاتی خبر نہیں بلکہ اس کے پیچھے انسانی جانوں کا نقصان، خاندانوں کا اجڑنا اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ بھی ہے۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق تیسری سہ ماہی میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتیں بڑی تعداد میں ہوئیں، لیکن شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتیں بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امن و امان کا مسئلہ بدستور سنگین ہے۔

حملوں کے طریقوں میں تبدیلی

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے کیے گئے حملوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی میں تحریک طالبان پاکستان نے⁦13⁩حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں⁦117⁩افراد ہلاک ہوئے۔

بلوچستان لبریشن آرمی نے پانچ حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں⁦34⁩افراد ہلاک اور⁦42⁩زخمی ہوئے۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق حملوں کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے خودکش حملوں میں مجموعی طور پر⁦81⁩افراد ہلاک اور⁦204⁩زخمی ہوئے۔ مسلح حملوں میں⁦147⁩ہلاکتیں اور⁦116⁩زخمی ریکارڈ ہوئے، جبکہ فائرنگ کے⁦58⁩واقعات میں⁦72⁩افراد ہلاک اور⁦18⁩زخمی ہوئے۔ ڈرون حملوں کے⁦16⁩واقعات میں⁦13⁩افراد ہلاک اور⁦48⁩زخمی ہوئے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تشدد کے طریقوں میں مختلف نوعیت کے ہتھیار اور حملہ آور حکمت عملیاں استعمال کی جارہی ہیں، جس کے باعث ریاستی اداروں کے لیے سیکیورٹی چیلنج مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔

1,415 ہلاکتیں محض ایک عدد نہیں؛ یہ انسانی جانوں، خاندانوں اور پاکستان کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات کی ایک سنگین تصویر ہے۔

پائیدار امن کے لیے طویل المدتی حکمت عملی ضروری

اس سال کی تیسری سہ ماہی کے اعداد و شمار نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ اگر پہلی دو سہ ماہیوں میں کمی کا رجحان برقرار نہیں رہ سکا تو مستقبل میں پائیدار امن کے لیے حکمت عملی میں کن پہلوؤں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

1,415 ہلاکتوں اور رپورٹ شدہ زخمیوں کا یہ تین ماہ کا انسانی نقصان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان میں امن و سلامتی کے مسئلے کو وقتی اعداد و شمار کے بجائے ایک طویل المدتی قومی چیلنج کے طور پر دیکھا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اور صوبائی سطح پر سیکیورٹی پالیسی کے ساتھ ساتھ سیاسی، انتظامی اور معاشی اقدامات کو بھی مربوط کیا جائے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبوں میں امن کے قیام کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ مقامی آبادی کے مسائل، بنیادی سہولیات، تعلیم، روزگار، ترقیاتی عمل اور قانون کی مؤثر عمل داری کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔

پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیکیورٹی، بہتر حکمرانی، معاشی مواقع، قانون کی بالادستی اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد کی بحالی سے قائم ہوسکتا ہے۔ تیسری سہ ماہی کے اعداد و شمار پاکستان کے لیے اسی وسیع تر قومی حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

اسحاق سومرو
Freelance Journalist and Research Associate
کراچی، پاکستان

ishaksoomro@gmail.com
Cell # 03002553676

© NYURDU — نقطۂ نظر

CRSS اسحاق سومرو امن و امان انسداد دہشت گردی بلوچستان بلوچستان تشدد پاکستان سیکیورٹی پاکستان میں تشدد خیبر پختونخوا خیبر پختونخوا تشدد دہشت گردی دہشت گردی کے حملے سیکیورٹی قومی سلامتی
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleہماری الٹی زندگی⁦:⁩دل خطرے میں
Next Article بھارت گولڈ میڈل کے دفاع میں کامیاب
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
View 1 Comment

1 تبصرہ

  1. Riaz Shahid Dayo on اکتوبر 4, 2026 7:14 صبح

    Very informative

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.