پاکستان میں تشدد:تیسری سہ ماہی میں ہلاکتوں میں83فیصد اضافہ
پاکستان میں2026کی تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں83فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے پہلی اور دوسری سہ ماہی میں سامنے آنے والے کمی کے رجحان کو ایک بار پھر پلٹ دیا ہے۔ ملک بھر میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز(CRSS)کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر2026کے دوران ملک میں دہشت گردی، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور دیگر پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس صورت حال میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں ہلاکتوں کی تعداد دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہوگئی۔ قومی سطح پر تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں ہونے والے اضافے کا تقریباً88فیصد حصہ بلوچستان سے متعلق تھا۔
بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا ملک کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔ دونوں صوبے ایک مرتبہ پھر ملک میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے مرکزی مراکز بنے رہے۔ رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ملک کی تقریباً98فیصد تشدد سے متعلق ہلاکتیں ہوئیں۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر افراد سمیت کم از کم1,415تشدد سے متعلق ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ585پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں دہشت گردی کے حملے اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
بلوچستان میں829ہلاکتیں ہوئیں، جو قومی مجموعی تعداد کا تقریباً59فیصد بنتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں556ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جو ملک میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا39فیصد سے زیادہ ہیں۔ یوں صرف ان دو صوبوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد1,385بنتی ہے، جو ملک میں تشدد سے متعلق مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً98فیصد ہے۔
پرتشدد واقعات کے حوالے سے بھی بلوچستان سب سے آگے رہا۔ صوبے میں186واقعات رپورٹ ہوئے، جو ملک بھر میں ریکارڈ کیے گئے واقعات کا48فیصد سے زیادہ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں173واقعات پیش آئے، جو مجموعی واقعات کا تقریباً45فیصد بنتے ہیں۔
زخمیوں کے اعداد و شمار بھی صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں376افراد زخمی ہوئے، جبکہ بلوچستان میں163افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح دونوں صوبوں میں نہ صرف ہلاکتیں بلکہ تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی نمایاں رہی۔ رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی سے تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد میں اضافہ2021کے بعد سب سے نمایاں سہ ماہی اضافہ تھا۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا بحران کا مرکز کیوں؟
پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تشدد جغرافیائی طور پر یکساں نہیں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا مسلسل اس بحران کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں تشدد سے متعلق ہلاکتوں اور واقعات کا بڑا حصہ انہی دونوں صوبوں میں مرکوز رہا ہے۔
اس صورت حال میں صرف عسکری کارروائیوں کو ہی نہیں بلکہ ان عوامل کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جو مسلسل بدامنی کو جنم دیتے ہیں۔ سرحدی صورت حال، مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، مقامی تنازعات، کمزور حکمرانی، پسماندگی، روزگار کے محدود مواقع اور بعض علاقوں میں ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے مسائل جیسے عوامل پر بھی سنجیدہ توجہ ضروری ہے۔
تاہم ان عوامل کے باہمی اثرات اور کسی مخصوص واقعے کی وجہ الگ الگ کیس اور علاقے کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے پالیسی سازی میں مقامی حالات کو سامنے رکھنا اہم ہوگا۔ تشدد میں83فیصد اضافہ محض ایک شماریاتی خبر نہیں بلکہ اس کے پیچھے انسانی جانوں کا نقصان، خاندانوں کا اجڑنا اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ بھی ہے۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق تیسری سہ ماہی میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتیں بڑی تعداد میں ہوئیں، لیکن شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتیں بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امن و امان کا مسئلہ بدستور سنگین ہے۔
حملوں کے طریقوں میں تبدیلی
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے کیے گئے حملوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی میں تحریک طالبان پاکستان نے13حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں117افراد ہلاک ہوئے۔
بلوچستان لبریشن آرمی نے پانچ حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں34افراد ہلاک اور42زخمی ہوئے۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق حملوں کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے خودکش حملوں میں مجموعی طور پر81افراد ہلاک اور204زخمی ہوئے۔ مسلح حملوں میں147ہلاکتیں اور116زخمی ریکارڈ ہوئے، جبکہ فائرنگ کے58واقعات میں72افراد ہلاک اور18زخمی ہوئے۔ ڈرون حملوں کے16واقعات میں13افراد ہلاک اور48زخمی ہوئے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تشدد کے طریقوں میں مختلف نوعیت کے ہتھیار اور حملہ آور حکمت عملیاں استعمال کی جارہی ہیں، جس کے باعث ریاستی اداروں کے لیے سیکیورٹی چیلنج مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔
1,415 ہلاکتیں محض ایک عدد نہیں؛ یہ انسانی جانوں، خاندانوں اور پاکستان کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات کی ایک سنگین تصویر ہے۔
پائیدار امن کے لیے طویل المدتی حکمت عملی ضروری
اس سال کی تیسری سہ ماہی کے اعداد و شمار نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ اگر پہلی دو سہ ماہیوں میں کمی کا رجحان برقرار نہیں رہ سکا تو مستقبل میں پائیدار امن کے لیے حکمت عملی میں کن پہلوؤں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
1,415 ہلاکتوں اور رپورٹ شدہ زخمیوں کا یہ تین ماہ کا انسانی نقصان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان میں امن و سلامتی کے مسئلے کو وقتی اعداد و شمار کے بجائے ایک طویل المدتی قومی چیلنج کے طور پر دیکھا جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اور صوبائی سطح پر سیکیورٹی پالیسی کے ساتھ ساتھ سیاسی، انتظامی اور معاشی اقدامات کو بھی مربوط کیا جائے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبوں میں امن کے قیام کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ مقامی آبادی کے مسائل، بنیادی سہولیات، تعلیم، روزگار، ترقیاتی عمل اور قانون کی مؤثر عمل داری کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔
پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیکیورٹی، بہتر حکمرانی، معاشی مواقع، قانون کی بالادستی اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد کی بحالی سے قائم ہوسکتا ہے۔ تیسری سہ ماہی کے اعداد و شمار پاکستان کے لیے اسی وسیع تر قومی حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
کراچی، پاکستان

1 تبصرہ
Very informative