بھارت ایشین گیمز مینز کرکٹ گولڈ میڈل کے دفاع میں کامیاب
پاکستانی بیٹر حسن نواز ٹیم کو فتح کے قریب لے آئے، بھارت نے19رنز سے کامیابی حاصل کر لی
بھارتی کرکٹ ٹیم نے ایشین گیمز مینز کرکٹ ایونٹ کے فائنل میں پاکستان کو19رنز سے شکست دے کر اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا۔ اس طرح بھارت کی مینز اور ویمن کرکٹ ٹیمیں ایشین گیمز کرکٹ کی مسلسل دوسری بار چیمپئن بن گئیں۔
فائنل سے قبل ہی یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ بھارت کا پلہ بھاری رہے گا۔ پاکستانی ٹیم کے مقابلے میں بھارتی ٹیم زیادہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ بھارتی بیٹرز کے آخری چار اوورز میں بننے والے69رنز پاکستان کے لیے انتہائی بھاری اور فیصلہ کن ثابت ہوئے اور بھارت نے اپنی طاقتور بیٹنگ کے ذریعے پاکستان کی جیت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

جاپان کے شہر نیشن کے کوروگی اسپورٹس پارک میں کھیلے جانے والے فائنل میں بھارتی کپتان شرییاس ائیر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور مقررہ20اوورز میں6وکٹوں کے نقصان پر212رنز بنائے۔
بھارتی اوپنر ابھیشک شرما اپنے روایتی رنگ میں نظر آئے اور انہوں نے انتہائی جارحانہ بیٹنگ کی۔ ان کے ساتھی سوریا ونشی بھی جارحانہ موڈ میں تھے لیکن وہ زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور صرف9گیندوں پر15رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ سانجو سیمسن بھی دو رنز کے ذاتی اسکور پر احمد دانیال کا شکار بن گئے۔
دوسری جانب ابھیشک شرما کی جارحانہ بیٹنگ جاری رہی۔ انہوں نے بلا خوف گیند کو باؤنڈری کے پار بھیجا۔ کپتان شرییاس ائیر نے دو وکٹیں اوپر تلے گرنے کے بعد محتاط انداز اختیار کیا، حالانکہ وہ بھی تیزی سے رنز بنانے والے بیٹر اور زبردست ہٹر ہیں۔
ابھیشک شرما نے28گیندوں پر7بلند و بالا چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے61رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی بولرز نے بھارتی بیٹرز کی رفتار کو کچھ کنٹرول کیا۔ شرییاس ائیر24گیندوں پر21رنز بنا کر ابرار احمد کی گیند پر آؤٹ ہوئے جبکہ ایشانت کشن بھی18گیندوں پر20رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد تلک ورما نے شیوم دوبے کے ساتھ پاکستانی بولرز پر بھرپور حملہ کیا۔ دونوں نے پانچ اوورز میں چھٹی وکٹ کی شراکت میں62رنز جوڑ کر بھارت کو بڑے مجموعے تک پہنچا دیا۔ دوبے نے15گیندوں پر27رنز بنائے جبکہ تلک ورما نے صرف22گیندوں پر51رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں چار چھکے اور تین چوکے شامل تھے۔
بھارت نے آخری چار اوورز میں69رنز بنا کر پاکستان کے لیے ہدف مزید مشکل بنا دیا۔
پاکستان کو گولڈ میڈل جیتنے کے لیے212رنز کا مشکل ہدف ملا۔ کپتان صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت نے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں تیز کھیلنے کی کوشش کی، لیکن چوتھے اوور میں واشنگٹن سندر نے انہیں آؤٹ کر دیا۔ پاکستان کی اننگز کا ابتدائی دو تہائی حصہ توقعات کے مطابق رہا، تاہم عثمان خان صرف تین اور معاذ صداقت23رنز بنا کر پویلین واپس چلے گئے۔

حسن نواز وکٹ پر آئے تو انہوں نے بھارتی بیٹرز کا جواب دیتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا اور اپنی ٹیم کو گولڈ میڈل جتوانے کی جدوجہد کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ انہیں چار رنز پر نئی زندگی ملی جب سوریا ونشی نے ابھیشک کی گیند پر ان کا کیچ گرا دیا۔
صائم ایوب بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے اور دونوں نے وکٹ کے چاروں جانب شاندار اسٹروکس کھیلے۔ چوتھی وکٹ کی شراکت میں دونوں نے8اوورز میں قابل قدر87رنز جوڑے۔ اس شراکت کے دوران محسوس ہونے لگا تھا کہ پاکستان مطلوبہ ہدف حاصل کر سکتا ہے۔
صائم ایوب15ویں اوور کی پہلی گیند پر شیوم دوبے کا شکار بنے۔ انہوں نے22گیندوں پر29رنز بنائے۔ اس وقت پاکستان کا اسکور126رنز تھا اور جیت کے لیے35گیندوں پر86رنز درکار تھے۔
حسن نواز انتہائی پراعتماد انداز میں بیٹنگ کر رہے تھے اور ان کا کھیل دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ پاکستان کو بھارت کے خلاف جیت سے ہمکنار کرنے کے عزم کے ساتھ پچ پر آئے ہیں۔ ان کا بلا بھارتی بولرز جسپرت بمرا، اکشر پٹیل، واشنگٹن سندر اور شیوم دوبے کے خلاف تیزی سے رنز اگلتا رہا۔
عبدالصمد نے حسن نواز کا ساتھ دیا اور دونوں نے20گیندوں پر36رنز کی شراکت قائم کی۔ عبدالصمد واشنگٹن سندر کا شکار بنے۔ اس وقت پاکستان کو15گیندوں پر50رنز درکار تھے، جو انتہائی مشکل ہدف تھا، تاہم حسن نواز اور سعد مسعود نے آخری دم تک کوشش جاری رکھی۔
حسن نواز20ویں اوور کی آخری گیند پر سنچری مکمل کرنے کی کوشش میں شیوم دوبے کی گیند پر وکٹ کیپر سیمسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے51گیندوں پر سات چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے96رنز کی انتہائی جارحانہ اور شاندار اننگز کھیلی۔ پاکستان6وکٹوں کے نقصان پر192رنز بنا سکا اور19رنز سے میچ ہار گیا۔
پاک بھارت مقابلوں کا دباؤ اور تجربے کا فرق
پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی20مقابلوں میں بھارتی ٹیم کی برتری برقرار رہی ہے۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والے مقابلوں کی تاریخ میں تجربہ، بڑے میچ کا دباؤ اور کھلاڑیوں کی بین الاقوامی سطح پر پختگی اہم عوامل رہے ہیں۔
ممتاز کرکٹ کمنٹیٹر، اسپورٹس صحافی اور تجزیہ کار مرزا اقبال بیگ نے نیویارک اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میں پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے ون ڈے اور ٹی20میچز تو کھیلے تھے لیکن انہیں بین الاقوامی کرکٹ کا اتنا تجربہ نہیں تھا، جبکہ بھارتی ٹیم میں ایسے تجربہ کار کھلاڑی شامل تھے جو بھارتی قومی ٹیم کا مستقل حصہ رہے ہیں۔
مرزا اقبال بیگ کے مطابق بھارتی کھلاڑیوں کو ٹی20انٹرنیشنل کے علاوہ آئی پی ایل کا بھی تجربہ حاصل ہے۔ بھارتی ٹیم نے پہلے پانچ اوورز میں80سے زیادہ رنز بنا لیے، جس کے بعد پاکستانی ٹیم پر دباؤ بڑھ گیا۔ تاہم پاکستانی بولرز نے درمیانی اوورز میں بھارتی رن ریٹ کو کسی حد تک کنٹرول کیا۔
انہوں نے پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ کو بھی انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ کئی کیچ ڈراپ ہوئے، رن آؤٹ کے مواقع ضائع ہوئے اور وکٹ کیپنگ میں بھی دباؤ نمایاں نظر آیا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے اس صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور آخری اوورز میں انتہائی جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے بڑا مجموعہ کھڑا کیا۔
پاکستانی بیٹنگ کے حوالے سے مرزا اقبال بیگ نے حسن نواز کی اننگز کو نمایاں قرار دیا۔ ان کے مطابق تین کھلاڑی39رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد حسن نواز اور صائم ایوب کی87رنز کی شراکت نے پاکستان کو دوبارہ کھیل میں واپس لایا۔ حسن نواز نے بھارتی بولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے۔
حسن نواز کی فارم میں واپسی پاکستان کے لیے ایک مثبت پہلو ہے۔ انہوں نے تقریباً تنہا پاکستانی اننگز کو ہدف کے قریب پہنچایا، جبکہ صائم ایوب نے بھی ایک حد تک ان کا ساتھ دیا۔
پاکستان کو ایشین گیمز مینز کرکٹ میں پہلی بار گولڈ میڈل کے لیے مزید مضبوط حکمت عملی، تجربے اور بہتر فیلڈنگ کی ضرورت ہوگی۔
مرزا اقبال بیگ نے کہا کہ پاکستان مسلسل سات ٹی20میچز بھارت سے ہار چکا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ کے لیے پاکستان کیا حکمت عملی ترتیب دیتا ہے تاکہ ٹیم کو کامیابی کے ٹریک پر واپس لایا جا سکے۔ ان کے مطابق توقع تھی کہ میچ یکطرفہ ہوگا، لیکن پاکستان نے بھارت کا جم کر مقابلہ کیا۔
ایشین گیمز میں پاکستان اب تک مینز کرکٹ میں گولڈ میڈل نہیں جیت سکا۔ دوسری جانب بھارتی ٹیم کو آئی پی ایل کے ذریعے اچھے کھلاڑیوں کی مسلسل کھیپ ملتی ہے، جو بڑے مقابلوں میں اس کی طاقت کا ایک اہم سبب ہے۔
سری لنکا نے کانسی کا تمغہ جیت لیا
کانسی کے تمغے کے لیے کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو63رنز سے شکست دے دی۔ سری لنکن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے20اوورز میں9وکٹوں پر162رنز بنائے، جس میں تھریندو رتنائیکے کے65، ساہن آراچیچگے کے33اور آشن بندرا کے16رنز شامل تھے۔
جواب میں بنگلہ دیشی ٹیم17.3اوورز میں102رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ نسیم احمد26رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ نوان تشارا، تھریندو رتنائیکے اور وانوجا ساہن نے دو، دو کھلاڑیوں کو پویلین پہنچایا۔
