• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ہماری الٹی زندگی⁦:⁩دل خطرے میں
ایشیا

ہماری الٹی زندگی⁦:⁩دل خطرے میں

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

اسحاق بلوچ

ہماری الٹی زندگی⁦:⁩دن نیند کے نام، رات کھانے کے نام اور دل خطرے میں

تحریر⁦:⁩اسحاق بلوچ

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو اپنے تعارف میں خود کو اسلامی جمہوریہ کہتا ہے۔ ہمارے گھروں، مساجد اور معاشرتی گفتگو میں اسلام کا ذکر عام ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری روزمرہ زندگی بھی اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے؟

یہ سوال صرف عبادات تک محدود نہیں۔ اسلام انسان کو زندگی گزارنے کا ایک متوازن طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ کھانے میں اعتدال، صحت کا خیال، جسم کو تکلیف سے بچانا، وقت کی قدر اور رات کو سکون و آرام کے لیے استعمال کرنا اسی متوازن زندگی کا حصہ ہیں۔

مگر ہماری عملی زندگی کا منظر کچھ اور ہے۔

یہ ہماری صحت کے خلاف ایک خاموش جنگ ہے۔

اور اس جنگ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں اس کے نتائج فوری طور پر دکھائی نہیں دیتے۔

ہم کھانا نہیں کھا رہے، ہم بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں

اسلام نے کھانے میں اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ قرآن مجید میں واضح ہدایت ہے:

"کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

(الاعراف: 31)

رسول اللہ ﷺ نے بھی پیٹ کو حد سے زیادہ بھرنے کے بجائے اعتدال کی تعلیم دی۔

لیکن ہمارے معاشرے میں کھانا اب صرف ضرورت نہیں رہا، تفریح بھی بن چکا ہے۔

رات کی دعوت ہو، دوستوں کی ملاقات ہو، دفتر سے واپسی ہو، بچوں کی فرمائش ہو یا صرف بوریت دور کرنی ہو—فوری حل اکثر کھانا ہے۔

اور وہ بھی ایسا کھانا جس میں نمک، چکنائی، چینی اور کیلوریز ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔

صحت اور طرز زندگی
غذائی عادات اور صحت

ہم اپنے بچوں کو سبزی اور پھل سے زیادہ برگر، پیزا، فرائز اور میٹھے مشروبات کا عادی بنا رہے ہیں۔ پھر جب بچہ جسمانی طور پر کمزور، موٹاپے کا شکار یا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں یہ سب کیسے ہوگیا؟

حقیقت یہ ہے کہ بیماری اچانک نہیں آتی۔

ہم اسے برسوں تک اپنے ہاتھوں سے پالتے ہیں۔

پاکستان میں دل کا خطرہ اب صرف بوڑھوں کا مسئلہ نہیں

حالیہ آگاہی و اسکریننگ سرگرمیوں میں ماہرین نے پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً⁦42⁩فیصد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

خطرناک بات صرف یہ تعداد نہیں۔

خطرناک بات یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اکثر خاموش رہتا ہے۔ انسان بظاہر بالکل ٹھیک دکھائی دے سکتا ہے، روزمرہ کام کر سکتا ہے، دفتر جا سکتا ہے، دوستوں کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے اور رات کو ریسٹورنٹ میں کھانا بھی کھا سکتا ہے—لیکن اس کے جسم کے اندر مسلسل بلند فشارِ خون دل، دماغ، گردوں اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اور جب خطرے کی خبر ملتی ہے تو بعض اوقات بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

دل کا دورہ، فالج، گردوں کی بیماری اور دیگر پیچیدگیاں صرف کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں نہیں۔ یہ ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی ہیں۔

سب سے خوفناک حقیقت⁦:⁩نوجوان بھی محفوظ نہیں

کراچی پریس کلب میں آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے اشتراک سے منعقدہ طبی کیمپ میں ماہرین نے بھی طرزِ زندگی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں دل سمیت مختلف بیماریوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور غیر صحت مند طرزِ زندگی نوجوانوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

کارڈیالوجی کے ماہرین نے خوراک میں احتیاط، جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور فاسٹ فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی پر زور دیا۔

یہ بات خاص طور پر والدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

ہم اپنے بچوں کو خوش کرنے کے نام پر انہیں کیا دے رہے ہیں؟

  • گھر کا پھل نہیں، پیکٹ کا جوس۔
  • گھر کا کھانا نہیں، فاسٹ فوڈ۔
  • پانی نہیں، میٹھے مشروبات۔
  • کھیل کا میدان نہیں، موبائل فون۔

اور پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صحت مند بھی رہیں!

یہ کیسے ممکن ہے؟

رات ہماری نیند کے لیے تھی، ہم نے اسے بازار بنا دیا

اسلامی تہذیب میں رات اور دن کا ایک واضح نظم موجود ہے۔ قرآن مجید میں رات کو آرام اور دن کو معاشی و عملی سرگرمی کے لیے بنایا جانے کا ذکر ملتا ہے:

"اور ہم نے رات کو پردہ بنایا، اور دن کو معاش کے لیے بنایا۔”

(النبأ: 10-11)

یہ محض ایک مذہبی حوالہ نہیں، انسانی جسم کی فطری ترتیب بھی دن کی روشنی اور رات کے آرام سے جڑی ہے۔

لیکن ہمارا معاشرہ اس ترتیب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

رات بارہ بجے بھی سڑکیں آباد۔
ایک بجے بھی ریسٹورنٹس بھرے ہوئے۔
دو بجے بھی چائے کے ڈھابوں پر رش۔
تین بجے تک موبائل ہاتھ میں۔

اور پھر صبح کے وقت الارم بجتا ہے تو ہم کہتے ہیں:

"بس پانچ منٹ اور!”

وہ پانچ منٹ اکثر ایک اور گھنٹے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

رات اور شہری زندگی
رات گئے سرگرمیاں

نیند کی کمی کو معمولی نہ سمجھیں

ہم نے نیند کو عیاشی سمجھ لیا ہے، حالانکہ مناسب نیند جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔

مسلسل کم یا بے ترتیب نیند انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔ جب نیند پوری نہ ہو تو تھکن، توجہ میں کمی، موڈ میں خرابی اور روزمرہ کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ طویل مدت تک غیر صحت مند نیند کے معمولات مختلف صحت کے خطرات سے بھی وابستہ ہیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اس خطرے کو اس وقت محسوس کرتے ہیں جب صبح اٹھتے ہوئے جسم بوجھ بن چکا ہوتا ہے، سر بھاری ہوتا ہے، کام میں دل نہیں لگتا اور دن کا آغاز ہی تھکن سے ہوتا ہے۔

پھر اسی تھکن کو دور کرنے کے لیے چائے، کافی، انرجی ڈرنک اور سگریٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔

یوں ایک غلط عادت دوسری غلط عادت کو جنم دیتی ہے۔

رات گئے کھانا⁦:⁩عادت جو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہے

ہماری ایک اور خطرناک عادت رات گئے کھانا ہے۔

رات کے کھانے کو اکثر آدھی رات کے بعد تک موخر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فوراً بستر۔

جسم کو خوراک ہضم کرنے کا وقت چاہیے، لیکن ہم کھانے کے فوراً بعد لیٹ جاتے ہیں اور اسے معمول سمجھتے ہیں۔

مسئلہ صرف وقت کا نہیں بلکہ کیا، کتنا اور کتنی بار کھایا جا رہا ہے، یہ بھی اہم ہے۔

رات گئے بھاری، چکنائی سے بھرپور یا بہت زیادہ کھانا صحت مند معمول نہیں۔

ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ⁦”⁩رات کی محفل کھانے کے بغیر ادھوری ہے۔”

محفل ہو سکتی ہے۔
ملاقات ہو سکتی ہے۔
دوستوں کے ساتھ بیٹھنا بھی ہو سکتا ہے۔

مگر ہر ملاقات کا اختتام بریانی کی دیگ، کباب، برگر، پیزا، کولڈ ڈرنک اور میٹھے پر ہونا ضروری نہیں۔

رات کا کھانا اور صحت
غذائی عادات

10 ہزار سے زیادہ لوگوں کی اسکریننگ—ایک بڑا سوال

حالیہ عالمی یوم قلب کی سرگرمیوں کے سلسلے میں ملک کے⁦19⁩شہروں میں⁦50⁩سے زائد مفت اسکریننگ کیمپ لگائے گئے، جہاں⁦10⁩ہزار سے زیادہ بالغ افراد کے بلڈ پریشر کی جانچ کی گئی اور کولیسٹرول ٹیسٹ سمیت دیگر سہولتیں فراہم کی گئیں۔

کراچی، لاہور، ملتان، راولپنڈی، پشاور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سکھر، کوئٹہ، حیدرآباد، نواب شاہ اور دیگر شہروں میں آگاہی اور اسکریننگ سرگرمیاں ہوئیں۔

ماہرین نے ایک اہم بات بھی واضح کی کہ صرف ایک مرتبہ بلڈ پریشر زیادہ آنے سے ہائی بلڈ پریشر کی حتمی تشخیص نہیں کی جاتی۔ دوبارہ پیمائش، طبی معائنہ اور ضرورت کے مطابق فالو اپ ضروری ہے۔

یعنی خوفزدہ ہونے کی نہیں، بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

اپنا بلڈ پریشر چیک کریں۔

بلڈ شوگر معلوم کریں۔

کولیسٹرول کی جانچ کروائیں۔

وزن اور کمر کے حجم پر نظر رکھیں۔

اور اگر ڈاکٹر علاج تجویز کرے تو اسے اپنی مرضی سے بند نہ کریں۔

ترقی یافتہ معاشرے صرف عمارتوں سے نہیں بنتے

ہم ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہیں۔

وہاں سڑکیں بہتر ہیں۔
نظام بہتر ہے۔
ٹیکنالوجی بہتر ہے۔
معیشت مضبوط ہے۔

لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ صحت مند معاشرہ بنانے میں روزمرہ نظم و ضبط بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے؟

وقت پر سونا۔

وقت پر اٹھنا۔

مناسب مقدار میں کھانا۔

روزانہ جسمانی سرگرمی کرنا۔

تمباکو نوشی سے بچنا۔

نمک اور غیر صحت بخش خوراک کم کرنا۔

باقاعدگی سے طبی معائنہ کرانا۔

یہ کوئی مہنگے فارمولے نہیں۔

یہ ایسی عادات ہیں جو عام آدمی بھی اپنی زندگی میں شامل کر سکتا ہے۔

والدین⁦!⁩بچوں کو بیماریوں کا تحفہ نہ دیں

آج کا بچہ کل کا بیمار نوجوان نہ بن جائے، اس کے لیے والدین کو ابھی فیصلہ کرنا ہوگا۔

بچوں کو ہر رونے پر فاسٹ فوڈ نہ دیں۔
ہر کامیابی پر پیزا پارٹی نہ کریں۔
ہر ویک اینڈ کو ریسٹورنٹ سے نہ جوڑیں۔

بچوں کو کھیلنے دیں۔
انہیں چلنے دیں۔
انہیں پانی پینے کی عادت ڈالیں۔
گھر کے کھانے کو ترجیح دیں۔

پھل، سبزیاں اور متوازن غذا ان کی زندگی کا حصہ بنائیں۔

اور سب سے اہم بات:

بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

اگر باپ رات دو بجے تک موبائل دیکھے گا تو بچے سے دس بجے سونے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

اگر گھر میں ہر دوسرے دن فاسٹ فوڈ آئے گا تو بچے سبزی کیوں مانگیں گے؟

اگر والدین خود ورزش نہیں کریں گے تو بچوں کو جسمانی سرگرمی کی اہمیت کیسے سمجھ آئے گی؟

بیماری سے پہلے بیدار ہونا ہوگا

امراض قلب کے کئی خطرات ایسے ہیں جنہیں طرزِ زندگی، باقاعدہ طبی معائنے اور مناسب علاج کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔

اسی لیے صحت مند زندگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی بیمار نہ ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

بلڈ پریشر بڑھنے کے بعد نہیں، پہلے اس کی جانچ کریں۔
وزن بہت بڑھنے کے بعد نہیں، پہلے خوراک درست کریں۔
دل کا دورہ پڑنے کے بعد نہیں، پہلے جسمانی سرگرمی شروع کریں۔
ڈاکٹر کے پاس پہنچنے کے بعد نہیں، بیماری سے پہلے احتیاط کریں۔

ہمیں اپنی گھڑی دوبارہ درست کرنا ہوگی

ہماری زندگی کی گھڑی الٹی چل رہی ہے۔

دن میں نیند، رات میں جاگنا۔
دن میں سستی، رات میں سرگرمی۔
دن میں بے وقت کھانا، رات میں بھرپور کھانا۔

اور پھر شکایت کہ جسم ساتھ نہیں دے رہا۔

وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی گھڑی دوبارہ درست کریں۔

رات کو جلد سونے کی کوشش کریں۔
صبح جلد اٹھیں۔
دن کو کام، تعلیم، عبادت اور جسمانی سرگرمی کے لیے استعمال کریں۔
کھانے میں اعتدال اختیار کریں۔
پیٹ کو ہر وقت بھرے رہنے کی ضرورت نہیں۔
فاسٹ فوڈ کو معمول نہیں، کبھی کبھار کی چیز بنائیں۔
نمک کم کریں۔
تمباکو سے دور رہیں۔
روزانہ چلنے پھرنے یا ورزش کے لیے وقت نکالیں۔

اور سب سے بڑھ کر اپنی صحت کے بارے میں اس وقت سنجیدہ ہوں جب ہم بظاہر بالکل ٹھیک ہوں۔

کیونکہ بعض بیماریوں کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ وہ آنے سے پہلے شور نہیں کرتیں۔

دل خاموشی سے کمزور ہوتا رہتا ہے۔
خون کی نالیاں خاموشی سے متاثر ہوتی رہتی ہیں۔
بلڈ پریشر خاموشی سے بڑھتا رہتا ہے۔

اور ایک دن انسان کے پاس صرف ایک سوال رہ جاتا ہے:

"کاش میں نے پہلے احتیاط کی ہوتی!”

ہمیں اس⁦”⁩کاش⁦”⁩تک پہنچنے سے پہلے رکنا ہوگا۔

اسلام ہمیں اعتدال سکھاتا ہے۔

ہماری اپنی تہذیبی روایات بھی سادگی اور نظم کی تعلیم دیتی ہیں۔

اور جدید طب بھی متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور صحت مند طرزِ زندگی کی اہمیت واضح کرتی ہے۔

تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟

مسئلہ ہماری معلومات کی کمی سے زیادہ عمل کی کمی ہے۔

آئیے آج سے فیصلہ کریں کہ رات کو رات رہنے دیں گے، دن کو دن۔

کھانے کو ضرورت رہنے دیں گے، نشہ نہیں۔

فاسٹ فوڈ کو ذائقے کی حد تک رکھیں گے، زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے۔

اور اپنے بچوں کو ایسی زندگی دیں گے جس میں موبائل سے زیادہ میدان، برگر سے زیادہ متوازن غذا اور رات گئے جاگنے سے زیادہ پرسکون نیند ہو۔

کیونکہ قومیں صرف تعلیم یافتہ ہونے سے ترقی نہیں کرتیں۔

قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب ان کے شہری صحت مند، منظم اور اپنے جسم و وقت کی قدر کرنے والے ہوں۔

اور شاید ہمیں ترقی کی طرف اپنا اگلا قدم کسی بڑے منصوبے سے نہیں بلکہ آج رات وقت پر سو کر اور اگلے کھانے میں اعتدال اختیار کرکے اٹھانا چاہیے۔

تحریر⁦:⁩اسحاق بلوچ
صحت، طرزِ زندگی، اعتدال اور معاشرتی نظم پر ایک فکری تحریر

اسحاق بلوچ اسلامی تعلیمات اعتدال امراض قلب بچوں کی صحت بلڈ پریشر پاکستان دل کی بیماریاں صحت صحت کا شعور صحت مند زندگی صحت مند معاشرہ طرز زندگی غذائی عادات فاسٹ فوڈ متوازن غذا نوجوانوں کی صحت نیند ہائی بلڈ پریشر ورزش
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاسرائیل مخالف بیانیے پر ہکابی کا انتباہ
Next Article پاکستان میں تشدد سے ہلاکتوں میں⁦83⁩فیصد اضافہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ایشیا

گلگت بلتستان⁦:⁩روزانہ⁦15⁩ارب کا سونا چوری ہونے کا انکشاف 

اکتوبر 28, 2026
تازہ ترین

اقلیتی بچیوں کا تحفظ

اکتوبر 26, 2026
تازہ ترین

پانچ ممالک میں مذہبی آزادی کے حوالے سے⁦USCIRF⁩رپورٹس

اکتوبر 22, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.