فرانس|امریکی سیاست|امیگریشن
فرانس میں ہنگاموں پر جے ڈی وینس کی فرانسیسی امیگریشن پالیسی پر تنقید
امریکی نائب صدر نے فرانس کے مظاہروں کو ہجرت اور انضمام کی ناکامی سے جوڑا، جبکہ فرانسیسی حکام نے تشدد کا ذمہ دار انتہا پسند بائیں بازو کے گروہوں اور شرپسند عناصر کو قرار دیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فرانس میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران پھوٹنے والے تشدد کو امیگریشن اور تارکینِ وطن کو معاشرے میں ضم کرنے کی ناکام پالیسیوں سے جوڑا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک جلتے ہوئے سٹی ہال کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے فرانس کی صورتِ حال کو امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیوں سے بھی منسلک کیا اور خبردار کیا کہ اگر امیگریشن اور معاشرتی انضمام کے بنیادی سوالات نظرانداز کیے گئے تو امریکا کو بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وینس نے ہفتے،17اکتوبر2026کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مغربی لبرل سیاست دانوں نے تنوع اور ہمدردی کے نام پر تیسری دنیا کے لوگوں کو فرانس اور دوسرے ممالک میں آباد کیا، لیکن معاشرے میں ان کے انضمام اور مختلف ثقافتوں کے درمیان مطابقت سے متعلق بنیادی سوالات کو نظرانداز کیا۔ ان کے بقول، انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اس طرزِ عمل کے نتائج ایسے ہو سکتے ہیں، مگر انہوں نے ان انتباہات پر توجہ نہیں دی۔
امریکی نائب صدر نے فرانس کے بارے میں اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ یہ خوبصورت ملک، جس کے لوگ ان کے بقول قابلِ احترام ہیں، مزید تاریخی عمارتوں کے جلنے سے پہلے اس صورتِ حال کو روکنے میں کامیاب ہو گا۔ انہوں نے امریکی شہریوں کو بھی فرانس کے واقعات سے سبق سیکھنے کی تلقین کی اور دعویٰ کیا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس امریکا کو اسی سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ وینس نے اپنے بیان کے ساتھ لیموژ شہر کے سٹی ہال میں لگی آگ کی ویڈیو بھی شیئر کی۔
فرانس میں مظاہرے کیسے پُرتشدد ہوئے؟
فرانس میں17اکتوبر کو مہنگائی، زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، عوامی خدمات میں کمی اور اسکولوں کی خراب صورتِ حال کے خلاف ملک بھر میں بڑے مظاہرے ہوئے۔ فراہم کردہ رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں میں پانچ لاکھ پچاس ہزار سے آٹھ لاکھ کے درمیان افراد نے شرکت کی، جبکہ ملک بھر میں تقریباً110مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں ہوئیں۔ یہ احتجاج کئی ہفتوں سے جاری طلبہ تحریک کے بعد وسیع تر شکل اختیار کر گیا تھا۔
اگرچہ مظاہرین کی اکثریت نے پُرامن مارچ میں حصہ لیا، تاہم متعدد شہروں میں احتجاج کے دوران تشدد، آتش زنی، لوٹ مار اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے واقعات سامنے آئے۔ نقاب پوش شرپسندوں نے سٹی ہالز، پولیس اسٹیشنوں اور دیگر عوامی عمارتوں کو نشانہ بنایا، جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
لیموز شہر میں انیسویں صدی کی تاریخی سٹی ہال کی عمارت مظاہرین کی جانب سے آگ لگائے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر تباہ ہو گئی۔ فرانسیسی حکام کی جانب سے گرفتاریوں کے مختلف اعداد و شمار سامنے آئے، جن میں تقریباً1,200سے لے کر2,000سے زیادہ افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات شامل ہیں۔ مختلف رپورٹس میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تعداد بھی درجنوں سے لے کر سینکڑوں تک بتائی گئی۔ پیرس میں ایک مظاہرین کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوئی، تاہم حکام کے مطابق اس موت کا تشدد سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔
فرانسیسی حکومت نے تشدد کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا؟
فرانسیسی وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو اور دیگر حکام نے مظاہروں کے دوران ہونے والی بدامنی کا ذمہ دار بنیادی طور پر انتہا پسند بائیں بازو کے گروہوں، توڑ پھوڑ کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث عناصر کو قرار دیا۔ فرانسیسی حکام نے تشدد کے ان واقعات کو امیگریشن سے جوڑنے کے بجائے ان گروہوں کی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی جو پُرامن احتجاج کے دوران حالات کو خراب کرنے میں ملوث تھے۔
صدر ایمانوئل میکرون نے بعد ازاں قوم سے خطاب کرتے ہوئے تشدد کی مذمت کی، اسے غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ ان واقعات پر ملک میں غصے اور شرمندگی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے تباہی اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو جواب دہ بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق طلبہ کے احتجاج کے ساتھ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور میکرون حکومت سے عدم اطمینان کے خلاف وسیع تر مظاہرے بھی شامل ہوتے گئے۔ وقت کے ساتھ مزدور یونینوں، یونیورسٹی طلبہ، یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں اور مختلف سیاسی تنظیموں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔
طلبہ کے مطالبات سے ملک گیر احتجاج تک
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق احتجاج کا آغاز ستمبر کے وسط میں ہوا، جب طلبہ نے اساتذہ کی تعداد بڑھانے، اسکولوں کی سہولتوں کو بہتر بنانے اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کیے۔ چند ہی ہفتوں میں یہ تحریک سینکڑوں اسکولوں اور بڑے شہری مراکز تک پھیل گئی، جبکہ یکم اکتوبر تک فرانسیسی حکام بڑھتی ہوئی بدامنی کو شہری علاقوں میں تشدد کے طور پر بیان کرنے لگے۔
نانت شہر میں ایک ہائی اسکول کے داخلی حصے میں آگ لگائی گئی، جبکہ پیرس میں تعلیمی اداروں کے قریب رکاوٹیں نذرِ آتش کی گئیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں نے کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی اور آمدورفت کو متاثر کیا۔ فرانسیسی حکومت کا مؤقف تھا کہ انتہا پسند گروہ اور جرائم پیشہ عناصر طلبہ کے احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
مظاہروں میں فلسطینی پرچم اور بائیں بازو کی سیاست
فرانس کے مظاہروں نے ایک وسیع تر سیاسی رنگ بھی اختیار کیا، جہاں بعض مقامات پر فلسطینی پرچم، کمیونسٹ بینر اور انقلابی نعرے دکھائی دیے۔ ایپوک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق8اکتوبر کو پیرس کے تاریخی پلیس دے لا باستیل میں ہونے والے مظاہرے کے دوران فلسطینی اور کمیونسٹ پرچم نمایاں تھے، جبکہ بعض مظاہرین نے نئے انقلاب کا مطالبہ کیا۔
ٹائمز آف اسرائیل میں9اکتوبر کو شائع ہونے والے ایک تبصرے میں صحافی پاؤلا سلیر نے سوال اٹھایا کہ اس احتجاج میں فلسطینی علامتیں اس قدر نمایاں کیوں ہو گئیں، حالانکہ طلبہ تحریک کے ابتدائی مطالبات اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی گرتی ہوئی حالت سے متعلق تھے۔ اس بحث نے یہ سوال پیدا کیا کہ آیا بعض سیاسی گروہ طلبہ کی تحریک کو اس کے اصل تعلیمی مطالبات سے ہٹ کر دوسرے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم مظاہروں میں فلسطینی پرچموں یا بائیں بازو کی علامتوں کی موجودگی بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ تمام مظاہرین ایک ہی سیاسی مقصد کے تحت جمع ہوئے تھے۔ احتجاج میں طلبہ، مزدور یونینوں اور مختلف سیاسی گروہوں کی شرکت نے اس تحریک کو کئی مختلف مطالبات اور رجحانات کا مجموعہ بنا دیا۔
ٹرمپ کا ردعمل اور امریکی وسط مدتی انتخابات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فرانس کے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فرانس جل رہا ہے، اور بدامنی کو بے قابو امیگریشن سے جوڑا۔ انہوں نے فرانس سے اپنی سرحدیں بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس طرح فرانس کے مظاہرے امریکا میں امیگریشن پالیسی پر جاری سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب3نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔
وینس کے بیان کا بنیادی مقصد فرانس کے واقعات کو امریکی ووٹروں کے سامنے ایک انتباہ کے طور پر پیش کرنا تھا۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کی امیگریشن پالیسی کو فرانس کی صورتِ حال سے جوڑتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ تارکینِ وطن کو معاشرے میں ضم کرنے اور قومی شناخت سے متعلق سوالات نظرانداز کرنے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
تاہم فراہم کردہ بین الاقوامی رپورٹنگ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وینس نے اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد کو بنیادی طور پر امیگریشن سے منسلک کرنے کے لیے کوئی مخصوص ثبوت پیش نہیں کیا۔ اس کے برعکس فرانسیسی حکام نے بدامنی کے ذمہ داروں کے طور پر انتہا پسند گروہوں، شرپسندوں اور لوٹ مار کرنے والوں کی نشاندہی کی۔ اس لیے فرانس میں ہونے والے واقعات کی وجوہات کے بارے میں سیاسی دعووں اور سرکاری تحقیقات کے نتائج میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
فرانس کو درپیش وسیع تر چیلنج
فرانس2027کے صدارتی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے اور امیگریشن، قومی شناخت، عوامی تحفظ اور معاشی عدم استحکام پہلے ہی ملک کی سیاست میں گہری تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ حالیہ تشدد نے حکومت کی اس صلاحیت پر مزید سوالات اٹھائے ہیں کہ وہ ایک طرف شہری نظم و ضبط برقرار رکھ سکے اور دوسری طرف طلبہ اور محنت کش خاندانوں کی حقیقی شکایات کا ازالہ بھی کر سکے۔
اسلامی انتہا پسندی کے خطرے اور بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم سے متعلق خدشات کے پس منظر میں یہ بحران ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے:کیا فرانسیسی حکومت عوامی نظم و ضبط بحال کرتے ہوئے ان مسائل کو حل کر سکتی ہے جنہوں نے لاکھوں نہیں بلکہ لاکھوں کے قریب افراد کو سڑکوں پر آنے پر آمادہ کیا؟ یا سیاسی احتجاج اور معاشی بے چینی مسلسل شہری بدامنی میں تبدیل ہوتی رہے گی؟
