• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » تاجکستان کا دین اور ریاست⁦:⁩امن یا جبر کی کشمکش؟
تازہ ترین

تاجکستان کا دین اور ریاست⁦:⁩امن یا جبر کی کشمکش؟

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

نقطۂ نظر   |   بین الاقوامی امور

تاجکستان کا دین اور ریاست⁦:⁩امن یا جبر کی کشمکش؟

مذہبی آزادی، قومی سلامتی اور ریاستی نگرانی کے درمیان توازن کا ایک اہم سوال

احمد نعیم خان

تحریر
احمد نعیم خان
تجزیہ و رائے

تاجکستان میں مذہبی تعلیم اور مساجد پر عائد پابندیوں کو اکثر جبر کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے حامی اسے ایک ایسی حقیقت پسندانہ ردِ عمل کے طور پر دیکھتے ہیں جو ملک کی اپنی تاریخ کے تلخ تجربات سے جنم لیتا ہے۔

ایک ملک جسے اپنی خانہ جنگی کا داغ یاد ہے

نوے کی دہائی میں تاجکستان نے ایک ایسی ہولناک خانہ جنگی کا سامنا کیا جس میں اسلام پسند اپوزیشن ایک اہم فریق تھی اور دسیوں ہزار بے گناہ لقمہ اجل بنے۔ جو حکومت یہ جانتی ہو کہ مذہبی سیاست کتنی تیزی سے مسلح تصادم کی آگ بھڑکا سکتی ہے، وہ اس فضا کو ضابطے میں لاتے ہوئے خوف زدہ نہیں کہلاتی جہاں سے ایسی سیاست پنپتی ہے۔ امن ہی ہر شے کی بنیاد ہے، بشمول خوشحالی، تعلیم اور بالآخر حقیقی آزادی کے۔

❝

امن ہی ہر شے کی بنیاد ہے، بشمول خوشحالی، تعلیم اور بالآخر حقیقی آزادی کے۔

انتہا پسندی کا خطرہ ایک تلخ حقیقت ہے

وسطی ایشیا کے ہزاروں افراد کو بیرونی انتہا پسند گروہوں نے اپنی صفوں میں شامل کیا ہے، جن میں تاجک شہری بھی شامل ہیں جو بیرونِ ملک یا تو ان کا حصہ بنے یا حملوں میں ملوث رہے۔ انتہا پسندوں کی نظریں بالخصوص نوجوانوں پر ہوتی ہیں جو تنہا، زندگی کے معنی کی تلاش میں سرگرداں اور اس قابل نہیں ہوتے کہ پیچیدہ فریب کاریوں کا ادراک کر سکیں۔

حامیوں کا مؤقف ہے کہ سات یا بارہ سال کا بچہ متضاد مذہبی دعوؤں میں توازن قائم کرنے کی سکت نہیں رکھتا، اور ایسے بے قابو اساتذہ جو بعض اوقات بیرونِ ملک سے تربیت یافتہ یا مالی معاونت یافتہ ہوتے ہیں، ایسے خیالات کی تخم ریزی کر سکتے ہیں جنہیں مٹانے میں سالوں بیت جاتے ہیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو جنازوں کے علاوہ عوامی مذہبی سرگرمیوں سے دور رکھنا دراصل اس عمر کے طبقے کو تحفظ فراہم کرتا ہے جسے یہ عناصر سب سے زیادہ ہدف بناتے ہیں۔

بچے ایک کھلے مستقبل کے حق دار ہیں

جیسے کہ فلسفی جوئل فینبرگ کا نظریہ ہے کہ بچوں کا حق ہے کہ انہیں ایک کھلا مستقبل ملے، اور بہائی تعلیمات بھی اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عقیدے کی جستجو آزادانہ ہونی چاہیے نہ کہ ورثے میں ملی ہوئی۔ اگر کوئی بچہ شعوری طور پر کسی نظریے پر رضا مندی ظاہر کرنے کی عمر میں نہیں ہے، تو بالغ ہونے تک عوامی مذہبی سرگرمیوں میں شرکت کو مؤخر کرنا اس طفلِ معصوم کو خود اپنے انتخاب کا حق دیتا ہے۔

جہنم کے خوف پر مبنی تعلیمات یا دوسرے عقائد کے لیے حقارت کے جذبات کو کسی بھی ریاست کے لیے گھروں کی چار دیواری کے اندر جانچنا محال ہے۔ لہٰذا، عمر کی ایک واضح حد قائم کرنا زیادہ سہل اور منصفانہ ہے۔

ریاستی نگرانی فریب کاریوں سے بچاؤ کا حصار ہے

مذہب کو لوگوں پر تسلط جمانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور آج بھی یہ حربہ کارگر ہے۔ ہر ضلع میں ایک مرکزی جمعہ مسجد کا قیام، ائمہ کی ریاستی توثیق، اور خطبات کے تجویز کردہ معیارات اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی انفرادی خطیب یا بیرونی نیٹ ورک اپنا ذاتی اقتدار کا قلعہ نہ کھڑا کر سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خطبات محض ایک تجویز کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا مقصد پیغامات میں یکسانیت اور انہیں سیاست سے بالا تر رکھنا ہے۔ حامی اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک تعلیمی اداروں کے منتظمین اور ان کے نصاب کو ضابطے میں لاتے ہیں، اور کوئی بھی ریاست بچوں کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں رہتی۔

سیکولر ازم ہر فرد کے لیے ایک ڈھال ہے

تاجکستان کا دستور دین کو ریاست سے الگ کرتا ہے۔ ایک سیکولر نظام اقلیتوں، خواتین اور مختلف عقائد کے حامل افراد کو ایک غالب مذہب کے دباؤ سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں بھی جہاں نوے فیصد یا اس سے زائد آبادی مسلمان ہے، امنِ عامہ کا قیام اس بات کا متقاضی ہے کہ کوئی ایک گروہ بھی اپنے عقیدے کو دوسروں پر مسلط نہ کر سکے۔

آزادی اور سلامتی کے درمیان نازک توازن

پالیسی کے حامی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اقدامات کچھ آزادیوں کو محدود ضرور کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر معاشرہ آزادی اور سلامتی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ ایک نوخیز، مابعدِ جنگ ریاست جو حقیقی انتہا پسندی کے گرداب میں گھری ہو، وہ مالدار اور مستحکم جمہوریتوں کے فیصلوں کی ہو بہو نقل نہیں کر سکتی۔

ادارتی نوٹ:
یہ مضمون تاجکستان میں مذہب، ریاستی پالیسی، قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کے بارے میں ایک نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ مضمون میں بیان کردہ دلائل کو پالیسی کے حامیوں کے مؤقف کے طور پر پڑھا جائے؛ ان سے اختلاف اور آزادانہ تنقیدی جائزے کی گنجائش برقرار ہے۔

احمد نعیم خان، مصنف

مصنف
احمد نعیم خان
نقطۂ نظر | NY Urdu

احمد نعیم خان اسلام اور ریاست انتہا پسندی تاجکستان سیکولر ازم شہری آزادی قومی سلامتی مذہبی آزادی مذہبی تعلیم وسطی ایشیا
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleپنجاب کو موٹرویز، سندھ کو سنگِ بنیاد
Next Article اداریہ⁦:⁩پیرس جل رہا ہے
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.