پیرس جل رہا ہے
کیا پیرس جل رہا ہے!صدیوں سالوں سے یہ جملہ تاریخ کی شاہراہوں اور تاریک گلیوں سے گزرتا ہوا ایک صدا، ایک بازگشت بن کر ایک سے زیادہ بار انسانی نسلوں کے کانوں سے ٹکراتا رہا ہے۔ پیرس جل رہا ہے، کیا پیرس جل رہا ہے؟
اٹھارہ سو اکہتر میں پیرس کا پروشیا کے ہاتھوں گھیراؤ ہو کہ پہلی جنگ عظیم، ہٹلر کے یہودیوں پر مظالم اور نازی فوجوں کی پیرس پر یلغار ہو کہ انیس سو ساٹھ کی عالمی طلبہ تحریک کا مدوجزر، جو پیرس سے پاکستان تک انیس سو ساٹھ کے عشرے کے آخری سالوں میں اٹھی تھی۔
آج پھر پیرس، جو مانا کہ ہر مہذب انسان کا دوسرا گھر ہے، وہ پیرس پھر جل رہا ہے۔
جب آخری بار پیرس جل رہا تھا تب ژاں پال سارتر تھا، البر کامیو تھا، آندرے مالرو تھا، چارلس ڈیگال تھا۔ جس نے کہا تھا، “ژاں پال سارتر کو کیونکر جیل بھیجوں۔ سارتر فرانس ہے اور فرانس سارتر۔” آج اس فرانس اور سارتر کا پیرس جل رہا ہے۔
وہ فرانسیسی حکومت جس نے اسرائیل کے ساتھ غزہ کے قضیے پر تعلقات نچلی سطح پر لا کر رکھ دیے ہیں، اب خود پیرس کی گلیوں میں پولیس ریاست ہونے کا تمام تر طاقت و رعونت سے مظاہرہ کیے ہوئے ہے۔ جیلیں جوان مرد و زن سے بھری ہیں۔ وہاں پیرس کا میئر اپنی ہی ماتحت پولیس کے سامنے سینہ سپر مظاہرین اور بلوائیوں کے بیچ انسانی ڈھال بنا ہوا ہے۔ یہ آج کا پیرس ہے، کل کا رنگون۔ آج کا فرانس ہے کہ کل کا میانمار!اگر آج کا فرانس ہے تو انیسویں صدی کے انقلاب کا ٹیمو ورژن پیش کر رہا ہے۔ روسو، والٹیئر، ایمائل زولا، وکٹر ہیوگو، ریمبو کا فرانس کیا ہوا؟ وہ فرانس جس نے کبھی اپنی آستینوں میں سانپ پالے تھے، آیت اللہ خمینی اور اس کے ساتھیوں کی شکل میں۔ کل تک اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں پیرس میں فلسطینی جھنڈے لہرائے جاتے تھے، اب ان سے کئی گنا بڑے مظاہروں میں فلسطینی پرچم تو کہیں ہیں مگر فرانس کے خلاف۔
پیرس کی گلیوں میں یہودی شہری یہود نفرت کا شکار ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے انہیں صحیح مشورہ دیا ہے کہ فرانس کے یہودی اسرائیل نقل وطنی کر آئیں۔ فرانسیسی حکومت یہودیوں اور اسرائیلیوں کے تحفظ میں ناکام گئی ہے۔ اور دنیا جہان کے دہشت گردوں اور متشدد انتہا پسندوں کی فرانس میں ٹڈی دل کی طرح آمد اور ان کے قیام یا امیگریشن پر کوئی کنٹرول یا چیک اینڈ بیلنس میں بھی مکمل طرح ناکام گئی ہے۔ اب پیرس دنیا بھر کے دہشت گردوں اور متشدد انتہا پسندوں کا دوسرا گھر لگتا ہے۔
اور اب پیرس جل رہا ہے اور میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھے جانے والے مناظر اور ان مناظر میں جلتا بھسم ہوتا ہوا ایوا گاردے پیرس کے چرچ، مارکیٹ، مجسمے اور مال۔ بے روزگاری، مہنگائی، اقتصادی غیر برابری سے تنگ آید بجنگ آید نوجوان، زی جن۔ ہمارے عہد کے نئی نسل کے سندھی شاعر حسن درس نے شاید انہیں مناظر کے لیے کہا تھا:
کون جو شاہد بنے
اور زہر میں شہد بنے۔
زہر میں شہد فرانسیسی حکومت نہیں بن سکتی۔ لیکن اسے حالات کو کنٹرول کرنا چاہیے۔
