فرانس میں بدامنی:بائیں بازو کی تحریکوں کا کردار
احتجاجی تحریکوں کے وسیع نیٹ ورک، کمیونسٹ تنظیموں اور مزدور یونینوں کے کردار پر ایک رپورٹ؛ فرانس میں پُرتشدد واقعات کے بعد ہزاروں گرفتاریاں
فاکس نیوز ڈیجیٹل کی ایک تحقیق کے مطابق فرانس میں احتجاجی تحریکوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس سے54تنظیمیں وابستہ پائی گئیں، جن میں سے صرف16طلبہ یا نوجوانوں کی تنظیمیں تھیں، جبکہ باقی میں کمیونسٹ گروپ، مزدور یونینیں، انقلابی سوشلسٹ تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور بین الاقوامی کارکنوں کے نیٹ ورکس شامل تھے۔
کمیونسٹ تنظیموں، سوشلسٹ تحریکوں، مزدور یونینوں اور فلسطین کے حامی کارکنوں کے ایک وسیع نیٹ ورک نے فرانس میں بڑھتی ہوئی بدامنی کو ہوا دینے میں کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ کے مظاہرے ملک گیر سیاسی بغاوت کی شکل اختیار کرتے دکھائی دیے ہیں اور متعدد شہروں میں آگ زنی، لوٹ مار اور پولیس کے ساتھ پُرتشدد جھڑپوں کے نشانات باقی رہ گئے ہیں۔
فاکس نیوز ڈیجیٹل کی ایک تحقیق میں احتجاجی مظاہروں یا ان کے وسیع تر معاون نیٹ ورکس میں شامل54تنظیموں اور تحریکوں کی نشاندہی کی گئی، جس سے ظاہر ہوا کہ ان میں سے صرف16طلبہ یا نوجوانوں کی تنظیمیں تھیں۔ باقی38میں بالغ قیادت کے تحت کام کرنے والے کمیونسٹ گروپ، مزدور یونینیں، انقلابی سوشلسٹ تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور بین الاقوامی کارکنوں کے نیٹ ورک شامل تھے۔
نشاندہی کی گئی تنظیموں میں انتہائی بائیں بازو کی جماعت فرانس اَن بوُمِز(LFI)، کمیونسٹ نوجوانوں کی تنظیمیں، یلو ویسٹ تحریک، ماحولیاتی کارکن، مسلم طلبہ کے حقوق کے حامی اور فلسطین سے یکجہتی کے لیے سرگرم گروپ شامل تھے۔ تحقیق کے مطابق، تعلیمی اداروں کی بگڑتی صورتِ حال اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی سے متعلق شکایات ایک ایسی وسیع تر نظریاتی مہم کے لیے اجتماع کا ذریعہ بن گئی ہیں جو طلبہ کے مسائل سے آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ فرانسیسی انٹیلی جنس حکام نے طلبہ کی احتجاجی تحریک کے آغاز کا تعلق فرانس اَن بوُمِز(LFI)اور اس کے انتہائی بائیں بازو کے اتحادیوں سے جوڑا تھا۔ جماعت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ پُرامن مظاہروں کی حمایت کرتی ہے۔
تحقیق میں امریکی نژاد مارکسی کاروباری شخصیت نیویل رائے سنگھم سے منسلک بین الاقوامی کارکن نیٹ ورکس کو بھی نمایاں کیا گیا، جو شنگھائی میں مقیم ہیں اور سوشلسٹ مقاصد کو فروغ دینے والی تنظیموں کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں۔ فاکس نیوز نے کمیونسٹ دانشور وجے پرشاد کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیم ٹرائی کانٹینینٹل(Tricontinental)کا نام بھی ان تنظیموں میں شامل کیا جو بین الاقوامی سطح پر اس بدامنی کو نمایاں کر رہی ہیں۔ تاہم، رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ سنگھم نے فرانس میں تشدد کے واقعات کی مالی معاونت کی یا ان کی ہدایت کاری کی۔
اس بدامنی کے نتائج پہلے ہی تباہ کن صورت اختیار کر چکے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ پُرتشدد عناصر نے گاڑیوں کو آگ لگا دی، کاروباری مراکز میں لوٹ مار کی اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔ فرانس کے تاریخی شہر لیموج(Limoges)کے سٹی ہال کو آگ لگا دی گئی، جبکہ حکام نے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تشدد کے بعد تقریباً2,400افراد کی گرفتاریوں کی اطلاع دی۔
صدر ایمانوئل میکرون نے تباہی کے ذمہ داروں کی مذمت کی، جبکہ وزیرِاعظم سیباستیاں لیکورنو نے الزام عائد کیا کہ انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند اور جرائم پیشہ عناصر عوامی بے چینی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پیر کے روز حکام نے امن و امان بحال کرنے کی حکومتی کوششوں کے دوران مختلف علاقوں میں محدود اوقات کے لیے کرفیو نافذ کرنا شروع کر دیا۔
کمیونسٹ گروپ بین الاقوامی احتجاج کی تیاری میں
یہ تحریک جلد ہی فرانس کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق، کمیونسٹ اور سوشلسٹ نوجوانوں کی28تنظیموں پر مشتمل ایک اتحاد12یورپی ممالک میں مربوط مظاہروں اور ہڑتالوں کی تیاری کر رہا ہے، جن کا نعرہ ہے: ’’ہمارے مستقبل کے لیے لڑو، ان کی جنگوں کے لیے نہیں!‘‘
فرانس کی مزدور یونینوں نے الگ سے5نومبر کو ہڑتالوں اور مظاہروں کے ایک اور دور کی اپیل کی ہے، جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ2027کے صدارتی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ملک میں بدامنی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اس بحران نے فرانس کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایک گہری کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے، جس میں معاشی بے اطمینانی، انقلابی بائیں بازو کی سرگرمیاں اور اسرائیل مخالف تحریکیں سڑکوں پر ایک دوسرے سے ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اگرچہ بہت سے مظاہرین نے جائز معاشی اور تعلیمی خدشات کے سلسلے میں پُرامن احتجاج کیا ہے، تاہم حکام کو ایسے منظم انتہا پسند گروہوں کا سامنا تیزی سے بڑھ رہا ہے جو عوامی غصے کو تشدد میں بدلنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
ایک ایسے ملک میں جو پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، بڑھتے ہوئے قرضوں اور گہری سماجی تقسیم سے نبردآزما ہے، بنیاد پرست نظریاتی تحریکوں کا بڑھتا ہوا اثر ایک ایسے بحران کو طول دینے کا خطرہ پیدا کرتا ہے جو فرانس کے تعلیمی اداروں تک محدود نہیں بلکہ ان سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔
"`
