مونٹریال کے یہودی عبادت گاہ پر فائرنگ، پولیس کی نفرت پر مبنی جرم کے زاویے سے تحقیقات
ویسٹ ماؤنٹ میں عبادت گاہ کی کھڑکیوں کو مبینہ پیلٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، دو سال سے بھی کم عرصے میں تیسرا واقعہ
کینیڈا کے شہر مونٹریال میں پولیس نے ویسٹ ماؤنٹ کی ایک یہودی عبادت گاہ کی کھڑکیوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد نفرت پر مبنی جرم کے طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب پیش آنے والے اس واقعے میں عبادت گاہ کی متعدد کھڑکیوں کو چھوٹے چھروں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ دو سال سے بھی کم عرصے میں اسی عبادت خانے کو نشانہ بنانے کا تیسرا واقعہ ہے۔
متاثرہ عبادت گاہ ٹیمپل ایمانویل-بیت شولوم (Temple Emanu-El-Beth Sholom) ہے، جو مونٹریال کے علاقے ویسٹ ماؤنٹ میں شیربروک اسٹریٹ ویسٹ کے قریب واقع ہے۔ مونٹریال پولیس کے ترجمان مینوئل کوتور کے مطابق، کھڑکیوں میں چھوٹے اور گول سوراخ پائے گئے، تاہم شیشے مکمل طور پر ٹوٹ کر بکھرے نہیں تھے۔
پیلٹ گن کے استعمال کا شبہ، ملزمان تاحال نامعلوم
پولیس ترجمان کے مطابق، ابتدائی شواہد اور کھڑکیوں کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت سے تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ حملے میں پیلٹ گن استعمال کی گئی۔ تاہم واقعے کے مکمل حالات اور حملہ آور کی شناخت ابھی واضح نہیں ہو سکی۔
کوتور نے بتایا کہ جمعے کی صبح تقریباً11بجے عبادت خانے سے وابستہ ایک شخص نے پولیس کو پہلی مرتبہ واقعے کی اطلاع دی۔ ابتدائی اندازے کے مطابق کھڑکیوں کو رات کے وقت نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ اب تک کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔
چونکہ نشانہ ایک مذہبی عبادت گاہ بنی، اس لیے کیس پولیس کے نفرت پر مبنی جرائم کے یونٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس یونٹ کی تحقیقات کا مقصد واقعے کے محرکات اور ممکنہ نفرت انگیز پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔
دو سال سے کم عرصے میں تیسرا واقعہ
ٹیمپل ایمانویل-بیت شولوم اس سے قبل بھی حملوں اور تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ فروری2025میں عمارت کی بیرونی دیوار پر سوستیکا کا نشان پینٹ کیا گیا تھا، جو نازی نظریے اور یہود دشمنی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس کے بعد رواں سال جون میں ایک شخص کو عبادت خانے کو آگ لگانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر آتش زنی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تازہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے، جس نے مقامی یہودی برادری میں تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
ربی لیزا گروشکو:موجودہ حالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
عبادت خانے کی ربی لیزا گروشکو نے جمعے کو نیشنل پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور یہود دشمنی کے موجودہ ماحول کو اس واقعے سے الگ کرکے دیکھنا ممکن نہیں۔
ربی گروشکو نے کہا کہ فی الحال یقینی طور پر صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ ان کے عبادت خانے کے خلاف ایک بظاہر دانستہ کارروائی تھی۔ انہوں نے واقعے کے ذمہ داروں یا ان کے محرکات کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنے سے گریز کیا۔
اس واقعے کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ عبادت خانے کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق، یہودی برادری جمعے کی شام اور ہفتے کی صبح شبّات کی عبادات کے لیے معمول کے مطابق جمع ہوگی۔
ربی گروشکو نے کہا کہ ان کی جماعت مختلف کمیونٹیز کے درمیان روابط اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی۔
مونٹریال کی یہودی تنظیموں کا شدید ردعمل
سینٹر فار اسرائیل اینڈ جیوش افیئرز(CIJA)اور فیڈریشنCJAنے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی۔ دونوں تنظیموں نے کہا کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے اور مونٹریال کی یہودی برادری اپنے اور اپنے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مسلسل خوف میں رہنے سے تنگ آ چکی ہے۔
مذہبی عبادت گاہوں کا تحفظ اور بڑھتی ہوئی تشویش
مونٹریال میں یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یہود دشمنی اور مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق خدشات پر بحث جاری ہے۔ کسی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا نہ صرف وہاں عبادت کرنے والوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ مذہبی آزادی اور مختلف کمیونٹیز کے باہمی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔
پولیس کی تحقیقات سے یہ طے ہونا باقی ہے کہ آیا تازہ حملہ یہود دشمنی پر مبنی تھا، اس کے پیچھے کون ملوث تھا اور آیا اس کا پہلے پیش آنے والے واقعات سے کوئی تعلق ہے۔ تاہم، مقامی یہودی برادری نے واضح کیا ہے کہ وہ خوف کے ماحول کے باوجود اپنی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
