شام کی وزارت خارجہ نے پہلی مرتبہ اپنے ایک سرکاری بیان میں لبنان کی حزب اللہ کو**”دہشت گرد ملیشیا”**قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے اپنی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔
وزارت خارجہ نے یہ اصطلاح شام اور عراق کی سرحد پر اسلحے کی ایک کھیپ ضبط کیے جانے کے اعلان کے دوران استعمال کی۔ بیان میں اسلحے کی اسمگلنگ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے حزب اللہ کو”دہشت گرد ملیشیا”کہا گیا، جو دمشق کے سرکاری مؤقف میں ایک غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
لبنانی اخبارات کے مطابق مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب شامی حکومت نے کسی سرکاری بیان میں حزب اللہ کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی شام کی نئی قیادت کے حزب اللہ کے حوالے سے بدلتے ہوئے مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ صرف دو سال قبل، بشار الاسد کی حکومت حزب اللہ کی اہم ترین علاقائی اتحادیوں میں شمار ہوتی تھی اور شام کی خانہ جنگی کے دوران دونوں فریق قریبی تعاون کرتے رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شامی وزارت خارجہ کی جانب سے حزب اللہ کو”دہشت گرد ملیشیا”قرار دینا دمشق اور حزب اللہ کے تعلقات میں ایک بڑی سفارتی اور سیاسی تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے، جس کے شام، لبنان اور خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

