اسلام آباد:صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر پاکستان کے ہر شہری، خصوصاً مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے تمام مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ ایسا سماجی ماحول تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں جہاں ہر شہری کے مذہبی عقیدے، شناخت اور انسانی وقار کا احترام کیا جائے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں نے جنگوں اور مشکل حالات کے دوران ملک کی خدمت کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور قومی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بھی اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ ملکی ترقی میں حصہ لے رہی ہیں۔
صدر نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر تمام پاکستانیوں، بالخصوص ملک کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن پاکستان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کرنے کے عزم کی تجدید کا موقع ہے جہاں انصاف، مساوات، برداشت اور انسانیت کی خدمت بنیادی اقدار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط، پُرامن اور مستحکم ریاست کی بنیاد صرف معاشی ترقی پر نہیں بلکہ انصاف، مساوات، باہمی احترام اور انسانی وقار کے تحفظ پر بھی قائم ہوتی ہے۔
صدر زرداری کے مطابق پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں جو اپنے مذہبی، ثقافتی اور روایتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک قومی پرچم تلے متحد رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس اصول پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ مذہب یا عقیدے سے قطع نظر ریاست کے سامنے ہر شہری برابر ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج سے79برس قبل11اگست1947کو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے ریاست اور مذہب کے تعلق اور شہریوں کے حقوق کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی وہ تقریر آج بھی پاکستان کی ریاستی اور قومی سوچ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ صدر کے مطابق1973میں تشکیل پانے والے پاکستان کے آئین نے بھی تقریباً ایک چوتھائی صدی بعد قائداعظم کے بنیادی رہنما اصولوں کو بڑی حد تک آئینی شکل دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہر سال قومی اقلیتی دن اس پختہ عزم کے ساتھ مناتا ہے کہ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی اہمیت، قومی دھارے میں ان کی شمولیت اور ملکی ترقی و خوشحالی میں ان کی نمایاں خدمات کو تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں قومی دھارے کا لازمی حصہ ہیں اور ملک کے متنوع سماجی و ثقافتی منظرنامے کی حقیقی خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیراعظم نے11اگست1947کو قائداعظم محمد علی جناح کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بانی نے دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں واضح مؤقف اختیار کیا تھا۔
قائداعظم نے اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان میں ہر شخص اپنے مندر، مسجد یا کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہے اور مذہب، ذات یا عقیدہ ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قائداعظم کے یہ تاریخی الفاظ آج بھی پاکستان کے سماجی نظام، طرز حکمرانی اور مذہبی اقدار میں ایک مستقل اور ناقابل فراموش مقام رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی دن مختلف مذاہب اور معاشرتی طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے درمیان اتحاد، پُرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور سب کے لیے مساوی ترقی کے مواقع کے عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں، قومیتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان سے لے کر قیام پاکستان اور آج تک اقلیتی برادریوں نے ملکی ترقی اور قومی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اقلیتی شہریوں نے اقتصادی، تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے آئینی اور قانونی تحفظات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں قومی کمیشن برائے اقلیتی امور ایکٹ2025، بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی2025اور قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق2026شامل ہیں۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوی حقوق، عزت اور تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کو بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

