
اگر کسی شہر میں پانی نہیں، اسپتالوں میں سہولتیں نہیں، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بلدیاتی ادارے بے اختیار ہیں اور سرکاری محکمے سیاسی مداخلت اور بدعنوانی کا شکار ہیں تو صوبے کی سرحد تبدیل کرنے سے ان میں سے کون سا مسئلہ حل ہوگا؟ کیا نیا صوبہ بنتے ہی پانی پیدا ہو جائے گا، اسپتال بہتر ہو جائیں گے اور بیوروکریسی جواب دہ ہو جائے گی؟
اصل مسئلہ سندھ کے حجم سے زیادہ اختیارات کے ارتکاز اور حکمرانی کے کمزور نظام کا ہے۔
یہ سوال صرف سندھ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے بار بار جغرافیہ، آئین، سیاسی ڈھانچے اور حکومتی نظام کے ساتھ تجربات کیے، مگر گورننس کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہے۔ وفاقی حکومتوں کی نااہلی، کمزور سیاسی ادارے، مرکزیت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور طویل عرصے تک اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی عمل میں مداخلت نے ریاستی نظام کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ نے اس ملک کو ایک طویل عرصے تک ایک ایسی تجربہ گاہ کے طور پر چلایا جہاں کبھی صدارتی نظام آزمایا گیا، کبھی ون یونٹ بنایا گیا، کبھی مارشل لا نافذ ہوا، کبھی منتخب حکومتوں کو ہٹایا گیا اور کبھی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے نئی سیاسی صف بندیوں کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی ادارے مضبوط ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے دائرۂ اختیار میں مداخلت کرتے رہے اور جمہوری ادارے اپنی فطری نشوونما نہ پا سکے۔ اس پورے تجربے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ ملک میں گورننس کے حقیقی سوالات پر توجہ دینے کے بجائے بار بار نظام اور نقشے تبدیل کرنے کو حل سمجھا جاتا رہا۔
اس لیے اگر آج سندھ میں نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے تو اس بحث کو صرف سندھ کے اندرونی سیاسی اختلاف تک محدود کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ملک میں مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کس طرح رہی، وفاق نے صوبوں کو کس حد تک بااختیار کیا اور خود صوبائی حکومتوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے میں کتنی سنجیدگی دکھائی۔
سندھ بڑا صوبہ ہے، لیکن بڑا صوبہ ہونا بذاتِ خود خراب گورننس کی دلیل نہیں۔ دنیا میں اس سے کہیں بڑے انتظامی یونٹ موجود ہیں جو مضبوط مقامی حکومتوں، واضح اختیارات اور مؤثر انتظامی نظام کے ذریعے چل رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں وفاق سے صوبوں اور صوبوں سے مقامی حکومتوں تک اختیارات کی منتقلی ہمیشہ ایک مستقل اور سنجیدہ اصلاحاتی عمل نہیں بن سکی۔
کراچی اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ یہ ایک میگا سٹی ہے جس کے مسائل عام شہر سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ پانی، ٹرانسپورٹ، سیوریج، کچرا، ہاؤسنگ، شہری منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر جیسے معاملات کے لیے ایک مضبوط اور بااختیار میٹروپولیٹن حکومت کی ضرورت ہے۔ لیکن کراچی کو اختیار دینے کے بجائے ہم کئی دہائیوں سے اسے مختلف سیاسی اور انتظامی تجربات کا میدان بناتے رہے ہیں۔
کراچی کو صوبہ نہیں، اختیار چاہیے۔
اگر کراچی کے مسائل وسائل، نمائندگی اور انتظامی اختیار کے ہیں تو ان کا حل ایک مؤثر میٹروپولیٹن حکومت، مضبوط بلدیاتی اداروں اور شفاف مالیاتی نظام کی صورت میں کیوں نہیں نکالا جا سکتا؟ اسی طرح اندرونِ سندھ کی محرومی کا علاج بھی نئی صوبائی سرحد نہیں بلکہ مساوی ترقی، بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔
یہاں وفاقی حکومت کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں برسوں سے صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل، اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم ایک متنازع معاملہ رہی ہے۔ وفاقی حکومتیں اکثر صوبائی حقوق، مالیاتی تقسیم اور ترقیاتی ترجیحات کے معاملات کو سیاسی ضرورت کے مطابق دیکھتی رہی ہیں، جبکہ صوبائی حکومتیں بھی اپنے حصے کے اختیارات ضلعی اور بلدیاتی سطح تک منتقل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یوں اختیارات کا ارتکاز اوپر سے نیچے تک ایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک طرف کراچی یہ شکایت کرتا ہے کہ وہ ملکی معیشت میں بڑا کردار ادا کرتا ہے مگر اسے اس تناسب سے وسائل اور اختیار نہیں ملتا، دوسری طرف سندھ کے دیہی اضلاع تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کا شکار ہیں۔ ان دونوں مسائل کا جواب ایک دوسرے سے علیحدگی نہیں بلکہ بہتر حکمرانی اور منصفانہ وسائل کی تقسیم ہے۔
لسانی شناخت کو بھی اس بحث میں احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کراچی ایک کثیراللسانی شہر ہے اور سندھ میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں۔ اس تنوع کو تسلیم کرنا ضروری ہے، لیکن ہر لسانی شناخت کو الگ جغرافیائی اکائی میں تبدیل کرنا نہ عملی حل ہے اور نہ ہی جدید ریاستوں کے لیے کوئی قابلِ عمل اصول۔ اصل مسئلہ یہ ہونا چاہیے کہ شہری کی زبان، نسل یا علاقے سے قطع نظر اسے برابر سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کیسے دیے جائیں۔
سندھ کی اپنی تاریخی اور تہذیبی شناخت بھی ہے۔1936میں سندھ کا بمبئی پریزیڈنسی سے الگ ہونا،1955کے ون یونٹ میں اس کی صوبائی حیثیت کا ختم ہونا اور1970میں اس حیثیت کی بحالی محض انتظامی واقعات نہیں بلکہ سندھ کی سیاسی تاریخ کے اہم ابواب ہیں۔ اس لیے سندھ کی تقسیم کو صرف انتظامی ضرورت قرار دے کر بحث ختم نہیں کی جا سکتی۔
اگر مسئلہ انتظامی ہے تو انتظامی اصلاحات کی جائیں۔ اگر مسئلہ مالیاتی ہے تو وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔ اگر مسئلہ کراچی کا شہری بحران ہے تو اسے بااختیار میٹروپولیٹن نظام دیا جائے۔ اگر مسئلہ اندرونِ سندھ کی محرومی ہے تو اضلاع کو وسائل، منصوبہ بندی اور ترقیاتی اختیار دیا جائے۔
اور اگر مسئلہ وفاقی سطح کی نااہلی، مرکزیت اور ادارہ جاتی عدم توازن ہے تو اس کا علاج بھی وہیں تلاش کرنا ہوگا۔ ہر ناکامی کا بوجھ صوبائی نقشے پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اس سے ریاستی نظام کی اصل خامیاں چھپ جاتی ہیں۔
نئے صوبے بنانے کی بحث میں ایک بنیادی سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے:اگر مقصد عوام کو بہتر گورننس، زیادہ وسائل، زیادہ نمائندگی اور مضبوط مقامی حکومت دینا ہے تو پھر صوبہ بنانا ہی واحد راستہ کیوں ہے؟
پہلے کراچی کو حقیقی میٹروپولیٹن اختیار دے کر دیکھ لیا جائے۔ پہلے سندھ میں بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔ پہلے اضلاع کو مالی اور انتظامی خودمختاری دی جائے۔ پہلے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر ریاستی اداروں کو اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کرنے دیا جائے تاکہ سیاسی نظام بار بار تجربات کی زد میں نہ آئے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ سندھ بہت بڑا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ اختیارات بہت اوپر ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کراچی الگ صوبہ نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کو اس کے مسائل حل کرنے کا اختیار نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اندرونِ سندھ کو نیا نقشہ نہیں ملا؛ مسئلہ یہ ہے کہ اسے برابر وسائل، بہتر حکمرانی اور ریاستی توجہ نہیں ملی۔
پاکستان کو بھی نئے نقشوں سے زیادہ بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ سندھ کو بھی نئی سرحدوں سے زیادہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم درکار ہے۔
جغرافیہ بدلنے سے نہ وفاق کی نااہلی ختم ہوگی، نہ صوبائی حکومتوں کی کمزوریاں، نہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی روایت اور نہ ہی عوام کے بنیادی مسائل۔
سندھ کو نئے صوبوں کی نہیں، نئے گورننس ماڈل کی ضرورت ہے؛ اور پاکستان کو نئے تجربات کی نہیں، اپنے آئینی اور جمہوری نظام کو سنجیدگی سے چلانے کی ضرورت ہے۔
جغرافیہ بدلنے سے نہ وفاق کی نااہلی ختم ہوگی، نہ صوبائی حکومتوں کی کمزوریاں، نہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی روایت اور نہ ہی عوام کے بنیادی مسائل۔
سندھ کو نئے صوبوں کی نہیں، نئے گورننس ماڈل کی ضرورت ہے؛ اور پاکستان کو نئے تجربات کی نہیں، اپنے آئینی اور جمہوری نظام کو سنجیدگی سے چلانے کی ضرورت ہے-
…
اشفاق آذر صحافی، ڈیجیٹل و پرنٹ مدیر اور شاعر ہیں۔ وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں.ڈس کلیمر:نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

