• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ممدانی کی سوشلسٹ گروسری اسکیم، ہر کیلے کا بوجھ ٹیکس دہندگان پر؟
امریکہ

ممدانی کی سوشلسٹ گروسری اسکیم، ہر کیلے کا بوجھ ٹیکس دہندگان پر؟

تحریر: پیٹر سینٹ اونج، پی ایچ ڈی، سینئر ماہرِ معاشیات ای جے انٹونی، پی ایچ ڈی، چیف اکانومسٹ، رو انسٹی ٹیوٹ
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 12, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی جانب سے سرکاری گروسری اسٹورز قائم کرنے کے منصوبے نے شہر کی معاشی پالیسی اور حکومتی مداخلت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ منصوبے کے تحت شہر کے زیرِ انتظام گروسری اسٹورز میں ضروری اشیائے خورونوش نجی اسٹورز کے مقابلے میں⁦30⁩فیصد تک کم قیمت پر فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اقدام عام شہریوں کو سستی خوراک فراہم کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے ناقدین کے مطابق اس کے اخراجات بالآخر نیویارک کے ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔⁦27⁩جولائی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ممدانی نے اپنے نئے سرکاری گروسری اسٹورز میں ضروری اشیا پر⁦30⁩فیصد رعایت دینے کا اعلان کیا۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ گروسری کا کاروبار پہلے ہی انتہائی کم منافع کے ساتھ چلتا ہے۔ عام طور پر اس شعبے میں منافع کی شرح تقریباً⁦2⁩فیصد کے آس پاس ہوتی ہے، اور یہ شرح نجی شعبے کی نسبتاً مؤثر انتظامی کارکردگی کے باوجود ہے۔

اگر شہر کے سرکاری گروسری اسٹورز بھی آلڈی، والمارٹ یا گریسٹسڈیز جیسے نجی اسٹورز جتنی کارکردگی کے ساتھ چلیں، تب بھی⁦30⁩فیصد رعایت برقرار رکھنے کے لیے شہر کو ہر ایک ڈالر کی فروخت پر تقریباً⁦28⁩سینٹ کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق سرکاری شعبے کی کم انتظامی کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے تو حقیقی خسارہ اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

یہیں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے⁦:⁩اس خسارے کی ادائیگی کون کرے گا؟

سرکاری ادارہ جب مسلسل خسارے میں چلتا ہے تو اس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوتا ہے۔ نیویارک کے شہری پہلے ہی ملک کے نسبتاً بلند ٹیکسوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں سرکاری گروسری اسٹورز کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید عوامی رقم استعمال کرنا ٹیکس دہندگان کے لیے اضافی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔

اس منصوبے کا ایک اور ممکنہ نتیجہ نجی گروسری اسٹورز کے لیے مسابقتی ماحول کو متاثر کرنا ہے۔ اگر شہر کے اسٹورز واقعی نجی کاروباروں سے⁦30⁩فیصد کم قیمت پر اشیا فروخت کرتے ہیں تو وہ نجی دکانوں کا قابلِ ذکر مارکیٹ شیئر حاصل کرسکتے ہیں۔ نجی اسٹورز کو کرایہ، پراپرٹی ٹیکس، انشورنس، مزدوری، بجلی، سکیورٹی اور دیگر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ سرکاری اسٹورز کو حکومتی وسائل اور ممکنہ ٹیکس سہولتوں کا فائدہ حاصل ہوگا۔

اس صورتحال میں پہلے سے کمزور نجی سپر مارکیٹیں بند ہوسکتی ہیں، جبکہ نئے کاروباری افراد نیویارک میں گروسری اسٹور کھولنے سے گریز کرسکتے ہیں۔ نتیجتاً جس پالیسی کا مقصد خوراک تک آسان اور سستی رسائی فراہم کرنا ہے، وہ طویل مدت میں نجی گروسری نیٹ ورک کو کمزور کرکے صارفین کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری اسٹورز میں اشیا تھوک قیمت سے بھی کم پر دستیاب ہوں تو انہیں دوبارہ فروخت کرنے کے لیے خریدنے سے کیسے روکا جائے گا؟ اگر کاروباری افراد بڑی مقدار میں رعایتی اشیا خرید کر مارکیٹ میں دوبارہ فروخت کرنے لگیں تو حکومت کو خریداری پر پابندیاں یا شناختی نظام متعارف کرانا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح ایک سادہ گروسری اسکیم مزید پیچیدہ سرکاری نگرانی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

نیویارک کی تاریخ میں سرکاری اداروں کے مسلسل خسارے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ نیویارک کا سرکاری ٹرانسپورٹ نظام، میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی یعنی ایم ٹی اے، ہر سال اربوں ڈالر کی مالی معاونت کا محتاج ہے۔ تجزیے کے مطابق ایم ٹی اے کو تقریباً⁦11.7⁩ارب ڈالر سالانہ کے خسارے کا سامنا ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو بھاری سبسڈی دینا پڑتی ہے۔

اگر سرکاری گروسری اسٹورز بھی وقت کے ساتھ اسی طرح مالیاتی بوجھ بن گئے تو ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب ٹیکس دہندگان مزید سبسڈی دینے سے انکار کریں۔ لیکن سستی قیمتیں برقرار رکھنے کی سیاسی ضرورت اور سرکاری ادارے کے بلند اخراجات کے درمیان توازن پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ حکومت قیمتیں کم رکھنے کے لیے اشیا کے معیار، مقدار یا دونوں میں کمی کرنا شروع کردے۔

ملک کے دوسرے شہروں میں سرکاری گروسری کے تجربات بھی ناقدین کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ تجزیے میں کنساس سٹی کی مثال دی گئی ہے، جہاں ایک سرکاری گروسری منصوبے کو مبینہ طور پر⁦18⁩ملین ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ شکاگو میں سات اسٹورز چلانے کے منصوبے پر⁦26⁩ملین ڈالر خرچ ہوئے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ماضی کے ایسے تجربات ناکام رہے ہیں تو نیویارک کو اسی ماڈل کو دوبارہ آزمانے کے بجائے نجی گروسری کاروباروں کے لیے حالات بہتر بنانے چاہییں۔

ممدانی انتظامیہ نجی اسٹورز کے ساتھ مل کر ان کے اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر پراپرٹی ٹیکس، تعمیراتی اخراجات اور کاروباری اجازت ناموں کی فیس کم کی جاسکتی ہے۔ پارکنگ کے قوانین میں نرمی کی جاسکتی ہے اور غیر استعمال شدہ سرکاری جگہیں مناسب کرائے پر گروسری کاروباروں کو فراہم کی جاسکتی ہیں۔

اسی طرح زوننگ قوانین میں اصلاحات کے ذریعے نئے گروسری اسٹورز کے قیام کی راہ میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹیں کم کی جاسکتی ہیں۔ دکانوں میں چوری کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنا بھی نجی گروسری کاروباروں کے اخراجات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ نیویارک میں خوراک کی فراہمی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کو پورے گروسری شعبے کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بجائے موجودہ نجی کاروباری نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

سوشلسٹ معاشی پالیسیوں کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ حکومت پہلے مارکیٹ کے مسائل کو بڑھاتی ہے، پھر انہی مسائل کو سرکاری مداخلت کے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ نیویارک میں گروسری اسٹورز کی کمی اور خوراک تک رسائی کے مسائل اگر مقامی حکومتی ناکامیوں سے پیدا ہوئے ہیں تو اسی بیوروکریسی کو پورے شہر کی خوراک کی فراہمی سونپ دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ نیویارک کے شہری آج ایک کیلا کتنے سستے میں خرید سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کیلے کی رعایت کی قیمت کون ادا کرے گا، کتنے عرصے تک ادا کرے گا، اور اگر اس پالیسی کے نتیجے میں نجی گروسری اسٹورز بند ہونے لگے تو مستقبل میں نیویارک کے شہریوں کے پاس خوراک خریدنے کے کتنے حقیقی اختیارات باقی رہ جائیں گے۔

اگر مقصد نیویارک کے شہریوں کو سستی اور معیاری خوراک فراہم کرنا ہے تو حکومت کو کاروباری مسابقت ختم کرنے کے بجائے اسے مضبوط بنانا چاہیے۔ کم ٹیکس، کم ضابطے، تیز تر اجازت نامے، بہتر زوننگ اور مؤثر قانون نافذ کرنا شاید سرکاری گروسری اسٹورز کے مقابلے میں کم سیاسی طور پر پرکشش ہو، لیکن طویل مدت میں زیادہ پائیدار حل ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ مضمون فاکس نیوز میں شائع مضمون کا ترجمہ ہے۔

امریکی سیاست امریکی معیشت ای جے انٹونی پیٹر سینٹ اونج ٹیکس دہندگان خوراک کی قیمتیں زہران ممدانی زہران ممدانی پالیسی سرکاری ادارے سرکاری گروسری اسٹورز سوشلزم سوشلسٹ معاشی پالیسیاں فاکس نیوز گروسری اسٹورز مہنگائی نجی کاروبار نیویارک نیویارک ٹیکس نیویارک سٹی نیویارک کی معیشت
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleکینیڈا کا آسیان سے آزاد تجارتی معاہدہ رواں سال مکمل کرنے کا عزم
Next Article عبدال السید کا⁦2009⁩کا شریعت بیان سامنے آگیا
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.