• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » لالا لعل بخش رند⁦:⁩لیاری سے ترقی پسند سیاست اور بلوچ ادب تک
مضمون/کالم

لالا لعل بخش رند⁦:⁩لیاری سے ترقی پسند سیاست اور بلوچ ادب تک

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 18, 2026Updated:اگست 18, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
لیاری⁦|⁩خصوصی رپورٹ

لالا لعل بخش رند⁦:⁩لیاری سے ترقی پسند سیاست اور بلوچ ادب تک

مہر گھر کمیونٹی اسپیس میں تعزیتی ریفرنس، مزدور تحریک، ترقی پسند سیاست اور بلوچی زبان و ادب کے فروغ میں کامریڈ لالا لعل بخش رند کی خدمات کو خراجِ عقیدت
تحریر: اسحاق بلوچ

اسحاق بلوچ

لیاری میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کے اہم مرکز مہر گھر کمیونٹی اسپیس میں پروگرام ’’ورثۂ لیاری‘‘ کے تحت ہر دلعزیز سیاسی و ادبی شخصیت کامریڈ لالا لعل بخش رند کی سولہویں برسی کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ریفرنس میں سیاست، ادب، سماجی جدوجہد اور ترقی پسند فکر سے وابستہ خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرنے والے مقررین نے کامریڈ لالا لعل بخش رند کی شخصیت، سیاسی جدوجہد، ادبی خدمات اور نظریاتی وابستگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں ترقی پسند سیاسی و فکری روایت کی ایک اہم شخصیت قرار دیا۔

مقررین نے کہا کہ لالا لعل بخش رند ترقی پسند تحریک کے ان سرخیلوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی مظلوم اور محکوم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد میں گزاری۔ وہ اپنے عہد کی ایک توانا عوامی آواز تھے۔ اپنی سیاسی و عوامی جدوجہد کی پاداش میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلاوطنی بھی اختیار کی، تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود وہ آخری دم تک اپنے سیاسی، نظریاتی اور اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے۔

’’لالا لعل بخش رند جیسے روشن فکر اور اصول پسند سیاسی و ادبی شخصیات کی جدوجہد، فکر اور نظریاتی ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘

لالا لعل بخش رند کون تھے؟

لالا لعل بخش رند نے اپنی پوری زندگی مزدوروں، محکوم طبقات اور مظلوم عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے وقف کردی تھی۔ وہ⁦1932⁩ء میں لیاری کے ایک معزز رند خاندان میں پیدا ہوئے۔

میٹرک کے بعد انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کراچی میونسپل کارپوریشن میں بطور کلرک کیا۔ کچھ عرصے بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ٹرالی کلرک کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی۔

کے پی ٹی میں ملازمت کے دوران انہوں نے مزدوروں کے معاشی استحصال، ناانصافی اور اذیت ناک حالاتِ زندگی کو قریب سے دیکھا۔ یہی تجربہ ان کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ انہوں نے مزدوروں کے دکھ، محرومیوں اور مسائل کو محض ایک مشاہدے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انہیں اپنا درد سمجھا۔

اسی مرحلے پر وہ مزدور تحریک، ٹریڈ یونین سازی اور ترقی پسند نظریات کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے مزدوروں کی تنظیم سازی، یونینز اور مزدور سیاست سے متعلق کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور رفتہ رفتہ سیاسی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرنے لگے۔

عوامی سیاست سے نیشنل عوامی پارٹی تک

لالا لعل بخش رند کی پہلی سیاسی جماعت مولانا بھاشانی کی عوامی لیگ تھی۔ انہوں نے ایک طویل عرصے تک اس جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کی۔ بعد ازاں وہ نیشنل عوامی پارٹی کے قافلے میں شامل ہوگئے۔

یہ وہ دور تھا جب ترقی پسند سیاست کو مسلسل ریاستی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی پر مختلف ادوار میں تین مرتبہ پابندی عائد کی گئی اور بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں بھی اس جماعت پر پابندی لگا دی گئی۔

جب سردار شیر باز خان مزاری اور ان کے ساتھیوں نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی تو لالا لعل بخش رند بھی اس جدوجہد میں شامل ہوگئے۔

قید و بند اور سیاسی استقامت

ایوب خان کے دور سے ذوالفقار علی بھٹو کے دور تک لالا رند کی زندگی قید و بند کے مختلف مراحل سے گزری۔ وہ جب بھی جیل سے رہا ہوتے، دوبارہ پوری قوت کے ساتھ عوامی خدمت اور سیاسی جدوجہد میں سرگرم ہوجاتے۔

بار بار گرفتاریاں، زیرِ زمین زندگی اور ریاستی جبر ان کے حوصلے کو متزلزل نہ کرسکے۔ گرفتاری کے دوران انہیں سخت جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ان کی عوامی مقبولیت اور انقلابی کردار سے خوفزدہ عناصر نے انہیں روس اور بھارت کا ایجنٹ قرار دینے سمیت مختلف الزامات اور منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا، تاہم یہ تمام حربے ان کے عزم اور سیاسی وابستگی کو کمزور نہ کرسکے۔

اصولوں پر قائم رہنے والی سیاست

لالا لعل بخش رند بائیں بازو کی سیاست کے ایک مخلص، باعمل اور بااثر رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی میں اقتدار یا ذاتی مفاد کے بجائے اصولوں، نظریات اور عوامی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔

’’لینن گرانڈ‘‘ — ایک گھر جو فکری درسگاہ بن گیا

کراچی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ابتدائی دفاتر کے قیام میں بھی لالا لعل بخش رند نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ دفاتر بعد میں نوجوانوں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں کی فکری تربیت کے مراکز ثابت ہوئے۔

کامریڈ ساتھیوں اور طالب علموں نے ان کے وسیع مطالعے، انقلابی فکر اور نظریاتی استقامت کے باعث ان کے گھر کو ’’لینن گرانڈ‘‘ کا لقب دیا تھا۔

لالا رند کا گھر محض ایک رہائش گاہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری درسگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں باقاعدگی سے اسٹڈی سرکلز منعقد ہوتے، جن میں نوجوانوں کو تاریخ، سیاست، فلسفہ اور انقلابی ادب سے روشناس کرایا جاتا۔

وہ طلبہ کو کتابیں فراہم کرتے، ان میں مطالعے کی عادت پیدا کرتے اور انہیں تنقیدی سوچ، سماجی شعور اور عوامی خدمت کا درس دیتے تھے۔

ان کی رہنمائی میں بی ایس او نے قومی اور علاقائی مسائل کو سائنسی اور نظریاتی بنیادوں پر سمجھنے اور منظم انداز میں جدوجہد کرنے کی روایت کو فروغ دیا۔

عوامی حقوق اور قومی شناخت کی جدوجہد

لالا لعل بخش رند کی سیاسی جدوجہد صرف نظریاتی سیاست تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ہر اس تحریک کی پہلی صف میں کھڑے نظر آئے جس کا تعلق عوام کے حقوق، شناخت اور وجود سے تھا۔

ان کے نزدیک سیاسی جدوجہد کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق، انسانی وقار اور سماجی انصاف کا تحفظ تھا۔

بلوچی زبان و ادب کے بے لوث خادم

لالا لعل بخش رند صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ علم، ادب اور زبان کے بھی بے لوث خادم تھے۔ ان کا یقین تھا کہ کوئی بھی قوم اپنی زبان، ادب اور تاریخ کے بغیر حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتی۔

اسی سوچ کے تحت انہوں نے بلوچی زبان و ادب کی ترویج کے لیے عملی اقدامات کیے۔ مختلف ادوار میں جب بلوچ ادیبوں اور شاعروں کو جلاوطنی، قید و بند اور سیاسی دباؤ کا سامنا تھا، تب بھی لالا لعل بخش رند نے قلم کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔

بلوچی اکیڈمی کراچی کا قیام

1958ء میں لالا لعل بخش رند نے اکبر بارکزئی، یوسف نسکندی، جمعہ خان بلوچ اور دیگر رفقائے کار کے ساتھ مل کر بلوچی اکیڈمی کراچی کی بنیاد رکھی۔

بلوچی اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے بلوچی زبان کی متعدد اہم کتابیں شائع کی گئیں، جنہوں نے بلوچی ادب اور تعلیم کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل کی۔

لالا رند نے بلوچی زبان و ادب کے عملی فروغ کے لیے بلوچی پبلیکیشن کی بنیاد بھی رکھی۔ اس ادارے کے ذریعے بلوچی ادب کی کئی تاریخی اور یادگار کتابیں شائع ہوئیں، جنہوں نے نئی نسل کو اپنی زبان، تاریخ اور ثقافت سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

زبان، ثقافت اور قومی شناخت سے وابستگی

لالا لعل بخش رند اپنی مادری زبان، بلوچ ثقافت اور قومی شناخت سے بے حد محبت کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قومیں صرف سیاسی جدوجہد کے ذریعے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اپنی زبان، ادب، تاریخ اور فکری ورثے کی حفاظت بھی ان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔

یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سیاست کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے فروغ کو بھی اپنی جدوجہد کا لازمی حصہ بنائے رکھا۔ ان کے لیے سیاسی شعور اور ثقافتی شناخت ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔

نئی نسل تک فکری ورثہ منتقل کرنے کا عزم

تعزیتی ریفرنس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ لالا لعل بخش رند جیسے روشن فکر، اصول پسند اور عوام دوست سیاسی و ادبی کرداروں کی جدوجہد کو محض ماضی کی یاد کے طور پر محفوظ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے فکری ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔

مقررین کے مطابق آج کے نوجوانوں کو ان شخصیات کی زندگی، جدوجہد، مطالعے، سیاسی وابستگی اور سماجی خدمت سے روشناس کرانا اس لیے بھی اہم ہے کہ معاشروں کی فکری اور سیاسی تاریخ صرف بڑے واقعات سے نہیں بلکہ ان افراد کی مسلسل جدوجہد سے تشکیل پاتی ہے جو اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔

لالا لعل بخش رند کی زندگی سیاست، مزدور جدوجہد، علم، ادب، زبان اور عوامی حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی ایک ایسی داستان ہے جس کا اثر لیاری کے سیاسی و ثقافتی منظرنامے سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔

سولہویں برسی کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ تعزیتی ریفرنس اسی فکری اور سیاسی ورثے کو یاد کرنے اور اسے نئی نسل تک پہنچانے کی ایک کوشش تھا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لالا لعل بخش رند کی جدوجہد، نظریاتی وابستگی اور عوام دوست فکر کو زندہ رکھا جائے گا اور ان کے علمی و ادبی کام کو بھی یاد رکھا جائے گا۔

تحریر: اسحاق بلوچ
ادبی خدمات اسحاق بلوچ بائیں بازو کی سیاست بلوچ ادب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلوچ ثقافت بلوچ زبان بلوچ سیاست بلوچ قوم بلوچی ادب بلوچی اکیڈمی کراچی بلوچی پبلیکیشن بی ایس او ترقی پسند تحریک ترقی پسند سیاست ٹریڈ یونین سردار شیر باز خان مزاری سیاسی جدوجہد سیاسی کارکن عوامی حقوق فکری ورثہ کامریڈ لالا لعل بخش رند کراچی کراچی کی سیاسی تاریخ کمیونسٹ سیاست لال بخش رند لالا رند لالا لعل بخش رند لیاری لیاری کی ثقافت لیاری کی سیاست مزدور تحریک مزدور حقوق مولانا بھاشانی نظریاتی جدوجہد نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نیشنل عوامی پارٹی
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleنٹالی بیکر کا پاکستانی ٹیکنالوجی شعبے میں امریکی شراکت داری پر زور
Next Article نیتن یاہو نے ممدانی کو حزب اللہ اور خامنہ ای کے برابر کھڑا کردیا، تصویر وائرل
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.