لالا لعل بخش رند:لیاری سے ترقی پسند سیاست اور بلوچ ادب تک

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرنے والے مقررین نے کامریڈ لالا لعل بخش رند کی شخصیت، سیاسی جدوجہد، ادبی خدمات اور نظریاتی وابستگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں ترقی پسند سیاسی و فکری روایت کی ایک اہم شخصیت قرار دیا۔
مقررین نے کہا کہ لالا لعل بخش رند ترقی پسند تحریک کے ان سرخیلوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی مظلوم اور محکوم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد میں گزاری۔ وہ اپنے عہد کی ایک توانا عوامی آواز تھے۔ اپنی سیاسی و عوامی جدوجہد کی پاداش میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلاوطنی بھی اختیار کی، تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود وہ آخری دم تک اپنے سیاسی، نظریاتی اور اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے۔
لالا لعل بخش رند کون تھے؟
لالا لعل بخش رند نے اپنی پوری زندگی مزدوروں، محکوم طبقات اور مظلوم عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے وقف کردی تھی۔ وہ1932ء میں لیاری کے ایک معزز رند خاندان میں پیدا ہوئے۔
میٹرک کے بعد انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کراچی میونسپل کارپوریشن میں بطور کلرک کیا۔ کچھ عرصے بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ٹرالی کلرک کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی۔
کے پی ٹی میں ملازمت کے دوران انہوں نے مزدوروں کے معاشی استحصال، ناانصافی اور اذیت ناک حالاتِ زندگی کو قریب سے دیکھا۔ یہی تجربہ ان کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ انہوں نے مزدوروں کے دکھ، محرومیوں اور مسائل کو محض ایک مشاہدے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انہیں اپنا درد سمجھا۔
اسی مرحلے پر وہ مزدور تحریک، ٹریڈ یونین سازی اور ترقی پسند نظریات کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے مزدوروں کی تنظیم سازی، یونینز اور مزدور سیاست سے متعلق کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور رفتہ رفتہ سیاسی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرنے لگے۔
عوامی سیاست سے نیشنل عوامی پارٹی تک
لالا لعل بخش رند کی پہلی سیاسی جماعت مولانا بھاشانی کی عوامی لیگ تھی۔ انہوں نے ایک طویل عرصے تک اس جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کی۔ بعد ازاں وہ نیشنل عوامی پارٹی کے قافلے میں شامل ہوگئے۔
یہ وہ دور تھا جب ترقی پسند سیاست کو مسلسل ریاستی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی پر مختلف ادوار میں تین مرتبہ پابندی عائد کی گئی اور بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں بھی اس جماعت پر پابندی لگا دی گئی۔
جب سردار شیر باز خان مزاری اور ان کے ساتھیوں نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی تو لالا لعل بخش رند بھی اس جدوجہد میں شامل ہوگئے۔
قید و بند اور سیاسی استقامت
ایوب خان کے دور سے ذوالفقار علی بھٹو کے دور تک لالا رند کی زندگی قید و بند کے مختلف مراحل سے گزری۔ وہ جب بھی جیل سے رہا ہوتے، دوبارہ پوری قوت کے ساتھ عوامی خدمت اور سیاسی جدوجہد میں سرگرم ہوجاتے۔
بار بار گرفتاریاں، زیرِ زمین زندگی اور ریاستی جبر ان کے حوصلے کو متزلزل نہ کرسکے۔ گرفتاری کے دوران انہیں سخت جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ان کی عوامی مقبولیت اور انقلابی کردار سے خوفزدہ عناصر نے انہیں روس اور بھارت کا ایجنٹ قرار دینے سمیت مختلف الزامات اور منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا، تاہم یہ تمام حربے ان کے عزم اور سیاسی وابستگی کو کمزور نہ کرسکے۔
اصولوں پر قائم رہنے والی سیاست
لالا لعل بخش رند بائیں بازو کی سیاست کے ایک مخلص، باعمل اور بااثر رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی میں اقتدار یا ذاتی مفاد کے بجائے اصولوں، نظریات اور عوامی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔
’’لینن گرانڈ‘‘ — ایک گھر جو فکری درسگاہ بن گیا
کراچی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ابتدائی دفاتر کے قیام میں بھی لالا لعل بخش رند نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ دفاتر بعد میں نوجوانوں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں کی فکری تربیت کے مراکز ثابت ہوئے۔
کامریڈ ساتھیوں اور طالب علموں نے ان کے وسیع مطالعے، انقلابی فکر اور نظریاتی استقامت کے باعث ان کے گھر کو ’’لینن گرانڈ‘‘ کا لقب دیا تھا۔
لالا رند کا گھر محض ایک رہائش گاہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری درسگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں باقاعدگی سے اسٹڈی سرکلز منعقد ہوتے، جن میں نوجوانوں کو تاریخ، سیاست، فلسفہ اور انقلابی ادب سے روشناس کرایا جاتا۔
وہ طلبہ کو کتابیں فراہم کرتے، ان میں مطالعے کی عادت پیدا کرتے اور انہیں تنقیدی سوچ، سماجی شعور اور عوامی خدمت کا درس دیتے تھے۔
ان کی رہنمائی میں بی ایس او نے قومی اور علاقائی مسائل کو سائنسی اور نظریاتی بنیادوں پر سمجھنے اور منظم انداز میں جدوجہد کرنے کی روایت کو فروغ دیا۔
عوامی حقوق اور قومی شناخت کی جدوجہد
لالا لعل بخش رند کی سیاسی جدوجہد صرف نظریاتی سیاست تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ہر اس تحریک کی پہلی صف میں کھڑے نظر آئے جس کا تعلق عوام کے حقوق، شناخت اور وجود سے تھا۔
ان کے نزدیک سیاسی جدوجہد کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق، انسانی وقار اور سماجی انصاف کا تحفظ تھا۔
بلوچی زبان و ادب کے بے لوث خادم
لالا لعل بخش رند صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ علم، ادب اور زبان کے بھی بے لوث خادم تھے۔ ان کا یقین تھا کہ کوئی بھی قوم اپنی زبان، ادب اور تاریخ کے بغیر حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتی۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے بلوچی زبان و ادب کی ترویج کے لیے عملی اقدامات کیے۔ مختلف ادوار میں جب بلوچ ادیبوں اور شاعروں کو جلاوطنی، قید و بند اور سیاسی دباؤ کا سامنا تھا، تب بھی لالا لعل بخش رند نے قلم کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔
بلوچی اکیڈمی کراچی کا قیام
1958ء میں لالا لعل بخش رند نے اکبر بارکزئی، یوسف نسکندی، جمعہ خان بلوچ اور دیگر رفقائے کار کے ساتھ مل کر بلوچی اکیڈمی کراچی کی بنیاد رکھی۔
بلوچی اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے بلوچی زبان کی متعدد اہم کتابیں شائع کی گئیں، جنہوں نے بلوچی ادب اور تعلیم کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل کی۔
لالا رند نے بلوچی زبان و ادب کے عملی فروغ کے لیے بلوچی پبلیکیشن کی بنیاد بھی رکھی۔ اس ادارے کے ذریعے بلوچی ادب کی کئی تاریخی اور یادگار کتابیں شائع ہوئیں، جنہوں نے نئی نسل کو اپنی زبان، تاریخ اور ثقافت سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
زبان، ثقافت اور قومی شناخت سے وابستگی
لالا لعل بخش رند اپنی مادری زبان، بلوچ ثقافت اور قومی شناخت سے بے حد محبت کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قومیں صرف سیاسی جدوجہد کے ذریعے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اپنی زبان، ادب، تاریخ اور فکری ورثے کی حفاظت بھی ان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سیاست کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے فروغ کو بھی اپنی جدوجہد کا لازمی حصہ بنائے رکھا۔ ان کے لیے سیاسی شعور اور ثقافتی شناخت ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔
نئی نسل تک فکری ورثہ منتقل کرنے کا عزم
تعزیتی ریفرنس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ لالا لعل بخش رند جیسے روشن فکر، اصول پسند اور عوام دوست سیاسی و ادبی کرداروں کی جدوجہد کو محض ماضی کی یاد کے طور پر محفوظ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے فکری ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔
مقررین کے مطابق آج کے نوجوانوں کو ان شخصیات کی زندگی، جدوجہد، مطالعے، سیاسی وابستگی اور سماجی خدمت سے روشناس کرانا اس لیے بھی اہم ہے کہ معاشروں کی فکری اور سیاسی تاریخ صرف بڑے واقعات سے نہیں بلکہ ان افراد کی مسلسل جدوجہد سے تشکیل پاتی ہے جو اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔
سولہویں برسی کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ تعزیتی ریفرنس اسی فکری اور سیاسی ورثے کو یاد کرنے اور اسے نئی نسل تک پہنچانے کی ایک کوشش تھا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لالا لعل بخش رند کی جدوجہد، نظریاتی وابستگی اور عوام دوست فکر کو زندہ رکھا جائے گا اور ان کے علمی و ادبی کام کو بھی یاد رکھا جائے گا۔

