گوگل نے پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر کھول دیا،30ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کے ہدف کی حمایت
اسلام آباد،18اگست 2026: گوگل نے منگل کو پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر باضابطہ طور پر کھول دیا، جسے ملک میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کی موجودگی میں اہم توسیع اور پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور آئی ٹی برآمدات میں تیزی لانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران گوگل کے مقامی دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاح سے قبل گوگل کے وائس پریذیڈنٹ برائے گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی، ولسن ایل وائٹ کی قیادت میں کمپنی کے نو رکنی وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
ولسن وائٹ نے پاکستان میں دفتر کے قیام کو ایک ’’بڑا سنگِ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان میں گوگل کی ایک دہائی سے زائد سرمایہ کاری اور سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول گوگل گزشتہ دس برس سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے اور اب مقامی دفتر کا افتتاح ایک اہم مرحلہ ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے پاکستان کو30ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا مرکز بنانے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ہدف گوگل کے مقاصد سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
پاکستان کے ڈیجیٹل وژن سے ہم آہنگی
گوگل کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہنرمندی کے فروغ، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اسٹارٹ اپس اور بہتر انٹرنیٹ رابطے کو ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ کے وسیع تر ایجنڈے کے تحت ترجیح دے رہی ہے۔
30 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا ہدف
حکومت نے سالانہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات کو30ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے دفتر کے افتتاح کو ایک ’’بڑا سنگِ میل‘‘ اور طویل المدتی شراکت داری کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کی نوجوان آبادی اور ٹیکنالوجی، حکومتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیجیٹل معیشت میں تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوگل کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔
گوگل کی معاشی سرگرمیاں اور نئی ترجیحات
ولسن وائٹ نے پاکستان میں گزشتہ دس برس کے دوران گوگل کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے پاکستانی کاروباری اداروں اور گھرانوں کے لیے3.9ٹریلین روپے سے زیادہ کی معاشی سرگرمی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا، جبکہ9لاکھ60ہزار سے زائد ملازمتوں کی معاونت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ابتدا ہے۔ گوگل پاکستان کے30ارب ڈالر کے آئی ٹی برآمدات کے ہدف کی حمایت تین بنیادی شعبوں کے ذریعے کر رہا ہے۔
افرادی قوت اور ڈیجیٹل مہارتوں میں سرمایہ کاری
گوگل ڈیجیٹل مہارتوں اور تربیتی پروگراموں کو وسعت دے رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق2022سے اب تک پاکستان میں تقریباً3لاکھ50ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس دی جا چکی ہیں۔ ان پروگراموں سے فارغ ہونے والے80فیصد سے زائد افراد نے چھ ماہ کے اندر نئی ملازمت حاصل کرنے یا اپنے کاروبار میں ترقی کی اطلاع دی۔
گوگل کے مطابق مختلف پروگراموں کے ذریعے، جن میں اسکولوں اور اساتذہ کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں،10لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو مہارتیں فراہم کرنے میں مدد دی گئی ہے۔ ولسن وائٹ نے پاکستانی طلبہ کے لیے ایک سال کی مفت Google Gemini سبسکرپشنز دینے کا بھی اعلان کیا۔
ہارڈویئر مینوفیکچرنگ اور برآمدات
گوگل مقامی سطح پر کروم بکس کی اسمبلی کی معاونت بھی کر رہا ہے۔ ہری پور میں گوگل کے شراکت دار ٹیک ویلی، الائیڈ اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن(NRTC)سے منسلک پیداواری لائن کی سالانہ تقریباً5لاکھ ڈیوائسز تیار کرنے کی گنجائش کا ہدف ہے۔
اس منصوبے سے مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کو برآمدات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
مقامی کاروباروں کی عالمی سطح پر توسیع
گوگل پاکستانی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیاں وسعت دینے اور عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔
پاکستان، فلپائن اور تھائی لینڈ کے لیے گوگل کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ کمپنی نے پاکستان میں دفتر اس لیے قائم کیا ہے کیونکہ اسے ملک کے ڈیجیٹل مستقبل اور پاکستانی ٹیلنٹ پر گہرا اعتماد ہے۔
گوگل کی مقامی موجودگی سے ڈیجیٹل تبدیلی، نوجوانوں کے لیے طویل المدتی مواقع اور کاروباری اداروں کی معاونت کے شعبوں میں کمپنی کی سرگرمیوں کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں گوگل کی موجودگی کا پس منظر
گوگل نے دسمبر2022میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں باضابطہ رجسٹریشن کرائی تھی۔ مقامی دفتر کا باضابطہ افتتاح تقریباً چار سال بعد ہوا ہے، جس سے قبل کمپنی کی رجسٹریشن مکمل ہونے اور کروم بکس کی مقامی اسمبلی شروع کرنے کے اعلانات سامنے آ چکے تھے۔
مقامی دفتر کے قیام سے گوگل کو ڈیجیٹل خواندگی، آن لائن تحفظ، مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر سمیت پہلے سے جاری منصوبوں کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ ان منصوبوں میں ’’ڈیجیٹل سفر‘‘ (Digital Safar) پروگرام بھی شامل ہے، جس کے ذریعے لاکھوں طلبہ اور اساتذہ کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے کے لیے اہم پیش رفت
گوگل کے پہلے مقامی دفتر کا افتتاح پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد اور سرمایہ کاری کے حصول کے لیے جاری اصلاحات کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ شراکت داری ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ، ہارڈویئر مینوفیکچرنگ، برآمدات پر مبنی ترقی اور ملک کی بڑی نوجوان آبادی کے لیے وسیع تر معاشی مواقع پیدا کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
حکومت نے گوگل کے مقامی دفتر کے قیام کو پاکستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

