چور، اذان اور ایک فقرہ
1956ء کا سال تھا۔ لاہور کی فلمی دنیا نئے نئے خواب بُن رہی تھی کہ ہدایت کار انور کمال پاشا نے پردۂ سیمیں پر ایک ایسی کہانی سجائی جس کا نام رکھا گیا — ’’سرفروش‘‘۔ اس عہد کی سب سے مقبول جوڑی، سنتوش کمار اور صبیحہ خانم، اس کے مرکزی کرداروں میں ڈھلے۔ یہ وہی جوڑی تھی جس نے آگے چل کر سینما کے پردے پر عشق کو حقیقت میں بھی بدل ڈالا، اور جن کی رفاقت47فلموں کی صورت ایک لازوال باب بن گئی۔
مگر اس فلم کو امر کرنے والی نہ کوئی رقص گاہ تھی، نہ کوئی محلاتی سازش — ایک عام سی رات، ایک اجڑا گھر، اور ایک چور کے قدموں کی چاپ نے وہ منظر رقم کیا جو آج ستّر برس بیت جانے کے بعد بھی زبانوں پر زندہ ہے۔
رات کا سناٹا تھا۔ سنتوش کمار، ایک پیشہ ور چور کے روپ میں، صبیحہ خانم کے کردار کے گھر میں دبے پاؤں داخل ہوا تھا۔ گٹھڑی بندھ چکی تھی، ہاتھ مالِ غنیمت پر جم چکے تھے کہ اچانک فضا میں ایک آواز بلند ہوئی — فجر کی اذان۔ اور اسی ایک لمحے نے پوری کہانی کا رخ موڑ دیا۔
چور نے چوری کا سامان ایک کونے میں رکھا، نیت باندھی، اور نماز میں کھڑا ہو گیا — گویا دنیا کی ساری مصلحتیں پسِ پشت ڈال کر، وہ فقط ایک بندہ رہ گیا ہو، رب کے حضور۔ عین اسی گھڑی گھر کی مکین کی آنکھ کھلی۔ اس نے بکھرا سامان بھی دیکھا اور نمازی کو سجدے میں بھی — حیرت کا ایک طوفان تھا جو اس کی آنکھوں میں امڈ آیا۔ سلام پھیرتے ہی اس نے پوچھا:
اور پھر حکیم احمد شجاع کے قلم سے نکلا وہ جملہ بولا گیا، جو محض ایک مکالمہ نہ رہا بلکہ ایک عہد کی تصویر بن گیا:
’’چوری میرا پیشہ ہے، اور نماز فرض ہے۔‘‘
ایک سطر جو محاورہ بن گئی
فن پارے کبھی کبھار اپنے خالق سے بھی بڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی اس مکالمے کے ساتھ ہوا۔ ترقی پسند حلقوں نے اس پر طنز کے تیر برسائے، مگر عوام کے دلوں نے اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ جملہ سینما گھروں کی چار دیواری سے نکل کر بازاروں، محفلوں اور بعد میں کالموں کی زینت بن گیا — ایک ایسا محاورہ جو نسل در نسل سفر کرتا رہا۔
عبادت اور عمل کے بیچ کی دراڑ
مگر اس ایک سطر کے پردے میں ایک گہرا سوال بھی پنہاں ہے — وہ سوال جو صدیوں سے انسانی ضمیر کو کچوکے لگاتا آیا ہے۔ کیا عبادت، اپنی جگہ تنہا کھڑی، کردار کی گواہ بن سکتی ہے؟ یہ چور، سجدے میں تو رب کے حضور جھکا تھا، مگر ہاتھ اب بھی کسی اور کی امانت پر تھے۔ یہی تضاد ہے جسے یہ مکالمہ اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے — وہ رویہ جہاں فرض کی ادائیگی اور دیانت کی پاسداری دو الگ الگ راستوں پر چلتی ہیں، ایک دوسرے سے بے خبر۔
شاید یہی وجہ ہے کہ یہ جملہ آج بھی زندہ ہے۔ ہر بار جب کوئی رشوت خور مصلائے عبادت پر سجدہ ریز نظر آتا ہے، ہر بار جب کوئی ذخیرہ اندوز جمعہ کی صف میں کھڑا دکھائی دیتا ہے، تو یہ ستّر سالہ پرانا مکالمہ خود بخود زبان پر آ جاتا ہے — گویا فن نے کبھی کا وہ آئینہ تراش رکھا تھا جس میں معاشرہ آج بھی اپنا عکس دیکھتا ہے۔
ایک لفظ کی عمر
فلمیں بنتی ہیں، ریلیز ہوتی ہیں، اور وقت کی گرد میں کہیں دفن ہو جاتی ہیں۔ مگر کبھی کبھار کوئی ایک جملہ، کوئی ایک منظر، اس گرد سے بچ نکلتا ہے اور صدیوں کا سفر طے کرنے لگتا ہے۔ ’’سرفروش‘‘ کا یہ مکالمہ اسی زمرے میں آتا ہے — 1956ء کی سیاہ و سفید فلم کا ایک لمحہ، جو2026ء کے رنگین دور میں بھی اتنی ہی شدت سے گونجتا ہے۔
یہی فن کی معراج ہے:کہ وہ اپنے وقت سے آگے نکل جائے، اور صدیوں تک انسان کو اس کے اپنے تضادات کا آئینہ دکھاتا رہے۔
•
احمد نعیم خان

