• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » چور، اذان اور ایک فقرہ
ایشیا

چور، اذان اور ایک فقرہ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 28, 2026Updated:اگست 28, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

چور، اذان اور ایک فقرہ

احمد نعیم خان
تحریر
احمد نعیم خان

1956ء کا سال تھا۔ لاہور کی فلمی دنیا نئے نئے خواب بُن رہی تھی کہ ہدایت کار انور کمال پاشا نے پردۂ سیمیں پر ایک ایسی کہانی سجائی جس کا نام رکھا گیا — ’’سرفروش‘‘۔ اس عہد کی سب سے مقبول جوڑی، سنتوش کمار اور صبیحہ خانم، اس کے مرکزی کرداروں میں ڈھلے۔ یہ وہی جوڑی تھی جس نے آگے چل کر سینما کے پردے پر عشق کو حقیقت میں بھی بدل ڈالا، اور جن کی رفاقت⁦47⁩فلموں کی صورت ایک لازوال باب بن گئی۔

مگر اس فلم کو امر کرنے والی نہ کوئی رقص گاہ تھی، نہ کوئی محلاتی سازش — ایک عام سی رات، ایک اجڑا گھر، اور ایک چور کے قدموں کی چاپ نے وہ منظر رقم کیا جو آج ستّر برس بیت جانے کے بعد بھی زبانوں پر زندہ ہے۔

رات کا سناٹا تھا۔ سنتوش کمار، ایک پیشہ ور چور کے روپ میں، صبیحہ خانم کے کردار کے گھر میں دبے پاؤں داخل ہوا تھا۔ گٹھڑی بندھ چکی تھی، ہاتھ مالِ غنیمت پر جم چکے تھے کہ اچانک فضا میں ایک آواز بلند ہوئی — فجر کی اذان۔ اور اسی ایک لمحے نے پوری کہانی کا رخ موڑ دیا۔

چور نے چوری کا سامان ایک کونے میں رکھا، نیت باندھی، اور نماز میں کھڑا ہو گیا — گویا دنیا کی ساری مصلحتیں پسِ پشت ڈال کر، وہ فقط ایک بندہ رہ گیا ہو، رب کے حضور۔ عین اسی گھڑی گھر کی مکین کی آنکھ کھلی۔ اس نے بکھرا سامان بھی دیکھا اور نمازی کو سجدے میں بھی — حیرت کا ایک طوفان تھا جو اس کی آنکھوں میں امڈ آیا۔ سلام پھیرتے ہی اس نے پوچھا:

’’یہ کیا؟‘‘

اور پھر حکیم احمد شجاع کے قلم سے نکلا وہ جملہ بولا گیا، جو محض ایک مکالمہ نہ رہا بلکہ ایک عہد کی تصویر بن گیا:

’’چوری میرا پیشہ ہے، اور نماز فرض ہے۔‘‘

ایک سطر جو محاورہ بن گئی

فن پارے کبھی کبھار اپنے خالق سے بھی بڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی اس مکالمے کے ساتھ ہوا۔ ترقی پسند حلقوں نے اس پر طنز کے تیر برسائے، مگر عوام کے دلوں نے اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ جملہ سینما گھروں کی چار دیواری سے نکل کر بازاروں، محفلوں اور بعد میں کالموں کی زینت بن گیا — ایک ایسا محاورہ جو نسل در نسل سفر کرتا رہا۔

عبادت اور عمل کے بیچ کی دراڑ

مگر اس ایک سطر کے پردے میں ایک گہرا سوال بھی پنہاں ہے — وہ سوال جو صدیوں سے انسانی ضمیر کو کچوکے لگاتا آیا ہے۔ کیا عبادت، اپنی جگہ تنہا کھڑی، کردار کی گواہ بن سکتی ہے؟ یہ چور، سجدے میں تو رب کے حضور جھکا تھا، مگر ہاتھ اب بھی کسی اور کی امانت پر تھے۔ یہی تضاد ہے جسے یہ مکالمہ اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے — وہ رویہ جہاں فرض کی ادائیگی اور دیانت کی پاسداری دو الگ الگ راستوں پر چلتی ہیں، ایک دوسرے سے بے خبر۔

شاید یہی وجہ ہے کہ یہ جملہ آج بھی زندہ ہے۔ ہر بار جب کوئی رشوت خور مصلائے عبادت پر سجدہ ریز نظر آتا ہے، ہر بار جب کوئی ذخیرہ اندوز جمعہ کی صف میں کھڑا دکھائی دیتا ہے، تو یہ ستّر سالہ پرانا مکالمہ خود بخود زبان پر آ جاتا ہے — گویا فن نے کبھی کا وہ آئینہ تراش رکھا تھا جس میں معاشرہ آج بھی اپنا عکس دیکھتا ہے۔

ایک لفظ کی عمر

فلمیں بنتی ہیں، ریلیز ہوتی ہیں، اور وقت کی گرد میں کہیں دفن ہو جاتی ہیں۔ مگر کبھی کبھار کوئی ایک جملہ، کوئی ایک منظر، اس گرد سے بچ نکلتا ہے اور صدیوں کا سفر طے کرنے لگتا ہے۔ ’’سرفروش‘‘ کا یہ مکالمہ اسی زمرے میں آتا ہے — 1956ء کی سیاہ و سفید فلم کا ایک لمحہ، جو⁦2026⁩ء کے رنگین دور میں بھی اتنی ہی شدت سے گونجتا ہے۔

یہی فن کی معراج ہے⁦:⁩کہ وہ اپنے وقت سے آگے نکل جائے، اور صدیوں تک انسان کو اس کے اپنے تضادات کا آئینہ دکھاتا رہے۔

رائے
•
احمد نعیم خان
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleآتشزدگیاں۔۔ ایم کیو ایم کی اسکرپٹڈ وارداتیں
Next Article گرین شرٹ کس کی میراث؟
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.