"گرین شرٹ کس کی میراث؟” — پاکستان فٹبال میں ڈائسپورا طوفان نے مقامی کھلاڑیوں کے خواب خاک میں ملا دیے!
پاکستان فٹبال کے میدان میں ایک ایسا زلزلہ برپا ہے جس نے سالہاسال گراس روٹ پر پسینہ بہانے والے مقامی کھلاڑیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے!پی ایف ایف کی متنازعہ”ڈائسپورا پالیسی”اب کھلی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے — ایک طرف یورپ سے درآمد شدہ گرین شرٹس، دوسری طرف برسوں کی محنت سے تیار ہونے والے مقامی سپوت، جن کے لیے اب قومی ٹیم کا دروازہ تقریباً بند ہوتا جا رہا ہے۔
پچہتر فیصد یورپی، صرف پچیس فیصد مقامی — کیا یہ پاکستان کی ٹیم ہے؟
اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ معاملہ کتنا سنگین ہو چکا ہے۔ حالیہ غیر ملکی دوروں میں25رکنی اسکواڈ کا75فیصد سے زائد حصہ یورپی نژاد کھلاڑیوں پر مشتمل رہا، جبکہ میدان میں بمشکل دو تین مقامی کھلاڑی ہی نظر آتے ہیں!آسیان کپ کے لیے حتمی25رکنی اسکواڈ میں15کھلاڑی بیرون ملک سے، صرف10مقامی — یعنی وطن کی سرزمین پر پسینہ بہانے والوں کے لیے محض”ایکسٹرا”کا کردار باقی رہ گیا ہے۔
ناروے، انگلینڈ، ڈنمارک — گرین شرٹ اب یورپ کی گلیوں سے آ رہی ہے
اعتزاز حسین(ناروے)، محمد سلیمان، آؤٹس خان، رئیس نبی(انگلینڈ)، عبدالارشاد، ہارون اور یوسف بٹ(ڈنمارک)جیسے نام اب گرین شرٹ کا چہرہ بن چکے ہیں۔ فیڈریشن کا دعویٰ ہے کہ یہ کھلاڑی یورپی فٹنس، ٹیکنیک اور جدید ٹیکٹکس ساتھ لائیں گے، اور نئے انگریز ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو خود اس مہم کی قیادت کرتے ہوئے یورپ میں مزید”پاکستانی خون”تلاش کرنے میں سرگرم ہیں۔
"یہ لوکل فٹبالرز کی موت کے برابر ہے” — سابق قومی کوچ کا دھماکہ خیز انکشاف
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سابق قومی کوچ نے اسپورٹس ڈیسک کو لرزہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا: "یورپی کھلاڑیوں کی شمولیت ہمارے لوکل فٹبالرز کی موت کے مترادف ہے۔”انہوں نے مزید بمباری کرتے ہوئے کہا کہ اکثر یورپی کھلاڑی قومی کیمپ میں شریک ہی نہیں ہوتے، بلکہ سیدھا میچ کے دن وینیو پہنچ کر جرسی پہن لیتے ہیں — نتیجہ؟ ٹیم کمبینیشن تباہ، تیاری ندارد، اور میدان میں پاکستان کو الٹا نقصان!
"شارٹ کٹ”یا مجبوری؟ — پالیسی کے حق و مخالفت میں دو دھڑے آمنے سامنے
حمایتی کیمپ کا مؤقف ہے کہ پاکستان کبھی فیفا ورلڈ کپ کوالیفائی نہیں کر سکا، مقامی ڈھانچہ کمزور ہے، اور یورپی معیار فوری نتائج دے سکتا ہے۔ لیکن ناقدین اسے کھلا”شارٹ کٹ”قرار دیتے ہیں — ان کے بقول اصل مسئلہ، یعنی تربیت، سہولیات اور فنڈنگ کا فقدان، اسی پالیسی کی آڑ میں چھپایا جا رہا ہے، اور طویل مدت میں یہ ملکی فٹبال کی جڑیں مزید کھوکھلی کر دے گی۔
پردے کے پیچھے طاقتور”لابی” — کیا فٹبال ایک منظم دھندہ بن چکا ہے؟
اندرونی ذرائع کا سنسنی خیز دعویٰ ہے کہ یورپی کھلاڑیوں کی شمولیت کسی حادثاتی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک باضابطہ اور منظم منصوبہ ہے، جس کے پیچھے ایک طاقتور لابی کارفرما ہے — جو یورپ بھر میں پاکستانی نژاد کھلاڑی تلاش کر کے فیڈریشن کے حوالے کرتی اور اپنا”دھندہ”چمکاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک کو پی ایف ایف کے کچھ افسران اور کوچز کی خاموش حمایت بھی حاصل ہے!
فیصل صالح حیات سے محسن گیلانی تک — پالیسی کا سفر اور بڑھتی تنقید
یہ سلسلہ جزوی طور پر سابق صدر فیصل صالح حیات کے دور میں شروع ہوا، نارمیلائزیشن کمیٹی کے سربراہ ہارون ملک کے دور میں تیز تر ہوا، اور توقع تھی کہ محسن گیلانی کی صدارت میں مقامی کھلاڑیوں کو ان کا حق ملے گا — مگر ناقدین کے مطابق انہوں نے بھی لوکل فٹبالرز کو مایوس کیا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے:کیا پی ایف ایف ایگزیکٹو کمیٹی کی خاموشی، جسے سابق کوچ نے کھلے الفاظ میں”فٹبال دشمنی”قرار دیا، پاکستانی فٹبال کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہیں؟
آخری وسل
سوال اب بھی وہیں کھڑا ہے:کیا یورپ سے آنے والے یہ”گرین شرٹس”واقعی پاکستانی فٹبال کو ترقی دیں گے، یا مقامی ٹیلنٹ کو دفن کرتے ہوئے صرف عارضی چمک دکھائیں گے؟ فلپائن اور انڈونیشیا جیسی ٹیمیں بھی اسی راستے پر ہیں — مگر پاکستانی فٹبال کے حقیقی سپوتوں کا صبر اب جواب دیتا نظر آ رہا ہے۔

