• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » آوازوں کا خلا
کراس پوسٹ

آوازوں کا خلا

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 30, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
کراس پوسٹ

آوازوں کا خلا

یاسر جواد

تحریر
یاسر جواد

ہم آوازوں میں رہتے ہیں، اور آوازیں ہی ہمیں ہمارے ہونے کا پتا دیتی ہیں۔ اگر آپ کے کان مکمل طور پر بند کر دیے جائیں تو شاید آپ ٹھیک سے بول بھی نہ سکیں، کیونکہ اپنی آواز سنائی نہ دینے پر الفاظ گڑبڑا جائیں گے۔

نیل ڈیگراس ٹائیسن نے ایک پروگرام میں پوچھا تھا: ’’فرض کرو کہ کرۂ ارض پر کوئی کان کا پردہ موجود نہیں جو آواز کی لہروں کو وصول کر سکے، اور ایسے میں جنگل کا ایک درخت گرتا ہے۔ کیا اُس کی آواز کا کوئی وجود ہو گا؟ کیونکہ اُسے وصول کرنے والا کوئی پردہ موجود نہیں!‘‘

البتہ آوازوں کے خلا والا ایک کمرہ چند سال پہلے بنایا گیا۔ انسان کی قوتِ سماعت کو dBA میں ناپا جاتا ہے۔ انسان کو سنائی دے سکنے والی سب سے ہلکی آواز کو 0 dBA کہا جاتا ہے۔ ہلکی سی سرگوشی یا خاموش دیہاتی علاقے کی رات 30 dBA ہوتی ہے اور نارمل گفتگو یا بیک گراؤنڈ موسیقی 60 dBA۔

لیکن اِس کمرے کی چاروں دیواریں اور فرش بھی ہر آواز کو جذب کر لیتے ہیں۔ آواز کی لہریں کان کے پردے تک نہیں پہنچ پاتیں۔ نومبر⁦2021⁩ء میں یہاں dBA کو منفی⁦25⁩تک ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ ناسا نے بھی اپنے خلابازوں کو وہاں بھیجا تاکہ سپیس کی خاموشی میں رہنے کی عادت اپنا سکیں۔

انسان کے لیے یہاں کھڑے رہنا یا قدم اُٹھانا بھی مشکل ہے، کیونکہ ہم آواز کے بغیر سمت کا تعین اور توازن نہیں کر سکتے۔ اگر آدھا گھنٹہ اس کمرے میں گزاریں تو کرسی میں بیٹھ کر ہی ایسا ہو سکتا ہے۔ چار افراد⁦75⁩ڈالر دے کر گروپ کی شکل میں آدھے گھنٹے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔

قطعی خاموشی میں یقیناً آپ موسیقی بجا اور سن سکتے ہیں، لیکن یہ معمول سے بہت مختلف لگے گی۔ مثلاً بازگشت اور bass کو دیواریں جذب کر لیں گی۔ نیز آپ اپنے دل کی دھڑکن، پیٹ کی گڑگڑ، پھیپھڑوں کا پھیلنا اور سکڑنا اور خون کا دماغ کی طرف پمپ ہونا بھی سن سکیں گے۔ ایک شخص نے بتایا کہ اُس نے آنکھ جھپکنے پر اپنی آنکھوں کے پپوٹوں کی آواز بھی سنی۔

آج تک یہاں کوئی بھی شخص ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں گزار پایا۔ اگر آپ اکیلے وہاں جا کر ’’سیلف‘‘ کو کھوجنا چاہتے ہیں تو ایک گھنٹے کے لیے⁦400⁩ڈالر دے کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ ارد گرد کا شور، بازگشت اور آوازیں نہ رہنے پر صرف آپ ہوں گے اور آپ کی ’’ہستی‘‘، جس کو محسوس کرنے کے لیے درویش لٹو بنتے ہیں اور قاتل خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔

آپ کو ’’سیلف‘‘ سے تعارف یقیناً خوف زدہ کر دے گا۔ اندرونی خاموشی اور طمانیت پیدا کرنے کا ڈراما دم توڑ جائے گا۔ ہستی کے دروں خانوں اور مخفی کمروں میں ایسی ہی نحوست ہوتی ہے۔

اس لیے اپنی اندرونی سچائی کی فکر نہ کریں۔ وہاں بس دوپہر کو کھائے ہوئے نان چنے کی گڑگڑ ہے۔

یاسر جواد

یاسر جواد
کالم نگار و مصنف

یہ مضمون معروف لکھاری یاسر جواد کی ویب سائٹ پر شائع شدہ تحریر سے ماخوذ ہے۔


یاسر جواد کی ویب سائٹ پر اصل مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ڈس کلیمر

نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

"`

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleآج یہودی، کل کون؟ امریکا میں امتیازی سلوک کا خطرناک رجحان
Next Article تقسیمِ ہند کے اثرات
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.