• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » اسلامی ریاست کا خواب
مضمون/کالم

اسلامی ریاست کا خواب

احمد نعیم خان
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 31, 2026Updated:اگست 31, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

تبصرہ کتاب

اسلامی ریاست کا خواب

احمد نعیم خان

تحریر
احمد نعیم خان

طارق فتح کی کتاب کا مرکزی استدلال دیباچے ہی میں سامنے آ جاتا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ انہوں نے کتاب میں ’’انتہا پسند اسلام پسندوں اور مسلمانوں کا فرق واضح کرنے‘‘ کی کوشش کی ہے۔ فتح کے مطابق یہ دونوں الگ الگ خواہشات اور سیاسی و سماجی تصورات رکھنے والے گروہ ہیں۔

یہی بنیادی تفریق پوری کتاب کے فکری اور نظریاتی ڈھانچے کو تشکیل دیتی ہے۔ مصنف کی کوشش یہ ہے کہ عام مسلمانوں کی مذہبی وابستگی کو سیاسی اسلام پسندی، ریاستی اقتدار اور مذہب کے سیاسی استعمال سے الگ کر کے دیکھا جائے۔

پوری کتاب کا بنیادی سوال یہی ہے:

’’اسلامی ریاست‘‘ یا ’’اسلام کی ریاست‘‘؟

اسلام پسند اور عام مسلمان

مصنف کے مطابق اسلام پسند یا سیاسی اسلامسٹ وہ گروہ ہیں جو ایک باقاعدہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کا قیام چاہتے ہیں، یعنی ایک مذہبی یا تھیوکریٹک حکومت جو ریاستی اقتدار پر مذہب کے نام پر قابض ہو۔

اس کے برعکس مسلمان یا عام مسلمان وہ ہیں جو صرف ’’اسلام کی ریاست‘‘ چاہتے ہیں، یعنی ایک ایسی روحانی کیفیت جس میں معاشرہ اسلامی اقدار، اخلاقی اصولوں اور انسانی ذمہ داریوں سے سرشار ہو، بغیر اس کے کہ سیاسی اقتدار کا حصول بنیادی مقصد بن جائے۔

مصنف کے اپنے الفاظ میں:

’’ایک ریاست میں مذہبی حکومت ہوتی ہے اور دوسری روحانی ریاست ہوتی ہے۔‘‘

یہی فرق پوری کتاب کا نظریاتی ستون ہے۔ عام مسلمانوں کی دینی وابستگی کو سیاسی اسلام پسندی سے الگ کرنا، جسے مصنف بعد کی تاریخ کے مختلف ادوار اور سیاسی تجربات پر لاگو کرتے ہیں۔

خلافت، نسب اور نسلی برتری کی سیاست

کتاب کے وسطی حصے میں مصنف خلافت کی شرائط پر بحث کرتے ہیں، خصوصاً اس روایتی مؤقف پر کہ خلیفہ کا قریشی نسب سے ہونا لازمی ہے۔ وہ اس تصور کو عرب اور غیر عرب مسلمانوں کے مابین صدیوں پرانی نسلی اور قبائلی برتری کی سیاست سے جوڑتے ہیں۔

مصنف کے مطابق اس نظریے نے غیر عرب مسلمانوں پر عربوں کی نسلی اور قبائلی برتری کے تصور کو تقویت دی۔ یہاں طارق فتح کا انداز تاریخی حوالوں سے مزین ہے، جہاں وہ ابن خلدون اور قاضی ابوبکر باقلانی جیسے کلاسیکی مفکرین اور تاریخی روایتوں کو اپنی بحث میں شامل کرتے ہیں۔

ماضی کے طالبان اور الموحدین

’’ماضی کے طالبان‘‘ کے حوالے سے مصنف اسپین میں الموحدین کی حکومت پر گفتگو کرتے ہوئے ایک دلچسپ تاریخی متوازی کھینچتے ہیں۔ ان کے مطابق:

’’موحدین آج کے طالبان کے مماثل تھے۔‘‘

یہ کتاب کی ایک مستقل حکمتِ عملی ہے کہ ماضی کی مذہبی سختی کو معاصر انتہا پسندی کے ساتھ جوڑ کر دکھایا جائے۔ اس فریم ورک کے ذریعے مصنف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیاسی اسلام پسندی کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ تاریخ میں مختلف شکلوں میں بار بار دہرایا جانے والا ایک نمونہ ہے۔

جہاد کا نظریاتی ارتقا

جہاد کے نظریاتی ارتقا پر کتاب میں ایک تفصیلی باب شامل ہے، جس میں مصنف قرآن اور بعد کی حدیثی و فقہی تعبیرات کے درمیان فرق اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ بعد کی فقہی روایت نے جہاد کو ایک مستقل جنگی نظریے کی شکل دی۔

مصنف بخاری کی روایتوں اور تاریخی مذہبی تعبیرات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ جہاد کے عسکری مفہوم کی تشکیل میں بعد کی تفسیری اور فقہی روایت نے نمایاں کردار ادا کیا۔

مصنف کے فکری مقدمے کے مطابق یہاں بھی سیاسی اسلام پسندی کی تعبیر نے عام مسلمانوں کی روحانی اور اخلاقی مذہبی سمجھ پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

تحریکِ پاکستان اور مذہبی رنگ

تحریکِ پاکستان کے مذہبی رنگ پر بحث کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ⁦1940⁩ء کے بعد جب سیکولر آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت کو سیاسی پیش رفت میں مشکلات کا سامنا ہوا تو ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ جیسے مذہبی نعروں کو زیادہ نمایاں کیا گیا، جس کے نتیجے میں تحریک میں مذہبی عناصر بھی شامل ہوتے گئے۔

مصنف اس عمل کو تقسیم کے المیے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک اور تاریخی مثال ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کو کس طرح استعمال کیا گیا۔

اصلاح کی دعوت

کتاب کے آخری حصوں میں مصنف سیکولر اور اصلاح پسند مسلمانوں کے لیے اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ وہ شکوہ کرتے ہیں کہ ایسی آوازوں کو اکثر ’’اسلام کے دشمن‘‘ قرار دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ کتاب کا جذباتی اور ذاتی نقطۂ عروج بھی ہے، جہاں مصنف کا مقصد ایک مرتبہ پھر پوری وضاحت سے سامنے آتا ہے⁦:⁩عام مسلمانوں کی روحانی اور مذہبی وابستگی کو سیاسی اسلام پسندی کے ہاتھوں یرغمال بننے سے بچانا۔

کتاب کا مرکزی فریم ورک

اسلام پسند بمقابلہ مسلمان

اسلامی ریاست بمقابلہ اسلام کی ریاست

کتاب کی پوری ساخت اسی بنیادی تفریق پر کھڑی ہے۔ ہر باب، چاہے خلافت راشدہ کا ذکر ہو، اندلس کی تاریخ ہو، جہاد کا نظریہ ہو یا تحریکِ پاکستان کا سیاسی سفر، مصنف اسے اسی نظریاتی فریم ورک کے ذریعے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔

کتاب کی طاقت اور کمزوری

کتاب کی سب سے بڑی طاقت اس کی جرأت، وسیع تاریخی حوالوں اور ایک واضح مرکزی مقدمے میں پوشیدہ ہے۔ طارق فتح کسی مبہم یا غیر واضح موقف کے ساتھ گفتگو نہیں کرتے بلکہ وہ ایک متعین فکری مؤقف رکھتے ہیں اور اسے تاریخ، مذہب اور سیاست کے مختلف ابواب کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم، کتاب کی کمزوری یہ ہے کہ مصنف بعض مقامات پر انتخابی شواہد پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور مخالف تاریخی یا مذہبی تعبیرات کو نسبتاً کم جگہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کو مکمل طور پر غیر جانبدار تاریخی تحقیق کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک مدلل، پرجوش اور واضح نظریاتی مؤقف کے طور پر پڑھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

طارق فتح کی کتاب کا اصل معرکہ مذہب اور بے مذہبی کے درمیان نہیں،

بلکہ مذہب کی روحانی وابستگی اور مذہب کے سیاسی استعمال کے درمیان ہے۔

’’اسلامی ریاست کا خواب‘‘ دراصل ایک فکری بحث ہے جس میں تاریخ کو معاصر سیاسی اسلام پسندی کے تناظر میں دوبارہ پڑھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مصنف کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ عام مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو ریاستی اقتدار، مذہبی قوم پرستی اور سیاسی اسلام کے منصوبوں سے الگ کر کے سمجھنا ضروری ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ ریاست کتنی اسلامی ہو،

بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا مذہب کو ریاستی اقتدار کے بغیر بھی معاشرے کی روح بنایا جا سکتا ہے؟

تحریر
احمد نعیم خان

احمد نعیم خان

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleتقسیمِ ہند کے اثرات
Next Article صحافت، راج گیری اور نائن الیون
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.