• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » 9/11: تاریخ نہیں، ایک زندہ یاد
امریکہ

9/11: تاریخ نہیں، ایک زندہ یاد

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 12, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
رائے

9/11 اُس رات ختم نہیں ہوا

25 برس بعد ایک عینی شاہد کی یادیں، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور یہ سوال کہ ہم یاد کیسے رکھتے ہیں

Robert Maginnis

تحریر⁦:⁩رابرٹ میگنس
سابق امریکی فوجی افسر اور قومی سلامتی کے تجزیہ کار
11 ستمبر 2026
پچیس برس پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جس صبح امریکا پر حملہ ہوا، اس کے اثرات میری اپنی زندگی میں کئی دہائیوں تک جاری رہیں گے۔

رابرٹ میگنس لکھتے ہیں: پچیس برس قبل میں آسٹریا میں ایک کانفرنس سے واپس آیا تھا۔ یورپ کے چند دوستوں نے مجھے ایک پریشان کن انتباہ دیا تھا کہ امریکا کو دہشت گردی کے خطرے کا سامنا غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔

ان کی تشویش میرے ذہن میں رہی۔ کئی برس سے میں اسلام پسند دہشت گرد تنظیموں اور ان سے لاحق خطرات، خصوصاً مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے تناظر میں، لکھتا اور عوامی سطح پر گفتگو کرتا آ رہا تھا۔ میں ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکا تھا کہ شاید یہ صرف وقت کی بات ہے کہ امریکا خود کسی بڑے حملے کا نشانہ بن جائے۔

لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ وقت ستمبر کی ایک خوبصورت منگل کی صبح آ پہنچے گا۔

وہ صبح جب امریکا پر حملہ ہوا

11 ستمبر⁦2001⁩کو صبح⁦9⁩بجے میں واشنگٹن ڈی سی میں فیملی ریسرچ کونسل کے میڈیا سینٹر میں پالیسی اسٹاف کا اجلاس کر رہا تھا۔ میں کونسل میں پالیسی کا نائب صدر تھا اور قومی سلامتی و خارجہ امور پر ایک معروف میڈیا آواز بن چکا تھا۔

اجلاس شروع ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اس وقت کے ایف آر سی نائب صدر ڈگ ورک اندر آئے اور ایک چونکا دینے والی خبر سنائی⁦:⁩ایک مسافر طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک ٹاور سے ٹکرا گیا ہے۔

ہم میں سے کسی کو اس خبر کی اصل نوعیت کا اندازہ نہیں تھا۔ چند منٹ بعد مجھے دور کہیں ایک دھماکے کی آواز سنائی دی۔ جلد ہی واشنگٹن سائرنوں کی آواز سے گونجنے لگا۔ پھر خبر آئی کہ پینٹاگون کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکا پر حملہ ہو چکا تھا۔

میں نے اپنا اسٹاف رخصت کیا اور اوپر چلا گیا، جہاں ٹیلی وژن اس سانحے کی اصل وسعت دکھا رہا تھا۔ ہم نے طیاروں کو ٹاورز سے ٹکراتے دیکھا اور چند میل دور پینٹاگون سے اٹھتا دھواں بھی دیکھا۔ واشنگٹن کے دفاتر نے اپنے ملازمین کو گھروں کو جانے کی اجازت دے دی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اغوا کیے گئے چار طیارے ہی پورا حملہ تھے یا کسی اس سے بھی بڑے حملے کی ابتدائی کڑیاں۔ آج ہمیں تاریخ معلوم ہے، مگر اُس صبح ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا۔

ایک ہی دن میں⁦31⁩میڈیا انٹرویوز

میں اپنے دفتر میں موجود رہا۔ چونکہ میں کئی برس سے دہشت گردی پر لکھتا اور بولتا رہا تھا، اس لیے مختلف میڈیا اداروں نے مجھ سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک کے بعد دوسرا انٹرویو ہوتا رہا۔

31
ایک ہی دن میں میڈیا انٹرویوز
3
فاکس نیوز پر رات گئے تک شرکتیں
I-395
عام طور پر مصروف شاہراہ، مگر اُس روز تقریباً خالی

شام تک میں⁦31⁩میڈیا انٹرویوز کر چکا تھا، جن میں فاکس نیوز پر رات گئے تک تین پروگرام بھی شامل تھے۔

رات سے پہلے گھر جانے کے لیے نکلا تو جو منظر دیکھا وہ آج بھی ذہن میں نقش ہے۔ شام ساڑھے پانچ بجے انٹر اسٹیٹ⁦395⁩، جو عام دنوں میں رش سے بھری ہوتی تھی، تقریباً خالی تھی۔ پینٹاگون کے قریب سے گزرتے ہوئے عمارت ابھی تک جل رہی تھی۔

میں نے سارا دن دوسروں کو دہشت گردی سمجھانے میں گزارا تھا، لیکن ٹیلی وژن پر کہے گئے میرے الفاظ بھی شام کے آسمان کے نیچے زخمی پینٹاگون کے منظر کو بیان نہیں کر سکتے تھے۔

میرے لیے⁦9/11⁩اُس رات ختم نہیں ہوا

2002 میں فیملی ریسرچ کونسل میں نو برس گزارنے کے بعد میں دوبارہ پینٹاگون میں محکمۂ فوج کے ساتھ کل وقتی کام پر واپس آیا۔ وہاں میں نے اپنی آنکھوں سے اس تنازع کے ابتدائی برس دیکھے جو بعد میں جہادی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط جنگ میں تبدیل ہو گیا۔

بعد کے کام نے مجھے جنگی علاقوں تک پہنچایا اور اس ستمبر کی صبح سے پیدا ہونے والے قومی سلامتی کے متعدد نتائج کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔

9/11 کی جسمانی یادگاریں بھی ہمیشہ قریب رہیں۔ میں نے پینٹاگون میموریل چیپل کا دورہ کیا، جو اس مقام پر تعمیر کیا گیا جہاں امریکن ایئرلائنز کی پرواز⁦77⁩عمارت سے ٹکرائی تھی۔ میں اکثر پینٹاگون میموریل کے احاطے میں بھی جاتا رہا، جہاں اس صبح پینٹاگون اور پرواز⁦77⁩میں ہلاک ہونے والے⁦184⁩افراد کی یاد محفوظ ہے۔

میں نے پنسلوانیا کے شینکس وِل کے قریب فلائٹ⁦93⁩کے جائے حادثہ کا بھی دورہ کیا اور وہاں گفتگو کی، جہاں طیارے کے مسافروں اور عملے نے ہائی جیکروں کے خلاف مزاحمت کی اور طیارہ اپنے ممکنہ ہدف تک پہنچنے کے بجائے ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا۔

میں دو مرتبہ گوانتانامو بے بھی گیا، جہاں القاعدہ کے خلاف امریکا کی جدوجہد کے قانونی اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔⁦9/11⁩سے متعلق فوجی کمیشن کی کارروائیاں ایک چوتھائی صدی بعد بھی جاری ہیں۔

ممدانی اور⁦9/11⁩کی یادگاری تقریب کا تنازع

اسی تاریخ اور تجربے کے پس منظر میں نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی⁦9/11⁩کی⁦25⁩ویں برسی کی تقریبات میں شرکت سے متعلق حالیہ تنازع کو بھی احتیاط اور توازن کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

ممدانی کے سٹی ہال میں چیف کونسل رمزی قاسم ہیں، جو سٹی ہال میں شامل ہونے سے پہلے⁦9/11⁩کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران زیر حراست افراد کی قانونی نمائندگی کرتے رہے، جن میں احمد الدربی بھی شامل تھا۔

الدر بی نے⁦2014⁩میں فرانسیسی آئل ٹینکر لیمبرگ پر القاعدہ کے حملے سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات میں جرم قبول کیا تھا۔ وہ فلائٹ⁦77⁩کے ایک ہائی جیکر خالد المہدار کا بہنوئی بھی تھا۔

توازن ضروری ہے
کسی ملزم کی قانونی نمائندگی کرنا — حتیٰ کہ ایسا ملزم جو دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ ہو — اس کے نظریے یا جرائم کی حمایت کے مترادف نہیں ہوتا۔

قاسم کے مطابق⁦11⁩ستمبر⁦2001⁩کو وہ نیویارک میں قانون کا طالب علم تھا۔ اس نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں موجود دوستوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی، خون عطیہ کیا اور ریڈ کراس کے ساتھ رضاکارانہ طور پر ان لوگوں کی مدد کی جو اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔

دوسری جانب ممدانی نے⁦11⁩ستمبر کو نیویارک سٹی میں سرکاری طور پر ’’یومِ یاد اور خدمت‘‘ قرار دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے شہر کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی مضبوط بنانے اور⁦11⁩ستمبر کو ہلاک ہونے والوں اور بعد میں حملوں سے متعلق بیماریوں کے باعث جان گنوانے والوں کی یاد میں شہر گیر خاموشی اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

اصل سوال⁦:⁩یاد رکھنے کا مطلب کیا ہے؟

یہ تمام حقائق ریکارڈ کا حصہ ہونے چاہییں۔ لیکن⁦9/11⁩کی⁦25⁩ویں برسی ایک زیادہ گہرا سوال بھی سامنے لاتی ہے: ہم یاد کیسے رکھتے ہیں؟

جن لوگوں نے⁦11⁩ستمبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ان کے لیے یاد ایک مجرد تصور نہیں۔

مجھے یورپ سے ملنے والی وارننگ یاد ہے۔
مجھے ڈگ ورک کا ہمارے اجلاس میں داخل ہونا یاد ہے۔
مجھے دور کی دھماکے کی آواز اور سائرن یاد ہیں۔
مجھے یہ خوف یاد ہے کہ شاید مزید حملے ہونے والے ہیں۔
مجھے واشنگٹن کے خالی ہوتے ہوئے دفاتر اور⁦31⁩انٹرویوز یاد ہیں۔
مجھے تقریباً خالی⁦I-395⁩یاد ہے۔
اور مجھے جلتا ہوا پینٹاگون یاد ہے۔

پھر وہ برس آئے جو اس کے بعد گزرے — پینٹاگون چیپل، یادگاریں، شینکس وِل، گوانتانامو، جنگی علاقے، جان دینے والے امریکی، زخمی فوجی اور دہشت گردی کے خلاف وہ جنگ جو اس ستمبر کی صبح کسی کے اندازے سے کہیں زیادہ طویل ثابت ہوئی۔

یادگار تقریب سے زیادہ اہم وہ لوگ ہیں جنہیں یاد کیا جا رہا ہے

کسی یادگاری تقریب میں کون شریک ہوتا ہے، اس پر ہونے والی بحث کو کبھی بھی ان لوگوں پر غالب نہیں آنا چاہیے جن کی یاد میں تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔

11 ستمبر سب سے پہلے ان تقریباً⁦3⁩ہزار بے گناہ انسانوں کا ہے جنہیں قتل کیا گیا؛ ان کے خاندانوں کا ہے؛ ان ابتدائی امدادی کارکنوں کا ہے جو خطرے کی طرف دوڑے؛ اور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے بعد میں اس ملک کے دفاع میں قربانیاں دیں۔

عوامی عہدہ رکھنے والے افراد پر یادگاری مقامات میں داخل ہوتے وقت ایک خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ایسے مقامات پر قدم رکھتے ہیں جو قربانی اور غم سے مقدس ہو چکے ہیں۔ ان کی سیاست کچھ بھی ہو، انہیں وہاں عاجزی اور احترام کے ساتھ جانا چاہیے۔

پچیس برس گزر چکے ہیں۔
کچھ امریکیوں کے لیے⁦9/11⁩اب تاریخ بن چکا ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ اب بھی ایک یاد ہے۔
اور تاریخ اور یاد میں فرق ہوتا ہے۔
Robert Maginnis

رابرٹ میگنس
رابرٹ میگنس امریکی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل، فیملی ریسرچ کونسل میں نیشنل سکیورٹی کے سینئر فیلو اور⁦15⁩کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی تازہ کتاب The Final Algorithm جولائی⁦2026⁩میں شائع ہوئی۔
ماخذ: The Washington Stand
NY Urdu — نیو یارک اردو
11 ستمبر 9/11 9/11 کی 25ویں برسی 9/11 میموریل القاعدہ امریکا امریکی فوج پینٹاگون دہشت گردی دہشت گردی کے خلاف جنگ رابرٹ میگنس زہران ممدانی شینکس وِل فلائٹ 93 قومی سلامتی گوانتانامو نیویارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Article9/11 کی⁦25⁩ویں برسی، امریکا سوگوار
Next Article 9/11 کی یاد اور انسانیت
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.