"`
غزہ کے صحافیوں کی فہرست پر نئے سوالات
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی غزہ میں ہلاک ہونے والے صحافیوں سے متعلق نظرثانی شدہ فہرست میں191نام شامل ہیں، جبکہ اسرائیلی میڈیا واچ ڈاگHonestReportingکا دعویٰ ہے کہ ان میں سے102افراد کے دہشت گرد یا عسکری گروہوں سے روابط کے شواہد موجود ہیں۔
نیویارک — غزہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی فہرست ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔ نیویارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، یعنیCPJ، کی جانب سے اپنی فہرست پر کئی ماہ تک نظرثانی کے بعد بھی اس کے طریقۂ کار اور بعض ناموں کی درجہ بندی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
CPJ نے جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور غزہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں کی اپنی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی فہرست کا جامع جائزہ لے گی۔ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کی شناخت کرنا تھا جن کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات موجود ہوں کہ وہ جنگی کارروائیوں میں شریک تھے۔
تنظیم نے بعد ازاں اپنی فہرست میں تبدیلیاں کیں، تاہم اسرائیلی میڈیا واچ ڈاگHonestReportingکی جانب سےCPJکے آڈٹ کے ایک الگ جائزے میں کہا گیا ہے کہ نظرثانی کے باوجود فہرست میں متعدد ایسے افراد شامل ہیں جن کے عسکری یا دہشت گرد تنظیموں سے مبینہ روابط موجود ہیں۔
CPJ کی نظرثانی شدہ فہرست میں191نام
CPJ کے مطابق اس کی نظرثانی کے بعد غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں7اکتوبر2023کے بعد ہلاک ہونے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں سے متعلق اس کی فہرست میں191افراد شامل ہیں۔ تنظیم نے کہا ہے کہ اس نے نئے دستیاب معلومات اور بعض افراد کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابقCPJنے19افراد کو ایسے افراد کے طور پر فہرست سے نکالا جن کے بارے میں جنگی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے، جبکہ مزید تین افراد کو صحافی نہ ہونے کی بنیاد پر ہٹایا گیا۔ تاہم چار ایسے افراد کو دوبارہ فہرست میں شامل کیا گیا جنہیں اس سے قبل نکالا گیا تھا۔
HonestReporting کا53فیصد سے متعلق دعویٰ
اسرائیلی میڈیا واچ ڈاگHonestReportingنےCPJکے آڈٹ کے اپنے138صفحات پر مشتمل جائزے میں دعویٰ کیا ہے کہ نظرثانی شدہ فہرست میں شامل191افراد میں سے102کے دہشت گرد گروہوں سے روابط کے شواہد موجود ہیں۔ اس کے مطابق یہ تعداد فہرست کا تقریباً53فیصد بنتی ہے۔
HonestReporting کا کہنا ہے کہCPJنے کچھ ایسے افراد کو فہرست سے نہیں نکالا جن کے بارے میں تنظیم کے مطابق حماس یا فلسطینی اسلامی جہاد سے وابستگی کے شواہد موجود تھے۔ واچ ڈاگ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض افراد کو صحافی کے بجائے میڈیا کارکن کی درجہ بندی میں منتقل کیا گیا، لیکن فہرست سے خارج نہیں کیا گیا۔
تاہم یہ اعداد و شمار اور شناختیں بنیادی طور پرHonestReportingاور اسرائیلی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور جائزوں پر مبنی ہیں۔ ہر فرد کی حیثیت اور مبینہ وابستگی کا تعین الگ الگ شواہد کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔
صحافی کی تعریف پرCPJکا مؤقف
CPJ کی جانب سے اختیار کیے گئے اصولوں کے مطابق کسی شخص کی کسی تنظیم سے وابستگی یا اس کے خیالات بذاتِ خود اسے صحافی کی تعریف سے خارج نہیں کرتے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ شخص اس کے مقرر کردہ صحافتی معیار پر پورا اترتا ہے اور آیا وہ جنگی کارروائیوں میں براہِ راست شریک تھا یا نہیں۔
HonestReporting نے اس طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہCPJنے اپنے ہی طے کردہ معیار کو تمام افراد پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا۔ واچ ڈاگ کے مطابق بعض ایسے افراد فہرست میں برقرار رہے جن کے بارے میں عسکری تنظیموں سے وابستگی کے دعوے یا دستاویزات پیش کیے گئے تھے۔
حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد سے مبینہ روابط
HonestReporting کے مطابق کم از کم30ایسے نام اب بھیCPJکی فہرست میں موجود ہیں جنہیں متعلقہ مسلح گروہوں کی جانب سے جاری کردہ”شہید”یا دیگر اعلانات میں ان تنظیموں سے وابستہ بتایا گیا۔ واچ ڈاگ نے بعض افراد کے بارے میں فلسطینی اسلامی جہاد اور حماس کی عسکری شاخوں سے تعلق کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
رپورٹ میں مثال کے طور پر اسد شملخ کا نام شامل کیا گیا، جس کے بارے میںHonestReportingکا کہنا ہے کہ فلسطینی اسلامی جہاد نے اسے اپنی غزہ بریگیڈ کی دو بٹالینوں سے وابستہ قرار دیا تھا۔ اسی طرح محمد خیرالدین کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حماس کے زیر انتظام اور امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کا سامنا کرنے والے میڈیا ادارے الاقصیٰ ٹی وی کے لیے کام کرتے تھے۔
HonestReporting نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض افراد کے بارے میں اسرائیلی فوج نے انہیں دہشت گرد قرار دیا، جبکہ کچھ دیگر کے بارے میں خاندان کے بیانات، اوپن سورس معلومات یا دیگر دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے170ناموں کا نیا دعویٰ
اس تنازع میں مزید شدت اس وقت آئی جب اسرائیلی دفاعی افواج،IDF، نے یکم اکتوبر کو ایک الگ ڈوزیئر جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے170افراد جنہیں صحافی یا میڈیا کارکن کے طور پر پیش کیا گیا تھا، دراصل حماس، فلسطینی اسلامی جہاد اور دیگر مسلح تنظیموں کے ارکان تھے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے ان افراد سے متعلق دستاویزات اور دیگر معلومات کی بنیاد پر یہ شناختیں سامنے لائی ہیں۔IDFنےCPJکی فہرست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تنظیم سے اپنی فہرست میں ممکنہ تبدیلیوں کا مطالبہ بھی کیا۔
اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو دیگر ذرائع نے بھی رپورٹ کیا ہے، تاہم ان170افراد میں سے ہر ایک کے بارے میں پیش کیے گئے شواہد کی آزادانہ تصدیق الگ الگ سطح پر ہونا باقی ہے۔
مغربی میڈیا اداروں سے وابستگی کا معاملہ
IDF کی جانب سے جاری کیے گئے مواد میں ایسے افراد کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کسی وقت کام کر چکے تھے۔ ان اداروں میں الجزیرہ، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس،CNNاور بی بی سی سمیت دیگر میڈیا اداروں کے نام زیرِ بحث آئے ہیں۔
ایسے دعووں نے جنگی علاقوں میں مقامی صحافیوں کے استعمال، فری لانس رپورٹرز کی جانچ پڑتال اور مسلح تنظیموں سے مبینہ تعلق رکھنے والے افراد کی میڈیا سرگرمیوں سے متعلق سوالات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
CPJ اورHonestReportingکے مؤقف میں بنیادی اختلاف
CPJ کا مؤقف ہے کہ صحافی کی حیثیت کا تعین اس کے صحافتی کردار اور جنگی سرگرمی میں براہِ راست شمولیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جبکہHonestReportingکا کہنا ہے کہCPJنے بعض مسلح تنظیموں سے وابستہ افراد کے بارے میں اپنے معیار کو مستقل طور پر نافذ نہیں کیا۔
CPJ کی چیف ایگزیکٹو جودی گنزبرگ کے مطابق تنظیم کے فیصلے اس بنیاد پر کیے جاتے ہیں کہ آیا کوئی فرد صحافی کی ان کی متعین کردہ تعریف پر پورا اترتا ہے، نہ کہ محض اس کی وابستگی یا سیاسی خیالات کی بنیاد پر۔
دوسری جانبHonestReportingکا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو فہرست میں شامل رکھنا جو مسلح تنظیموں کے عسکری ڈھانچے کا حصہ رہے ہوں، فہرست کی ساکھ اور طریقۂ کار سے متعلق بنیادی سوالات پیدا کرتا ہے۔
غزہ جنگ میں صحافت اور معلومات کی جنگ
غزہ جنگ کے دوران صحافیوں کی ہلاکتیں بین الاقوامی سطح پر ایک اہم موضوع رہی ہیں۔ صحافتی اداروں اور آزادیٔ صحافت کی تنظیموں نے صحافیوں کی ہلاکتوں، ان کی حفاظت اور جنگی علاقوں میں آزاد رپورٹنگ کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام مسلسل یہ مؤقف پیش کرتے رہے ہیں کہ بعض افراد صحافتی شناخت استعمال کرتے ہوئے مسلح تنظیموں کے لیے بھی کام کر رہے تھے۔ حالیہCPJنظرثانی،HonestReportingکے جائزے اورIDFکی نئی فہرست نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ مرکزِ بحث بنا دیا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے ہر میڈیا کارکن کی صحافتی اور عسکری حیثیت کا تعین کس معیار اور کس سطح کے شواہد سے کیا جائے۔
موجودہ تنازع میں مختلف فریقوں کے دعوے اور شواہد ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس لیے فہرست میں شامل ہر فرد کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے دستیاب دستاویزات، تنظیمی ریکارڈ، آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فرد کے عملی کردار کو الگ الگ جانچنا اہم ہوگا۔
سی پی جے کی نظرثانی شدہ فہرست،HonestReportingکے جائزے اورIDFکی جانب سے جاری کیے گئے نئے دعووں نے غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی شناخت اور درجہ بندی کے معاملے پر ایک بار پھر عالمی بحث کو نمایاں کردیا ہے۔ مختلف دعووں کی آزادانہ تصدیق اور ہر کیس کے الگ شواہد اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔

