بورڈ آف پیس کا غزہ کو غیر مسلح کرنے کے عزم کا اعادہ
حماس کے زیر قیادت7اکتوبر2023کے حملے کی تیسری برسی کے موقع پر امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس نے غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنے، انتہا پسندی کے خاتمے اور اسرائیل کے لیے مستقبل میں خطرہ بننے سے روکنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ جنگ کے بعد علاقے کی حکمرانی، سکیورٹی اور تعمیر نو کے لیے ایک وسیع تر منصوبے پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
بورڈ نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا، ”تین سال قبل آج ہی کے دن،7اکتوبر2023کو حماس کے دہشت گردوں نے اسرائیل پر حملہ کیا اور انتہائی سفاکانہ قتل عام کیا۔ تقریباً1,200افراد اپنے گھروں، ایک موسیقی کے میلے اور اپنی آبادیوں میں قتل کیے گئے، جبکہ251افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔“
اس برسی کے موقع پر اسرائیل بھر میں یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں، جن میں ان آبادیوں کو بھی یاد کیا گیا جو حملے سے تباہ کن طور پر متاثر ہوئی تھیں، جبکہ نووا میوزک فیسٹیول کے مقام پر بھی تقریبات ہوئیں جہاں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بدھ کا دن7اکتوبر کی پہلی ایسی برسی تھی جب تمام یرغمالیوں، زندہ اور وفات پا جانے والوں، کو غزہ سے واپس لایا جا چکا تھا۔
بورڈ نے کہا کہ آخری یرغمالیوں کی واپسی گزشتہ ایک سال کے دوران ممکن ہوئی، حالانکہ بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا اور اپنے منصوبے میں ہر یرغمالی کی واپسی کو اولین مطالبہ بنایا۔
”صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے برعکس کہا، اپنے منصوبے میں ہر یرغمالی کی واپسی کو پہلی ترجیح بنایا اور اسرائیل کے عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کیا۔“
غزہ میں باقی رہ جانے والے آخری یرغمالی اسرائیلی پولیس افسر ران گویلی تھے، جو7اکتوبر کو حماس کے مسلح افراد سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے اور جن کی لاش غزہ لے جائی گئی تھی۔ ان کی باقیات جنوری2026میں تلاش کرکے اسرائیل واپس لائی گئیں، جس کے ساتھ حملے کے دوران اغوا کیے گئے تمام251افراد کی واپسی کا عمل مکمل ہوا۔
غزہ کا مستقبل غیر مسلح کرنے سے جڑا ہے
یہ برسی ایسے وقت میں منائی گئی ہے جب بورڈ آف پیس غزہ کے سیاسی اور سکیورٹی ماحول کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے وسیع تر منصوبے پر پیش رفت کر رہا ہے۔
جولائی میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ بورڈ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو ”مکمل طور پر غیر مسلح“ کرنے کے معاہدے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے اسے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا کہ اس علاقے کو دوبارہ اسرائیل پر حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔
اس فریم ورک کے تحت غزہ کو فلسطینی شہری انتظامیہ کی طرف منتقل کیا جانا ہے، جبکہ حماس، فلسطینی اسلامی جہاد اور دیگر مسلح دھڑوں کو علاقے کی حکمرانی سے باہر رکھا جائے گا۔ توقع ہے کہ غیر مسلح کرنے کے عمل کی تصدیق کے ساتھ اسرائیلی افواج مرحلہ وار انخلا کریں گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس اور جانچ پڑتال کے بعد منتخب فلسطینی پولیس سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا فریم ورک سابقہ تجاویز سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ یہ ان بنیادی وجوہات کو براہ راست حل کرتا ہے جنہیں اسرائیل تنازعے کی جڑ سمجھتا ہے۔
”صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کا مرکز حماس اور اسلامی جہاد کو غیر مسلح کرنا، غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانا اور وہاں فلسطینی معاشرے میں انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔“
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر2025میں قرارداد2803کے ذریعے امریکی حمایت یافتہ جامع منصوبے کی توثیق کی تھی۔ اس قرارداد کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکامی فورس کی اجازت دی گئی، جس کی ذمہ داریوں میں غزہ کو غیر فوجی بنانے، دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو مستقل طور پر ناکارہ بنانا بھی شامل ہے۔
بعد ازاں بورڈ آف پیس کی جانب سے سلامتی کونسل کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ غزہ کی تعمیر نو غیر فوجی بنانے کے قابلِ تصدیق اقدامات سے براہ راست منسلک ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہریوں کی سلامتی، بین الاقوامی عطیہ دہندگان کے اعتماد اور پائیدار سیاسی تصفیے کے لیے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔
”سات اکتوبر جیسا واقعہ دوبارہ کبھی نہیں ہوگا“
بورڈ نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن کا طریقۂ کار ”بیانات یا نعروں کے بجائے عملی اور حقیقت پسندانہ حل“ پر مبنی ہے، تاہم اس نے جنگ کے دوران اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کو پہنچنے والے جانی نقصان اور انسانی مصائب کو بھی تسلیم کیا۔
بورڈ نے کہا کہ وہ حماس کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں اور ان کی جانب سے برداشت کیے گئے گہرے مصائب پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔
”اسرائیل کے لیے حقیقی اور پائیدار سلامتی ہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی امن کی تعمیر ہونی چاہیے، اور یہی اس بات کی سب سے مضبوط ضمانت ہے کہ سات اکتوبر جیسا واقعہ دوبارہ کبھی پیش نہیں آئے گا۔“
بورڈ نے مزید کہا، ”اس پُرغم دن ہم اپنے اس عزم کی تجدید کرتے ہیں، ان لوگوں کی یاد میں جنہیں ہم نے کھو دیا، اور ان تمام افراد کی خاطر جو سلامتی اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق دار ہیں۔“
حماس کے مسلح افراد کی جانب سے اسرائیل کی جنوبی سرحد عبور کرنے، گھروں اور آبادیوں میں خاندانوں کو قتل کرنے، نووا میوزک فیسٹیول پر حملہ کرنے اور یرغمالیوں کو غزہ لے جانے کے تین سال بعد ابھرنے والا بین الاقوامی فریم ورک اس کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ غزہ کو محض ان حالات کی طرف واپس نہ لے جائے جو7اکتوبر سے پہلے موجود تھے۔
اس منصوبے کا بنیادی امتحان یہ ہوگا کہ آیا حماس اور دیگر مسلح تنظیموں کو مستقل طور پر غیر مسلح کیا جا سکتا ہے اور انہیں اس فوجی بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر سے روکا جا سکتا ہے جس نے اسرائیل کی تاریخ میں ایک ہی دن میں ہونے والے سب سے مہلک حملے کو ممکن بنایا تھا۔

