فلائی دبئی کے معاون پائلٹ کا بن گوریون ایئرپورٹ سے طیارہ ٹکرانے کا منصوبہ تھا
تحقیقات کے مطابق مبینہ حملہ آور کپتان کو ہلاک کرکے بوئنگ737میکس کو عمارت یا طیارے سے ٹکرانا چاہتا تھا
دبئی: متحدہ عرب امارات میں فلائی دبئی کی پرواز1073پر مبینہ حملے کی کوشش کے الزام میں زیرِ حراست معاون پائلٹ حمام الحَمّامی نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ طیارے کو اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر کسی عمارت یا دوسرے طیارے سے ٹکرانے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔
تحقیقات سے واقف ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق الحمامی نے مبینہ طور پر بتایا کہ وہ ’’کپتان سے نمٹنے‘‘ کے بعد پرواز کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس کا مقصد ضروری لینڈنگ کلیئرنس حاصل کرنا اور پھر آخری لمحے میں بوئنگ737میکس کو جان بوجھ کر تباہ کرنا تھا تاکہ اس کے منصوبے کا بروقت پتا نہ چل سکے اور کسی مداخلت کا موقع نہ ملے۔
تحقیقاتی اطلاعات کے مطابق مبینہ منصوبہ یہ تھا کہ طیارے کو معمول کے مطابق بن گوریون ایئرپورٹ تک پہنچایا جائے اور آخری لمحے میں اسے کسی عمارت یا دوسرے طیارے سے ٹکرا دیا جائے۔
کاک پٹ کی ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ
30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز جب اردن کی فضائی حدود میں تھی تو عمانی شہری الحمامی نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے بھارتی کپتان سمت مچھر پر حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں طیارہ اچانک ہزاروں فٹ نیچے جا گرا۔
تاہم مسافروں اور دورانِ پرواز موجود آف ڈیوٹی پائلٹس نے الحمامی کو قابو کرلیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ واقعے میں تمام مسافر محفوظ رہے۔
کئی ماہ سے حملے کی منصوبہ بندی کا الزام
اسرائیلی میڈیا نے اماراتی تحقیقات سے سامنے آنے والی تفصیلات کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ الحمامی مبینہ طور پر کئی ماہ سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس نے فلائی دبئی کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ یہ ایئرلائن تل ابیب کے لیے پروازیں چلاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق الحمامی نے جولائی میں بھی اسی نوعیت کا حملہ کرنے پر غور کیا تھا، تاہم اس نے مبینہ طور پر منصوبہ اس لیے منسوخ کردیا کیونکہ وہ اس پرواز کے عملے کے ایک رکن کو جانتا تھا۔
متحدہ عرب امارات کا مؤقف
متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ اسرائیلی حکام کو بھی تحقیقات سے متعلق تازہ معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مبینہ ’’لون وولف‘‘ حملہ
تحقیقات کے مطابق الحمامی نے بظاہر اکیلے یہ کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ اسے ایک انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے ’’لون وولف‘‘ حملہ آور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
واقعے میں طیارے کو ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے اور بن گوریون ایئرپورٹ پر تباہ کن حملہ کرنے کا منصوبہ سامنے آنے کے باوجود مسافروں اور آف ڈیوٹی پائلٹس کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ ناکام ہوگیا اور طیارے میں سوار تمام افراد محفوظ رہے۔
تحقیقات جاری
اماراتی حکام کی جانب سے واقعے کو دہشت گردی قرار دیے جانے کے بعد تحقیقات کا دائرہ حملے کے مبینہ محرکات، منصوبہ بندی اور ممکنہ روابط تک پھیلایا جا رہا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام کو بھی تحقیقات سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

