ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی بیگم شیریں امیر بیگم سے میرا انٹرویو

یہ دسمبر کی ایک اداس اور سرد شام تھی جب میں تین تلوار، کلفٹن میں متوسط یا بالائی متوسط طبقے کی ایک کثیرالمنزلہ رہائشی عمارت کے ایک فلیٹ کے دروازے پر پہنچ کر اس کی گھنٹی بجائی تھی۔
”مجھے بیگم صاحبہ سے ملنا ہے۔ میں نیوز لائن رسالے سے آیا ہوں۔ انہیں پتا ہے کہ مجھے کس نے بھیجا ہے۔“
میں نے دروازہ کھولنے والے صاحب سے کہا۔
”جی، جی۔ بیگم صاحبہ آپ ہی کا انتظار کر رہی ہیں۔“
انہوں نے بتایا اور پھر مجھے اندر لاتے ہوئے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا۔
میں نے ڈرائنگ روم پر نظر دوڑائی۔ یہ ایک سادہ سا ڈرائنگ روم تھا۔ مناسب سا صوفہ سیٹ، دو چار کرسیاں، میز، صوفے کے ایک کونے پر تہہ شدہ جائے نماز بھی پڑی ہوئی تھی۔ جس چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچی، وہ میرے سامنے والی دیوار پر لگا ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر والا وال کلاک تھا۔
”وقت کہے میں بادشاہ“
مجھے بچپن میں پرائمری کی سندھی کی درسی کتاب میں پڑھی ہوئی ایک نظم یاد آئی۔
یہ فلیٹ ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی بیوی، شیریں امیر بیگم، کی بیٹی اور داماد کا تھا۔
سال انیس سو پینسٹھ میں قاہرہ جانے والی پی آئی اے کی افتتاحی پرواز، سات سو پانچ والا طیارہ، حادثے کا شکار ہوا تھا، جس کے سب مسافر ہلاک ہو گئے تھے، سوائے ایک ایئر ہوسٹس سمیت چھ لوگوں کے۔ اس طیارے پر صحافی بھی سوار تھے۔
اس فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک صحافی کی بیٹی کو اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایڈاپٹ کیا تھا۔ اسی لڑکی کو بے اولاد شیریں امیر بیگم نے اپنے پاس رکھ کر ماں بن کر پالا تھا۔
اب میں اسی لڑکی کے فلیٹ پر شیریں امیر بیگم سے انٹرویو کر رہا تھا۔ شیریں امیر بیگم جب بھی کراچی آتیں، اپنی اس بیٹی کے پاس ہی قیام کرتیں۔ وہ کبھی70کلفٹن یا بلاول ہاؤس نہیں گئیں۔
میں یہاں ذوالفقار علی بھٹو پر ایک جامع پروفائل لکھنے کے لیے اپنی تحقیق کے سلسلے میں شیریں امیر بیگم کا انٹرویو کرنے پہنچا تھا۔ میں ان سے انٹرویو کرنے والا دوسرا اور شاید آخری صحافی تھا۔
”تم سے قبل بیگم صاحبہ سے انٹرویو کرنے والا صحافی صادق جعفری ہے۔“
مجھے بیگم صاحبہ تک رسائی رکھنے والے میرے دوست نے بتایا، جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی ان بڑی بیگم کو مجھے انٹرویو دینے پر راضی کر لیا تھا۔ میرے اس دوست کی بھٹو بیگمات اور خواتین تک رسائی تھی اور آج کل یورپ میں کہیں پاکستان کے سفارت کار کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔
کچھ دیر بعد بیگم صاحبہ بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی ہیں۔ صوفے پر میرے سامنے براجمان ایک باوقار، سادہ سی لیکن کسی سندھی بڑے یا وڈیرے کے گھر کی بڑی خاتون۔ جسم پر ایک شال اوڑھے ہوئے، ہاتھ سونے کی چوڑیوں سے لدے، اداس لیکن پرشکوہ سندھی شمالی یا اترادی، لیکن کہیں کہیں تحکمانہ لہجے میں صاف اور سیدھی بات کرتے ہوئے۔
”کئی عظمتوں کی امین یہ خاتون!“ میں انہیں کہوں گا۔
”ہمارے کسی نوکر کو کسی چوری کے معمولی کیس میں بھی سزا نہیں ہوئی۔“
وہ میرے ایک سوال کے جواب میں ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر والے وال کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے تاسف سے کہہ رہی تھیں۔
انہوں نے کہا:
”لیکن ذوالفقار جیسے آدمی کو قتل کے مقدمے میں پھانسی کی سزا ہوئی۔“
ڈرائنگ روم میں ایک خاموشی، جسے وال کلاک کی ٹک ٹک کسی سنار کی سی ہتھوڑی کی طرح مار رہی تھی۔ شیریں امیر بیگم کے لہجے میں اس پر تفاخر کے بجائے پچھتاوا صاف لگ رہا تھا۔ برخلاف رائج الوقت شہادت کے فلسفے کے، عیسیٰ کی سنت کے۔ ایک عظیم سینس آف لاس۔
وہ ذوالفقار علی بھٹو کو ”ذوالفقار“ کہتی تھیں۔
ذوالفقار علی بھٹو سے جب ان کی شادی ہوئی، شیریں امیر بیگم ان سے چودہ سال بڑی تھیں اور بھٹو صاحب بمبئی میں پڑھتے تھے۔ امیر خاتون بیگم بھٹو خاندان کے سب سے بڑے رئیس احمد خان بھٹو کی بڑی اولاد تھیں۔
”لوگ تو کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو سے شادی میں امیر بیگم جہیز میں تیس ہزار ایکڑ زمین لائی تھیں۔“
”لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ میرے سسر شاہنواز نے ذوالفقار کی مجھ سے شادی زمین کی وجہ سے کروائی تھی۔“
وہ کہہ رہی تھیں۔
ذوالفقار بھٹو اور شیریں امیر بیگم شادی کرنے کے فوری بعد بمبئی چلے گئے، جہاں ذوالفقار علی بھٹو کی ہائی اسکول کی تعلیم جاری رہی۔ تعلیم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا جنون کی حد تک شوق کرکٹ تھا، جہاں مشہور کرکٹ مبصر اور ان کے دوست عمر قریشی بھی ان کے ساتھ اسکول کرکٹ ٹیم میں تھے۔
ان کے ان دنوں کے دوست پیلو مودی لکھتے ہیں کہ نو بیاہتا بھٹو نے بیڈ روم میں کرکٹ کی گیند چھت سے ٹانگی ہوئی تھی اور بلے سے بیٹنگ کی پریکٹس کرتے رہتے تھے۔
میں نے اس بات کا شیریں امیر بیگم سے پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ دن بمبئی میں ان کے ساتھ رہ کر، گھوم پھر کر وہ واپس لاڑکانہ آ گئی تھیں۔
”ذوالفقار پھر چھٹیوں میں آتے رہتے۔ وہ لاڑکانہ اور کراچی بھی ان کے ساتھ رہیں۔“
لیکن جب سے وہ نصرت کو بیاہ کر لے آئے، اس کے بعد میں نے پھر کبھی70کلفٹن نہیں دیکھا،“ انہوں نے کہا۔
نصرت بھٹو، جو شادی سے قبل نصرت اصفہانی کہلاتی تھیں، سے شادی کو ذوالفقار علی بھٹو نے شروع میں خفیہ رکھا تھا۔ وہ الٰہی بخش سومرو کے کافی قریب تھیں۔ بلکہ ان کی بھٹو سے شادی میں الٰہی بخش سومرو کا ہاتھ تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو، نصرت اصفہانی، جو بعد میں بیگم نصرت بھٹو کہلائیں، کو اپنے قریبی دوست ستار مستی خان کی کار میں گھر لے آیا تھا۔
الٰہی بخش سومرو، مستی خان اور کاوسجی فیملی بھٹو کے کراچی میں قریبی دوست تھے۔ پھر جب وہ اقتدار میں آئے تو ان تینوں خاندانوں کو ہی اپنے عتاب کا نشانہ بنایا۔ الٰہی بخش سومرو کو کے ڈی اے سے برطرف کیا، اردشیر کاوسجی کے والد کو جیل میں ڈالا، اور اکبر مستی خان اور یوسف مستی خان کو حیدرآباد سازش کیس میں۔
میں نے شیریں امیر بیگم سے اس کہانی کی بھی تصدیق چاہی کہ کیا پیر پگارو اور بھٹو خاندان کے درمیان بھی اس قدر دوستی تھی کہ جب ان کے، یعنی شیریں امیر بیگم کے والد احمد خان بھٹو کا انتقال ہوا تو پیر پگارو سکندر شاہ ان کی تعزیت پر آئے تھے اور بھٹو خواتین سے بھی تعزیت کرنے ان کے بنگلے کی ڈیوڑھی پر آئے تھے۔
بھٹو خواتین نے اس موقع پر پیر پگارو کو اپنے خاندانی زیورات و جواہرات کی ایک گٹھڑی بنا کر امانتاً دی تھی کہ نہ جانے ذوالفقار کس وقت ان زیورات کو بھی اپنے قبضے میں لے لے۔ نہ جانے کب کون سا خراب وقت آئے۔ جاننے والے کہتے ہیں کہ پیر پگارو نے وہ زیورات پھر کبھی واپس نہیں کیے۔
”جی ہاں، ہمارے خاندان اور پگارو کے درمیان بہت دوستی تھی۔ ان کا آنا جانا تھا۔“
شیریں امیر بیگم نے کہا اور پھر کہا کہ یہ بات درست ہے۔
”وہ بھی ذوالفقار کی سیاست کی وجہ سے پیر پگارو اور ہمارے خاندان کے درمیان تعلقات بگڑ گئے۔“
وہ کہہ رہی تھیں۔
پیر پگارو، بھٹو کہانی کچھ یوں ہے کہ بہرحال ذوالفقار علی بھٹو کو یہ پتا تو پڑ گیا تھا کہ ان کے خاندان کی خواتین نے پیر پگارو کو ڈیوڑھی میں ان کے خاندانی زیورات اور جواہرات کی پوٹلی امانتاً حوالے کی ہے۔
بھٹو اندرونِ خانہ اس بات پر برہم تو تھے کہ پیر پگارو کون ہوتا ہے جو ان کے خاندان کے اندرونی معاملات میں دخل دے، یا خاندان کی خواتین پیر پگارو کو امانتاً اپنا خاندانی سونا اور جواہرات دیں، جو کبھی پیر پگارو نے واپس نہیں کیے۔
بھٹو اور پگارو خاندان کے کچھ پرانے تعلق دار بھی اس کہانی کی تصدیق کرتے ہیں۔
بھٹو کو بہرحال یہ بات، جسے پنجابی میں کہتے ہیں، ”خندق“ رہی، اور جب وہ پاکستان کے صدر بنے تو پہلا فون پیر پگارو کو کیا۔ یعنی کہ اب خبردار رہنا۔
کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ پیر پگارو باقی ساری عمر اپنا فون خود اٹھاتے تھے۔
بھٹو جو اپنے حلقۂ انتخاب میں ”کچا حُر“ اور ”پکا حُر“ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ یعنی کہ کچا حُر پیر پگارو کا وہ حُر جو ”ووٹ بھٹو کو دے“، اور اپنے جیالوں کو بھی بھٹو ”پکا حُر“ کہتے۔
پیر پگارو کا یہ دعویٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو کو اسکندر مرزا کی کابینہ میں انہوں نے وزیر چنوایا۔ پھر وہ فوٹو بھی عام ہوا، جس میں بھٹو پیر پگارو کے آگے جھک کر ان کے قدم چھو رہے ہیں۔
اس کے باوجود جب بھٹو اقتدار میں آیا تو اس نے، سندھی میں کہتے ہیں، پیر پگارو اور ان کے حروں سے ”کر گذاری“ کی۔ یہاں تک کہ پیر پگارو کے چھ حروں کے قتل کے علاوہ پی این اے، یا نو ستارہ تحریک، کے دوران پیر پگارو کو ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل، راولپنڈی میں نظربند بھی کیا گیا، جہاں پھر بھٹو ان سے ملنے بھی آئے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ پھر ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی ازدواجی زندگی کیسی گزری؟
”وہ ہر عید یا چھٹیوں میں آتے اور میرے پاس ہی رہتے۔ میں ان کو منع تھوڑی کر سکتی تھی۔ یہ ان کا اپنا گھر تھا۔ لیکن میں پھر کبھی70کلفٹن یا المرتضیٰ نہیں گئی، جب سے وہ اس کو بیاہ کر لائے۔“
میں نے پوچھا، ”کس کو؟“
”نصرت کو اور کس کو؟“ انہوں نے کہا۔
پھر کہا:
”لیکن بچے، بینظیر، مرتضیٰ، صنم اور شاہنواز، چھٹیوں میں نوڈیرو آتے تو میرے پاس ہی رہتے۔ خاص طور پر مرتضیٰ اور بینظیر۔ گھوڑ سواری کرتے۔ ان کے گھوڑے میری زمینوں پر ہوتے۔“
”کیا ممتاز بھٹو بھی آپ کا رشتہ دار ہے؟“
”ممتاز ذوالفقار کا دور کا رشتہ دار ہے۔“
انہوں نے مجھے بتایا:
”ذوالفقار نے میری بیٹی کو کبھی بیٹی نہیں کہا، بلکہ وہ چڑتا تھا جب وہ اسے ڈیڈی کہتی تھی۔“
اس لڑکی کا نام لبنیٰ ہے اور انہوں نے ایک بڑا عرصہ اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب میں گزارا۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ لبنیٰ کو بھی ذوالفقار علی بھٹو یا شیریں امیر بیگم کی بیٹی کی حیثیت سے بھٹو اسٹیٹ کی جاگیروں اور دوسرے اثاثوں، جن میں کہتے ہیں سوئس بینکوں اور امریکی بینکوں میں رکھے سونے اور روپوں میں سے بھی حصہ دیا گیا یا کہ نہیں۔
یہی تو اصل سگے بھٹو بہن بھائیوں کے درمیان جھگڑا تھا۔
یہ بینظیر بھٹو حکومت کا دوسرا دور تھا۔ میں نے ان سے بینظیر کے ان کی طرف رویوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:
”لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بینظیر میری فلور مل بھی لے گئیں۔ زمینیں بھی لے گئی۔“
پھر میں نے ان سے ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی آخری ملاقات کا پوچھا۔
بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بھٹو سے ان کی اہلیہ کی حیثیت سے جیل میں آخری ملاقات کے لیے ضیا الحق کی آمرانہ فوجی حکومت نے انہیں سرکاری خرچ پر راولپنڈی بلایا تھا۔
اس ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا:
”کم از کم ضیا الحق نے تو ذوالفقار کی پہلی اہلیہ کی حیثیت مانتے ہوئے مجھے آخری ملاقات کے لیے راولپنڈی سرکاری خرچ پر بلایا اور ہوٹل میں رہائش بھی دی۔“
میں نے ان کی ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:
”بہت سی باتیں ہوئیں۔ خاندان کے بارے میں۔ بچوں کی شادیاں اور معاملات۔“
تو میں نے پوچھا، ”ذرا ایسی تفصیلات جو آپ بتا سکتی ہوں؟“
تو انہوں نے کہا، ”نہیں، یہ خاندانی معاملات ہیں۔“
”کیا بینظیر کی شادی کے متعلق بھی کوئی بات ہوئی؟“
تو انہوں نے کہا، ”ضرور۔“
پھر میرے ایک سوال، ”ذوالفقار علی بھٹو اگر آج ہوتے تو اس پر…“ پر پھر کہنے لگیں:
”بینظیر کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے کے ساتھ!!وہم و گمان میں نہیں آتا۔“
ابھی ان سے بہت سارے سوالات پوچھنا باقی تھے، لیکن۔۔۔۔۔۔۔
اسی اثنا میں شیریں امیر بیگم کے داماد کمرے میں داخل ہوئے اور ٹیبل پر رکھا ہوا میرا ریکارڈر آف کر دیا، یہ کہہ کر:

